پاکستان ڈائری - 49

موبائل جرنلزم نے خبر کی نشر و اشاعت کو تیز کردیا ہے ۔موبائل جرنلزم میں صحافی اپنے فون کی مدد سے رپورٹ کرتے ہیں  فون میں نصب کیمرے کی مدد سے وہ فوٹیج ریکارڈ کرتے ہیں

پاکستان ڈائری - 49

پاکستان ڈائری - 49

ماڈرن ٹیکنالوجی صحافت پر بھی اثر انداز ہورہی ہے اور رپورٹنگ کے روایتی طریقہ کار کو تبدیل کررہی ہے۔پاکستانی صحافی بھی ماڈرن ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپناتے ہوئے جدید طریقہ کار کی مدد سے رپورٹنگ سر انجام دے رہے ہیں ۔موبائل جرنلزم نے خبر کی نشر و اشاعت کو مزید تیز کردیا ہے ۔موبائل جرنلزم میں صحافی اپنے فون کی مدد سے رپورٹ کرتے ہیں  فون میں نصب کیمرے کی مدد سے وہ فوٹیج ریکارڈ کرتے ہیں ۔ٹویٹر اور فیس بک لائیو کے ذریعے واقعہ اس ہی وقت دنیا بھر کے لئے لائیو بھی نشر کردیتا جاتا ہے۔صحافی ویٹس ایپ،ای میل کے ذریعے سے خبر ویڈیو اور آڈیو فوری طور پر اپنے دفتر پہنچاتا ہے۔اب اکثر صحافی اکیلے کوریج کے دوران فون کے ساتھ ساتھ بیٹری بینک،مائک، ڈیٹا کیبل،ہیڈ فونز، ایل ای ڈی لائٹ، آئی پیڈ، ٹیب یا لیپ ٹاپ اور ٹرائی پوڈ ساتھ رکھتے ہیں ۔اس طرح وہ بنا کیمرہ ٹیم کی مددکے خبر فوری طور پر اپنے ادارے تک پہنچا دیتے ہیں ۔پاکستان میں بہت سے اداروں اور کوریج میں کیمرہ ساتھ لے کر جانا منع ہے جسکی وجہ سے رپورٹرز کا انحصار انکے فونز پر ہی ہوتا ہے۔اپنے فون سے ہی وہ ویڈیو ریکارڈ کرکے آفس بھیجتے ہیں اور بعض اوقات انٹرویو بھی موبائل فونز کی مدد سے ریکارڈ کرتے ہیں ۔

صحافی مونا خان 2009 سے میڈیا کے ساتھ وابستہ ہیں ۔2015 میں انہوں نے جیو نیوز کو جوائن کیا اور وہ فارن آفس اور ڈیفنس کور کرتی ہیں ۔ٹی آر ٹی سے بات کرتے ہوئے مونا نے بتایا کہ پاکستان میں رپورٹنگ کرتے وقت کبھی تو صرف وہ کوریج پر جاتی ہیں اور رپورٹ کردیتی ہیں ۔باقی عام طور پر اسائمنٹس پر انکے ساتھ کیمرہ ٹیم اور ڈی ایس این جی اسٹاف بھی ہوتا ہے۔تاہم بیرون ممالک کوریج کرتے وقت وہ اپنا بیگ پیک ساتھ رکھتی ہیں ۔جس میں ٹرائی پوڈ اور کیمرہ کٹ ہوتی ہے جو ان کے آئی فون کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔

وہ کہتی ہیں میں اپنے چینل کا لوگو اور مائک بھی ساتھ لے کر جاتی ہوں ۔فون کیمرہ ٹرائی پوڈ پر سیٹ کرکے میں چینل کے لئے بیپر بھی ریکارڈ کرواتی ہوں ۔وائی وائی کی موجودگی میں وہ دنیا میں جہاں بھی ہوں منٹوں میں خبریں، ویڈیوز آفس تک پہنچ جاتی ہیں ۔
مونا کہتی ہیں کہ وہ اپنے گیجٹس کے ساتھ وہ موبائل کوریج زیادہ انجوائے کرتی ہیں ۔بطور ملٹی میڈیا جرنلسٹ موبائل کٹ کے ساتھ آپ کہیں بھی سٹوری کور کرنے جاسکتے ہیں ۔

اقراء بیگ ایسوسی سیٹ پروڈیوسر اور براڈ کاسٹ جرنلسٹ ہیں ۔وہ ساڑھے چھ سال سے جرنلزم کے ساتھ وابستہ ہیں ۔وہ ابتک ٹی وی کے ساتھ کام کررہی ہیں اور ثقافت، فیشن، شوبز،فیچر سٹوریز اور اقلیتوں کے حوالے سے رپورٹنگ کرتی ہیں ۔ٹی آر ٹی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انکی زیادہ تر بیٹس میں بریکنگ نیوز کا عنصر کم ہوتا ہے اور انکے ساتھ انکی کیمرہ ٹیم ہوتی ہے جوکہ فوٹیج ریکارڈ کرتی ہے۔

وہ کہتی ہیں لیکن اگر کسی جگہ پر کوئی کیمرہ مین کے سامنے انٹرویو ریکارڈ کروانے سے انکار کرے تو کیمرہ میں خود بھی آپریٹ کرلیتی ہوں۔موبائل فون ہماری رپورٹنگ کو بہت آسان بنارہا ہے۔اقراء کہتی ہیں کہ انفارمیشن کی ترسیل کے لئے فون سب سے اہم ہے۔وہ کہتی ہیں کہ میں اپنے فون سے میڈیا کے علاوہ  سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے والوں کو خبریں فراہم کرتی ہوں ۔فیس بک پر متواتر لائیو آتی ہوں اور ناظرین کو مختلف ایونٹس کا احوال لائیو دیکھاتی ہوں ۔

وہ کہتی ہیں ٹی وی پر تو دو سے ڈھائی منٹ کی رپورٹ چلتی ہے لیکن فیس بک لائیو رپورٹنگ  پر آپ اپنی مرضی کے مطابق جتنی دیر چاہو اپ ڈیٹ دے سکتے ہو ۔وہ کہتی ہیں انکا چینل انکی موبائل سے لائیو رپورٹنگ اور موبائیل فوٹیج کو بھی استعمال کرتا ہے۔

 



متعللقہ خبریں