عالمی نقطہ نظر 02

روہنگیا کے مسلمان اور ان کی حالت زار

عالمی نقطہ نظر 02

عالمی نقطہ نظر02

 

روہنگیا مسلمانوں کو  مظلوم اقلیت تصورکیا جاتا ہے ۔  برمی  مسلمانوں پر گزشتہ سال  اگست سے اب تک ظلموں کا پہاڑ توڑا جا رہا ہے جن کی اکثریت  اس وقت بنگلہ دیش   میں پناہ لیے ہوئے  ہے ۔

برمی مسلمان بدھ اکثریت علاقے میانمار میں آباد ہیں ۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی 1.1 ملین ہے اور یہ لوگ روہنگیا یا روینگا زبان بولتے ہیں ۔

 رخائن میانمار کی غریب ترین ریاست ہے جہاں یہ روہنگیا مسلمان آباد ہیں ۔

 موجودہ فسادات کی وجہ سے کئی ہزار لوگ یہاں سے قریبی  ہمسایہ  ممالک کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں  جس میں بنگلہ دیش  قابل ذکر ہے ۔

بیشتر محققین  اور اراکان روہنگیا نیشنل آرگنائزیشن کے مطابق اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ مسلمان میانمار میں کب سے آباد ہیں ۔

 

100 سالہ  برطانوی راج کے دوران میانمار میں بہت سے مزدور طبقہ لوگوں نے بھارت اور بنگلہ دیش سے نقل مکانی کر کے یہاں رہائش رکھی کیونکہ برطانوی دور حکومت میں میانمار  بھارت  کا ایک صوبہ تصور کیا جاتا تھا ۔

 اس نقل مکانی کو یہاں کے مقامی لوگ پسند نہیں کرتے تھے اور اُنہیں برا جانتے تھے ۔

 آزادی کے بعد میانمار حکومت نے ان تمام لوگوں کو اپنا شہری ماننے سے انکار کر دیا جو برطانوی دور میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے ۔

 ان میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی تھی ۔ اس وجہ سے بدھ اکثریتی اس علاقے میں بدھوں نے ان کو بنگالی کہہ کر رد کرنا شروع کر دیا ۔

سن 1938سے لے کر 1950ء تک کا زمانہ برمی مسلمانوں کےلیے شدید ترین آزمائش کا دوسرا دور کہا جاسکتا ہے کیونکہ اِس دوران گاہے بہ گاہے وہاں کے مسلمانوں کو دیگر ممالک کی طرف نقل مکانی پر مجبور کیا گیا جو مسلمان ہونے  کی بناء پر ہجرت نہ کرسکے۔

اُن کی بستیوں کے محاصرے شروع کردیئے گئے اور اسلام کی تبلیغ پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی۔

لیکن بات یہیں پر ختم نہ ہوئی بلکہ مسلمانوں کے اوقاف  کو مسلمانوں سے چھین کر چراگاہوں میں تبدیل کردیا گیا۔

 دوسری جانب میانمار کی فوج نے انتہائی بے رحمی سے نہ صرف مسجدوں کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ مساجد اور مدرسوں کی تعمیر پر پابندی بھی لگادی اور لاؤڈ اسپیکر سے اذان کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا۔

مسلمانوں کو پسماندگی کی دلدل میں دھکیلنے کےلیے اُن کے بچوں کو سرکاری درسگاہوں میں داخلہ دینا بند کردیا گیا جبکہ سرکاری و غیر سرکاری، دونوں طرح کی ملازمتوں کےلیے مسلمانوں کو صرف اُن کے عقیدے کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا گیا۔

برمی مسلمانوں  کے  ان مسائل  پر غور کے لیے یلدرم با یزید یونیورسٹی   کے شعبہ سیاسی علوم  کے تحت ایک پینل  کا اہتمام کیا گیا جس میں      یورپی کونسل کے صدر اور خارجہ  تعلقات کے  نائب مشیر    اُمید یاردم     نے بھی شرکت کی ۔

اس پینل میں ہالینڈ سے بھی دو  مقررین  شریک ہوئے  جنہوں نے بتا یا  کہ  میانمار میں  ہر شخص پر یہ لازم ہے کہ وہ  اپنے خاندانی نام کے ساتھ  برمی نام کا بھی استعمال کرے۔  

مقررین نے کہا کہ  یہ واقعات افسوس ناک ضرور ہیں لیکن جب تک  سانس باقی  ہے امید  بھی  باقی ہے لہذا  ہمیں ان انصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا جاری رکھنا ہوگا جس کےلیے عالمی سطح پر  مہم چلائی جا رہی ہے ۔

اس سلسلے میں ضروری ہے کہ  یوکرین  تنازعے  کے حوالے سے قائم منسک گروپ  کی طرز پر  ایک   میانمار کے بحران  کا حل تلاش کرنے کےلیے  ایک  گروپ تشکیل دیا جائے گا۔ چین اور بھارت خطے میں اس مسئلے کا حل تلاش کرنےکے  بجائے جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔  برمی مسلمانوں  کی  صورت حال اس وقت وہی ہے   جو کہ شام میں  کردوں  کی ہے  جن کے بنیادی حقوق   تاحال  شامی حکومت    تسلیم کرنے سے عاری ہے ۔ بنگلہ دیش اس سلسلے میں  ممکنہ حد تک مدد کر رہا ہے مگر اس کے وسائل بھی محدود ہیں جس کے لیے عالمی برادری کو تعاون  کرنا ہوگا۔

برمی مسلمانوں کا مسئلہ فلسطینی بحران سے بھی مختلف ہے  کہ جہاں  صرف مسلمان   اپنے  وطن کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

 ترکی کی خاتون اول امینہ ایردوان   کا دورہ رخائن  اس معاملے کو عالمی سطح پر بیدار کرنے میں معاون ثابت ہوا ۔

انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی  کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کا  اس موضوع کے حوالے سے  جائزہ پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں