اقتصادی جائزہ - 04

عالمی اقتصادی فورم  کا 48 واں  سالانہ  اجلاس 23 جنوری   تا 26  جنوری سے  سوئٹزیر لینڈ کے شہر  ڈاووس میں جاری رہے گا

اقتصادی جائزہ - 04

عالمی اقتصادی فورم  کا 48 واں  سالانہ  اجلاس 23 جنوری   تا 26  جنوری سے  سوئٹزیر لینڈ کے شہر  ڈاووس میں جاری رہے گا۔ اس اجلاس میں  70ممالک کے مملکتی سربراہان یا حکومتی سربراہان   شرکت کررہے ہیں  جبکہ اس اجلاس میں ترکی کی نمائندگی   نائب وزیر اعظم مہمت شمشیک  ، وزیر اقتصادیات  نہایت زیبک چی  اور اسٹیٹ بینک کے گورنر  مرات  چتین قایا  کر رہے ہیں۔ ڈاووس سربراہی اجلاس میں  ہر سال کی طرح امسال بھی  عالمی اقتصادیات، سیاست، عالمی سیکورٹی اور  ماحولیاتی  آلودگی جیسے موضوعات کو جگہ دی جا رہی ہے۔  اجلاس میں " مشرقِ وسطیٰ  میں نیا توازن"،  "یورپ کے  نئے رہنما"، "یورپی یونین کے لیے مشترکہ  ویژن"  اور" ترقی پذیر ممالک کی  ترقی کے  لیے پیرا میٹڑز"  جیسے موضوعات  پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

امسال  عالمی اقتصادی فورم میں " تقسیم شدہ دنیا میں مشترکہ مستقبل کی تشکیل"  کے مرکزی خیال کے  تحت  جمع ہونے والے  ممالک مشترکہ مسائل اور ان کے حل کے بارے میں  مشترکہ حکمتِ عملی   اور  تعاون   پر کس طرح    عمل درآمد کیا جاتا ہے اس بارے میں بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں کئی سالوں سے منعقد ہونے والے   مختلف اجلاسوں  کے عالمی اقتصادیات اور   ان  متعلقہ  موضوعات پر کس قسم  کے اثرات مرتب ہوئے  ؟ اس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

گزشتہ کئی سالوں  سے منعقد ہونے والے عالمی اقتصادی  فورم  کے اجلاسوں میں اگرچہ ان تمام  موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے لیکن کیا ان تمام موضوعات اور مسائل کو حل کرنے میں اس عالمی اقتصادی فورم نے کوئی نمایاں کردار ادا کیا ہے تو اس بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ عالمی اقتصادی فورم  مسائل کو حل کرنے میں  موثر  نہیں ہوا ہے کیونکہ اقتصادی لحاظ سے مضبوط ممالک  کے ہاتھوں میں موجود عالمی اقتصادی فورم،   ترقی پذیر ممالک   اور پسماندہ ممالک کے مسائل  کی جانب  کوئی زیادہ توجہ نہیں دے سکی ہے  اور نہ ہی اس نے اس سلسلے میں کوئی حل پیش کیا ہے۔

اس طرح امسال منعقد ہونے والے اجلاس میں بھی   عالمی اقتصادی صورتِ حال ، عالمی سیکورٹی  کے مسائل  کے حل کے بارے میں تمام ممالک اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کریں گے  لیکن   اس کے نتیجے میں مسائل کے حل ہونے سے متعلق کوئی بات کہنا ممکن نہیں ہے۔

دریں اثنا شام  میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے  دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہونے والے   پناہ  گزینوں کے مسئلے کو آج تک حل نہیں کیا جاسکا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کے اس سربراہی اجلاس کے بعد پناہ گزینوں  کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جاتا ہے؟ امیر ممالک کے اثاثہ جات میں مزید اضافہ  ہوتے ہوئے وہ مزید مضبوط اور طاقتور ہو جائیں گےلیکن  غربت میں زندگی بسر کرنے والے ممالک کے باشندوں کو اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ دراصل  دنیا کا اس وقت سب سے اہم مسئلہ  آمدنی  کی عدم مساوانہ آمدنی کی تقسیم سے متعلق  پیش کردہ خیالات   سے یہ مسئلہ  ایک بار پھر  ابھر کر سامنے آگیا۔  رپورٹ کے مطابق  دنیا  کے82 فیصد اثاثہ جات کے مالک صرف دنیا کا ایک فیصد امیر طبقہ ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر اس  مسئلے  حل کرنا ہے تو سب سے پہلے اس امیر ترین طبقے کو اپنے اوپر عائد ہونے والے فرائض  اور ذمہ داریاں ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس طرح  جب ہم سن 2009 میں صدر ایردوان کی جانب سے آخری بار شرکت کردہ ڈاووس عالمی اقتصادی فورم  میں " اپنے " ون منٹ" کے نام سے مشہور خطاب  میں دنیا کے ان امیر ترین ممالک اور ان کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کے دنیا کے سیاست پر پڑنے والے اثرات  کی جانب نشاندہی کرتے ہوئے  دنیا سے ان ممالک  کو ان ممالک  کےاثرو رسوخ  فیصلے کے میکانزم سے دور رہنے  کی استدعا کی تھی۔ موجودہ دور میں ایک بار پھر اسی نکتہ نظر کو پیش کرنے  اور تمام ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو حرکت میں  لانے کی ضرورت ہے۔

اللہ حافظ

 



متعللقہ خبریں