عالمی نقطہ نظر 04

"شام کی صورت حال اور شاخ زیتون آپریشن کے اثرات" Prof. Dr. KudretBulbul کے قلم سے

عالمی نقطہ نظر 04

عالمی نقطہ نظر 04

 بعض اوقات  ہمیں ایسی  غلطیوں کا  بھاری حساب چکانا پڑتا ہے  جو کہ ہمارے لیے  سبق آموز  بن جاتی ہیں اور پھر ہم یہ سوچتے ہیں  کہ کاش ایسی غلطیاں نہ کرتے تو کتنا اچھا ہوتا۔

سیاسی افق پر ایسی ہی غلطی شام کی  خانہ جنگی  ہے  جس کا بیج  عرب بہار  میں بویا گیا  اور اس کا  کڑوا پھل اب شامی عوام کو  کھانا پڑ  رہا ہے   جس میں وہاں کی جابر حکومت کا بھی کافی عمل دخل ہے ۔

 یہ جائزہ   آپ کی خدمت میں  انقرہ یلدرم با یزید یونیورسٹی  کے شعبہ سیاسی علوم کے  پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل     کے قلم سے پیش کیا جا رہا ہے۔

 پاسداران ایران    کے فوجی  اسد نواز فوج  کے ساتھ مل کر  شامی جنگ میں  حصہ لے رہے ہیں  جنہیں روس کی آشیر باد بھی حاصل ہے  جس  کا   یورپی ممالک  حل نکالنے کے بجائے خاموشی سے  تماشا دیکھ  رہے ہیں جس  کا نتیجہ اس جنگ   کی جلتی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کرنا ہے۔ اس خانہ جنگی کے باعث   لاکھوں شامی  دیگر ممالک میں پناہ لینے   کی راہ دیکھتے رہے  جن پر یورپ ممالک کے دروازے بند کیے گئے  جو کہ ان کی نام نہاد انسانی اقدار کا جنازہ اٹھانے میں  مدد  گار رہا ۔

مگر    ترکی ، اردن  اور لبنان  نے مہاجرین کے معاملے میں جس فراخ دلی اور اعلی انسانی  و اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کیا وہ قابل  تعریف رہا ہے بالفرض اگر یہ ممالک بھی مغربی ممالک کی طرز پر اگر اپنے دروازے ان مہاجرین  پر بند کر دیتے تو  کیا ہوتا  لاکھوں  کی تعداد میں یہ مہاجرین  یورپی ممالک کی سرحدوں  پر دھاوا بول دیتے اور یہ بحران  ناقابل حد  تک شدت اختیار کر جاتا ۔

 ترکی اس وقت 3,5 ملین   شامیوں کو پناہ دیے  ہوئے ہے   ،حتی  ترک شہر قلیس میں آباد شامی مہاجرین کی تعداد یورپ جانے والے پناہ گزینوں کی  تعداد سے  زیادہ ہے ۔

 یورپ کی سیاسی  جماعتیں  اپنے ووٹوں کی گنتی بڑھانے کے چکر میں  غیر ملکی و اسلام  مخالف پالیسیوں      کی ڈور تھامے ہیں  اس  کی مثال  آسٹریا کے انتخابات میں جیتنے والی سیاسی جماعت  کے نعروں سے لگایا جا سکتا ہے جس نے    پناہ گزینوں  کی ملک میں آمد  روکنے  کو پارٹی منشور بنایا تھا ۔ بعض یورپی ممالک میں  مخلوط  حکومتیں قائم ہیں  جبکہ بعض میں  نازی پرست اور فاشسٹ حکمرانوں  کا راج ہے ۔

 یہ بھی باور رہے کہ خلیجی ممالک اور ایران   میں  ان پناہ گزینوں کےلیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔

 اس دوران  داعش   کے خاتمے کے باوجود   عالمی سامراجی طاقتیں  مسئلہ  شام  کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں حتی بعض دیگر ممالک بھی شامل ہیں جن میں لیبیا ،افغانستان،عراق  قابل ذکر ہیں جہاں امن کے بہانے قائم کردہ   عالمی اتحادی فوج کا کردار بے معنی رہا  اور وہاں کی مقامی آبادی  کو صرف  آنسووں ، نقل مکانی اور مصائب کے علاوہ کچھ نہیں ملا ۔

داعش کے خاتمے کے باوجود  امریکہ بہادر نے  دہشتگرد تنظیم پی وائی ڈی  کو   اسلحے   کی فراہمی جاری رکھی  جس پر ترکی  اور دیگر علاقائی ممالک نے  شدید  رد عمل کا مظاہرہ کیا ۔ اس  معاملے میں  ترکی نے اپنی علاقائی سالمیت  کے تحفظ کےلیے  حال ہی میں  "شاخ زیتون" نامی آپریشن شروع کیا ہے  جس کا مقصد علاقے میں امن قائم کرتےہوئے مزید مہاجرین کی ہمسایہ ممالک میں آمد کو روکنا ہے۔

 یہ آپریشن  ترکی  کا قانونی حق ہے  جس پر بعض ممالک ناک بھوں چڑھا رہے ہیں۔ترک حکام  نے واضح کر دیا ہے کہ اس کاروائی    کا دیگر مقصد شام کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنا بھی ہے  کیونکہ  امریکی نواز پی وائی ڈی    عراق سے بحیرہ روم کے مزرقی کنارے تک کے ممالک میں  آکاس بیل کی طرح پھیلتی جا رہی ہے اور شام کے ٹکڑے کرنا چاہتی ہے۔

متعلقہ دہشتگرد تنظیم  کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ  اس کی  مخالفت میں  پیش پیش  کردوں ،عربوں ،ترکمینوں اور دیگر غیر مسلموں کا صفایا کرنا اپنا حق سمجھتی ہے  جس کے خوف سے  لاکھوں انسان  ترکی اور ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ نتیجتاً   ترکی  کا آغاز کردہ یہ آپریشن  علاقے کو دہشتگردوں سے پاک کرنے  اور  یہاں بسے تمام نسلی  و  مذہبی فرقوں   کی وطن واپسی کو ممکن بنانا  ہے ۔

امید ہے کہ    ایک نہ ایک دن  یہ  جنگ بھی ضرور ختم ہوگی  مگر یہاں ضروری ہے  کہ ہم ان تمام مصیبتوں سے سبق حاصل کرتےہوئے  اپنی آنے والی نسلوں کےلیے ایک بہتر اور پر امن مستقبل  کی داغ بیل  ڈالیں۔

انقرہ یلدرم با زیدی یونیورسٹی  کے شعبہ سیاسی علوم  کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل    کا جائزہ آپ نے سنا ۔

 

Prof. Dr. Kudret Ankara Yıldırım Beyazıt Üniversitesi Siyasal Bilimler Fakültesi Dekanıdır.

 

 

 

 



متعللقہ خبریں