ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 36

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 36

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 36

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ

پروگرام" ترکی یوریشیاء  ایجنڈہ " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔  سامعین دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے یوریشیاء کے ایجنڈے پر ہمیشہ سرفہرست ملک افغانستان اپنی آزادی کی 98 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ ہم بھی اپنے آج کے پروگرام میں افغانستان کی حالیہ صورتحال اور ترکی۔افغانستان تعلقات  کا جائزہ لیں گے۔

اتا ترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر جمیل دوعاچ اپیک کا موضوع سے متعلق جائزہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

Geçiş

افغانستان 19 اگست 1919 میں آزاد ہوا اور اپنے قیام سے لے کر اب تک دہشت گردی سمیت متعدد مسائل کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ ملک میں جغرافیائی  شرائط سخت ہونے کی وجہ سے ایک مرکزی حکومت کا قیام بہت مشکل ہے جس کی وجہ سے ملک بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں اور دہشت گردی کی کاروائیوں کے لئے ایک کھلا اڈہ  بنا ہوا ہے۔  افغانستان  میں دہشتگردی کے خاتمے کے لئے سال 2001 سے جاری   نیٹو ممالک کی کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں اور ملک میں دہشت گردی کے خطرے میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے حملوں، خود کش حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ملک بھر کے 15 اضلاع میں طالبان عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

بڑھتی ہوئی دھاندلیاں، جہالت اور بے روزگاری  ملکی ترقی کے راستے کی اہم  رکاوٹیں ہیں۔ سال 2015 سے قبل افغانستان  کی آبادی کا 35 فیصد بے روزگار تھا جبکہ سال 2016 میں یہ شرح 40 فیصد تک پہنچ گئی ۔ ایسے شہر جہاں بے روزگاری کی شرح سب سے بلند ہے ان میں کابل، ہرات، ننگر ہار، قندھار اور مزار شریف شامل ہیں۔ اس وقت بے روزگاروں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ تقریباً 35 ملین آبادی والے ملک افغانستان  میں اوسطاً 20 ملین افراد کی  یومیہ  آمدنی 1.5 ڈالر ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ منشیات افغانستان میں پیدا کی جاتی ہے۔ حکومت نے سال 2001 میں امریکہ کے قبضے کے بعد سے اب تک منشیات کے خلاف جدوجہد کے لئے ایک بڑی مقدار میں مالی مصارف کئے ہیں لیکن منشیات کی پیداوار میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال سیاسی  اور اقتصادی عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔ وزارت انسداد منشیات  کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2016 میں 2 لاکھ ایک ہزار  ہیکٹر اراضی  پر کاشت کی گئی خشخاش سے تقریباً 4 ہزار 800 ٹن منشیات حاصل کی گئی اور اندازے کے مطابق رواں سال میں پیداوار  گذشتہ سال  کی شرح سے دو گنا ہو گی۔ ملکی آبادی کا 3 ملین  سے زائد منشیات کا عادی ہے۔ ملک میں منشیات کے عادی افراد  کا تقریباً 4 فیصد عورتوں اور بچوں پر مشتمل ہے۔ اس شرح کے ساتھ افغانستان منشیات کے عادی افراد کی شرح کے حوالے سے بھی دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔

سیاسی و اقتصادی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ افغانستان ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ بھی ماضی سے چلتے چلے آنے والے سنجیدہ مسائل کا حامل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان  مسائل میں19ویں صدی میں انگریزوں کی کھینچی ہوئی سرحدی لائن   کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ ترکی دونوں ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات  کی وجہ سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں کلیدی  کردار رکھتا ہے۔

ترکی اور افغانستان کے اچھے باہمی تعلقات  طویل سالوں سے جاری ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات 1921 میں قائم ہوئے ۔ ترکی کے سفارت   خانے نے کابل میں دو سفارتی مشن کھولے۔ ترکی نے 1920 سے 1960 کے سالوں میں افغانستان کی جدیدیت کی کوششوں کے ساتھ تعاون کیا اور ملک کے اداراتی، فوجی، ثقافتی، تعلیمی اور صحت  جیسے بنیادی سرکاری محکموں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔1932 سے 1960 کے  دور میں ترکی نے 212 اساتذہ، ڈاکٹر، فوجی اور دیگر ماہرین کو  افغانستان بھیجا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ قریبی تعلقات افغانستان کے سوویت یونین کے زیر اثر جانے تک جاری رہے۔1989 میں سوویت یونین کے  قبضے کے بعد ترکی نے افغانستان کے حالات پر بغور نگاہ رکھنا جاری رکھا۔ خواہ خارجی کردار ہوں خواہ ملک کے تمام گروپ ترکی نے سب کے ساتھ رابطے کر کے افغانستان میں امن اور استحکام کے قیام کے لئے کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ ترکی آج بھی سکیورٹی اور ترقی کے شعبوں میں افغانستان کی کوششوں کے ساتھ فعال شکل میں تعاون کر رہا ہے۔

ترکی۔ افغانستان پالیسی میں چار عناصر سرفہرست ہیں۔ یہ چار عناصر افغانستان کے اتحاد و زمینی سالمیت کا دفاع، سکیورٹی اور استحکام کا قیام، ملک میں عوامی تعاون اور شرکت  کو سرفہرست رکھنے والی وسیع پیمانے کی سیاسی ساخت کی مضبوطی اور افغانستان کا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لہروں سے پاک ہو کر عوامی امن اور خوشحالی کے درجے تک پہنچنا ہے۔ ان اہداف تک رسائی کے لئے ترکی خواہ دو طرفہ سطح پر ہو خواہ اقوام متحدہ اور نیٹو کی کوششوں کے ساتھ تعاون کر کے ہو افغانستان کے لئے وسیع پیمانے پر کردار ادا کر رہا ہے۔ افغانستان کے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ  اچھے تعلقات  ترکی کی افغانستان پالیسی کے ترجیحی عناصر میں سے ایک ہے۔

اس مقصد کے تحت سال 2007 میں ترکی۔افغانستان۔پاکستان سہہ فریقی سربراہی اجلاس  اور 2011 میں ایشیاء کے قلب کے علاقے کے ممالک کی شرکت سے استنبول مرحلے کا آغاز کروایا گیا۔ ترکی سال 2004 سے لے کر اب تک  افغانستان میں جاری اپنے ترقیاتی پروگرام  میں  تقریباً 1 بلین ڈالر مالیت کے 850  سے زائد منصوبوں کے ساتھ ملک کو بڑی ترین خارجی امداد فراہم کر رہا ہے۔

برسلز میں 4 سے 5 اکتوبر  2016 کی تاریخوں میں منعقدہ افغانستان کانفرنس  میں ترکی نے  2018 سے 2020 کے دورانیے  کے لئے اپنی 150 ملین ڈالر مالیت کی ترقیاتی امداد  کے وعدے کا اعلان کیا۔ وارسا میں 8 سے 9 جولائی 2016 میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس  میں ترکی نے افغان سکیورٹی فورسز  کے لئے 2018 سے 2020 کے دورانیے میں 60 ملین ڈالر  امداد کا وعدہ کیا ہے۔



متعللقہ خبریں