حالات کے آئینے میں 49

ماضی میں یورپی ملکوں کی سرحدوں کا تعین جنگوں کے ذریعے اور خون کے رنگ سے کیا گیا تھا

حالات کے آئینے میں 49

! جمہوریہ چیک اور سلوواکیہ ، جنوبی اور شمالی سوڈان کی طرح کے چند ملکوں کے علاوہ  دنیا بھر کی مملکتوں کی سرحدیں جنگوں، جھڑپوں   اور جدوجہد    کے ساتھ  کھینچی گئی  ہیں۔ یعنی دوسرے الفاظ میں  ان سرحدوں کو انسانی خون سے  کھینچا  گیا۔

کیا  ہمیں  اس چیز کی ضرورت تھی؟  تھیوری  کے مطابق  اس کا جواب نہیں میں ہو گا۔ مملکت کا نظریہ مغرب  میں سولہویں صدی  میں   استعمال کیا جانے لگا  تھا تو مشرق میں ہزار ہا سال سے    اس چیز پر عمل درآمد ہو رہا تھا۔  ترکوں اور چینیوں  کے ہزاروں سال قدیم  متنوں اور تحریروں میں  مملکتی نظریے کے  حوالے سے   وسیع پیمانے کی معلومات  کا  وجود پایا جاتا ہے۔

مغربی  دنیا میں وسطی دور  تک مملکت کے نظریے اور وجود  کا نام و نشان تک نہ تھا۔ عصر حاضر میں   سیاسی حاکمیت، زمینی ملکیت  کی بنیادوں    پر  اس چیز  کو بیان کیا جاتا ہے۔ قدیم دور میں مملکت اراضی کا مفہوم رکھنے والے تینو یا پھر  تے ۔را    لفظوں کو اس کی وضاحت کے  لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ریاست کے  لفظ کو  یورپ میں  پہلی بار 15 ویں صدی   میں اٹلی  میں  زیر لب لائے جانے کا  تعین ہوا ہے۔  وہاں پر  ریاست کے نظریے کو کسی خاص طبقے کے سیاسی  طور پر منظم  کسی ڈھانچے کو بیان  کرنے  کے لیے  استعمال  کیا گیا۔ اٹلی کے بعد آہستہ آہستہ دیگر  مغربی  علاقوں میں  مملکت کا نظریہ  ابھر کر سامنے آنے لگا۔ سولہویں صدی میں اب  تمام تر مغربی علاقوں میں سیاسی حاکمیت کے نظریے   کو "مملکت " کی اصطلاح کے ساتھ   استعمال کیا جانے لگا۔ مشرق  میں مملکتیں اپنی   حیثیت اور رقبے میں اضافے کے ساتھ "شہنشاہت "  کا درجہ حاصل  کر رہی تھیں تو مغرب میں  مملکتی سرحدیں     خون کے  سرخ رنگ میں رچتی رہتی  تھیں۔

نظریہ مملکت کے  اس قدر  خونی ہونے والی مغربی دنیا میں قائم کردہ   خوابوں کی دنیا  میں  قنوطیت  اور  برائی کا مستقبل  پایا جاتا ہے۔

ادب سے لیکر سیاسی علوم تک  مغربی  ملکو ں کے  نظریات میں  ہمیشہ  برائیوں کا مشاہدہ ہوتا ہے۔  خوابوں کی دنیا کے  مخالف ہونے والے   بد بختی کے حامل مستقبل  کو دستوپیا سے تعبیر کرنے والے تمام تر متن  خوف کن ہیں۔

فوکو یاما  سے لیکر بریجنسکی تک سوروس سے لیکر  تمام تر سیاسی مستقبل  پسند  نظریات  خون کی ندیوں سے وضع کی جانے والی مملکتی سرحدوں کا پیش خیمہ ہیں۔ پرانی سرحدوں کو خون سے ہی مٹاتے ہوئے نئے سرے  سے وضع کیا جاتا   ہے۔ مغرب کے سیاسی  مستقبل کی  سرحدوں کی تعداد جغرافیہ، ثقافت یا  پھر سیاسی  تعاون سے نہیں بلکہ خونریزی   سے بڑھتی جا رہی ہے۔

مغربی   فرضی کہانیوں کے مصنف  کسی  سیاسی مستقبل   سے  الہام  حاصل کر نے کی  طرح   کہیں زیادہ   خوفناک اور  دل ہلا دینے والے  ہیں۔  ادب کی اس شاخ کے  کسی مسلکی ناول  کا جائزہ لینے سے  انسانی  تخلیقی  طوفان کے  مطابق  ایک فرد کے طور پر  تمام تر امیدوں  پر پانی پھیرتے ہوئے ، اس تاریک مستقبل  کے خلاف   تخلیقی طوفان  کو پیش کیے جانے  کا کہا جا سکتا ہے۔

