حالات کے آئینے میں ۔ 5

حالات کے آئینے میں ۔ 5

حالات کے آئینے میں ۔ 5

پروگرام "حالات کے آئینے" میں کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ترکی کا شام کے علاقے عفرین سے دہشت گردوں کی صفائی کے لئے شروع کردہ آپریشن دو ہفتوں کو مکمل کر چکا ہے۔ کامیابی سے جاری اس آپریشن کے ساتھ اضافی طور پر ترک مسلح افواج ادلب کے فائر بندی کے علاقے کی مانیٹرنگ کے لئے  نئے نگرانی پوائنٹ قائم کر رہی ہے۔ محاذ پر ہونے والی پیش رفتیں شام میں امریکہ کے کردار پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔

شاخِ زیتوں آپریشن ایک حاکمانہ  اثرات  پیدا کر کے PKK/YPG  کو دیگر علاقوں میں بھی اہم سطح  پر کمزور کرے گا۔ منبچ، حسکہ، راقہ اور دیر الزور میں دہشتگرد تنظیم کی طرف سے ڈرائے دھمکائے ہوئے عوام نے مزاحمت کرنا شروع کر دی  نتیجتاً منبچ میں عوام  دہشتگرد تنظیم YPG کے خلاف بغاوت کی حالت میں تھی۔  آستانہ مذاکراتی مرحلے کے دائرہ کار میں ترکی کا روس اور ایران کے ساتھ مل کر شام میں مسئلے کے حل کے لئے کوششیں کرنا علاقے میں امریکہ  کی حیثیت کو بتدریج کمزور بنا رہا ہے۔ خاص طور پر ادلب کی طرف منتقلی کے  دوران  ترک مسلح افواج کا اسٹریٹجک اہمیت کے حامل کوہِ  العیس پر پوسٹیں سنبھالنا شام میں ترکی کی مضبوط حیثیت  کو حتمی شکل دے چکا ہے۔ شاخِ زیتون آپریشن ترک مسلح افواج اور شامی مخالفین  کی پیش رفت کے ساتھ جاری ہے۔ عفرین کے علاقے کی جغرافیائی دشواریوں کے باوجود ترک مسلح افواج اور شامی مخالفین   تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ آپریشن میں اہم پہاڑوں کو ایک ایک کر کے دہشت گردوں کے قبضے سے رہا کروا لیا گیا ہے ا ور حقیقت  یہ ہے  کہ آپریشن  نےاپنے آغاز کے دن سے ہی   بڑے پیمانے پر اثرات پیدا کئے۔ اس کی بدولت  دہشت گرد تنظیم YPG کا علاقے میں ناقابل شکست ہونے  اور قطعی سیاسی دفاع  کا مالک ہونے کا تائثر  بھی ختم ہو گیا۔ شام میں دہشت گرد تنظیم YPG کے بارے میں اس تائثر کے پیدا ہونے کی بنیادی وجہ امریکہ کا اس کے ساتھ تعاون تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ شام میں YPG کے  زیر کنٹرول علاقوں کی اکثریتی آبادی عرب اور ترکمین ہے۔ خاص طور پر داعش کو علاقے سے بڑے پیمانے پر کم کئے جانے کے بعد  YPG کی حاکمیت پر علاقائی عوام کی طرف سے آواز اٹھائی جانے لگی تھی۔ ترکی کے، عربوں، ترکمینوں  اور کردوں  پر مشتمل شامی مخالفین  کے ساتھ مل کر کاروائی کرنے سے علاقے کے لئے ایک متبادل صورت سامنے آئی۔ خاص طور پر منبچ جیسے مقامی عوام   پر YPGکے ظلم و ستم سے پریشان علاقوں میں YPG کے خلاف مزاحمتی گروپ بننے شروع ہو گئے اور کاروائیوں کرنے کا آغاز ہو گیا ہے۔ شاخِ زیتوں آپریشن کے دوران حاصل ہونے والی ہر کامیابی YPG کے ظلم و ستم  کے مقابل عربوں ، ترکمینوں اور کرد وں کے حوصلے بلند کر رہی ہے۔

 

نتیجتاً شاخِ زیتون آپریشن صرف YPG کو ہی نہیں اس کے ساتھ ساتھ شام میں اپنی تمام تر سرمایہ کاریاں YPG کے اوپر کرنے والے امریکہ کو بھی تنہا کر  رہا ہے۔ امریکہ کا ترکی اور اس کے عفرین آپریشن کے بارے میں متعدد متضاد بیانات جاری کرنا امریکہ کے داخلی تضادات کی عکاسی کر رہا ہے۔ امریکی اداروں کا ایک دوسرے سے مختلف پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے اور حالیہ طور پر سی آئی اے کا YPG کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا مشاہدہ کیا گیا۔

 

روس، ایران اور ترکی کی ضمانت میں جاری آستانہ مذاکراتی عمل میں شامل نہ ہونے والا امریکہ   علاقے میں ایک 'بے حیثیت تنہائی' کی طرف گھسٹتا چلا جا رہا ہے۔امریکہ کی ایک دہشت گرد تنظیم کو دوسری دہشت گرد تنظیم کی مدد سے ختم کرنے کی پالیسی علاقے میں بے اطمینانی کا سبب بن رہی ہے۔YPG کے شام کی زمینی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والے روّیے اور امریکہ کے علاقے میں سرحدی دفاعی فوج  قائم کرنے کے منصوبے  پر روس، ایران اور ترکی کی طرف سے ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا۔  امریکہ نے کہا تھا کہ اس کا YPG کے ساتھ تعلق دہشتگرد تنظیم داعش کے خلاف جدوجہد کے لئے ہے۔  نتیجتاً اس وقت امریکہ علاقے میں متعدد فوجی بیسیں قائم کر کے پاوں جمانے کا پروگرام بنا رہا ہے۔

 

شام میں ایک اور اہم پیش رفت ادلب منتقلی کے دوران  ترک مسلح افواج کے قائم  کردہ نئے کنٹرول پوائنٹ ہیں۔جنوبی حلب  میں اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے العیس میں قائم کنٹرول چوکی  فائر بندی کے علاقے کے کنٹرول کے لئے ایک اہم قدم ہے۔

 

ترکی حالیہ دنوں میں خاص طور پر آستانہ  مرحلے کے دائرہ کار میں شام کے محاذ  پر اور بین الاقوامی رائے عامہ میں ایک اسٹریٹجک اور فیصلہ کرنے والے کردار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ترکی اپنی اس مضبوط حیثیت کو ایک طرف تو شام میں موجود انسانی المیے کے خاتمے کے لئے   استعمال کر رہا ہے تو  دوسری طرف شام کے زیادہ اچھے مستقبل  کے لئے بھی اقدامات کر رہا ہے۔

 

ترکی کے شام میں  اس قدر مضبوط حیثیت حاصل کرنے کی وجہ ترکی کا شامی عوام کے  ساتھ تعاون ہے۔ اس وقت ملک میں 3 ملین شامی مہمان موجود ہیں  لیکن اس کے ساتھ ساتھ شامی سرحدوں کے اندر موجود 4 ملین مہاجرین کو بھی بڑے پیمانے پر امداد فراہم کر رہا ہے۔



متعللقہ خبریں