یو گینی  زامیاتن کا  "ہم" ہو یا پھر ہیگ ہورے  کا سیلو،  پاؤلو  بیکی گالوپی،   کا " خیال پرست دوشیزہ"   جی ویلز کا "مالک  کی بیداری" جیورج  اورویل کا "1984"  اور    ریڈ براڈبیری  کا فاہرن ہائیٹ   451سمیت آلدؤس  ہیکسلے کا  بہادر نئی دنیا    تک کے   ناولوں  میں  انسانی شعور میں برائی پر مبنی مستقبل کے نظریے کو  پکا  اور گہرائیوں سے اثر کرنے کی  کوشش کرتا ہے۔

یہ تاریک  مستقبل  کی حامل تحریریں  انسان کی تخلیقی فطرت سے قدم بہ قدم  دور ہٹاتے ہوئے   اس دنیا کو جانے والے  راستے پر  نصب کردہ کسی سنگ کی شکل اختیار کرتی جاتی ہیں۔ آج کرہ ارض کو  خون کی  نہروں میں  بدلنے والے  طاقتور ممالک  کے مستقبل کی دنیا کا تخیل  اور فیصلہ  کرنے والے اداروں کے تمام تر کارکنان  کی مشترکہ خصوصیات میں  سے اہم ترین  تاریک ذہنی پر مبنی  تحریوں  کو ادبی   شہہ پاروں  میں جگہ  دینا  اور  اپنے   پیرو کاروں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔

سماجی شراکت   کے حامل جمہوری نظام میں  طبقے چاہے   جس حد تک بھی سیاسی ڈھانچوں میں  تبدیلیاں لائیں  یہ ادارے  کسی نہ کسی طریقے سے عوامی  سیاسی آزادی   کی راہ میں رکاوٹیں  کھڑی کرتے ہیں ۔اس میں کامیابی حاصل کرنے کے کچھ مدت بعد  اس کو اپنے    زیر کنٹرول  لے لیتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال کا مشاہدہ  امریکہ میں ہوا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اوباما انتظامیہ کی  تشدد  کی  حامی اور   اس کے پھیلاؤ پر مبنی پالیسیوں     سے   پرہیز کرنے  کی توضیح کرتے ہوئے   کم و بیش مندرجہ ذیل  الفاظ کہے تھے:

"ہم امریکہ   کی داخلی پالیسیوں پر زیادہ تر عمل پیرا ہوں گے۔ فوجی اخراجات  اور دنیا بھر میں موجود  امریکی فوجی اڈوں کی تعداد میں  کمی لائیں گے۔"

 اس سے بھی  بڑھ کر  ٹرمپ نے  ٹویٹر  پیغام میں داعش دہشت گرد تنظیم کے اوباما  انتظامیہ کی پیداوار ہونے کا بھی تحریر کیا تھا۔ تا ہم   بعد میں انہوں نے اس پیغام کو  مٹا دیا۔  بڑے افسوس سے کہنا پڑتا  ہے  کہ  ٹرمپ حکومت  بھی  آہستہ آہستہ  سابقہ انتظامیہ کی سیاسی پالیسیوں  کے زیر ِ تسلط آتی گئی۔ حتی ٰ  انہوں نے اوباما سے    بھی آگے جاتے ہوئے خلیج بصرہ  سمیت  دنیا کے متعدد مقامات کو اسلحہ کے کسی گودام میں بدل دیا ہے۔  انہوں نے اوباما کی حکومت ِ ونیز ویلا کے خلاف سخت گیر پالیسیوں سے   ایک قدم تک پیچھے نہ ہٹایا۔

یہ  ایک دلچسپ اتفاق ہو گا لیکن نئے عالمی  نظام  کی جبراً پیدا  کردہ خونی سرحدوں  کی ترامیم کے خلاف ترکی سمیت ونیزویلا بھی مزاحمت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔  ایک "مشرق" کی قدیم ثقافت ہے تو دوسرا لاطینی امریکہ کی سحر انگیز  ثقافت  کا مظہر  ہے ۔  لاطینی ثقافت میں انسانی مفاہمت  اس حوالے سے مشرقی نظریات سے  کافی  قریب ہونے  کی بنا پر یہ مزاحمت  محض ایک اتفاق نہیں ہے۔  بڑے افسوس کی بات ہے کہ امریکہ ان  دونوں ملکوں  پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے  میں مصروف ہے۔

ترکی کے خلاف قانونی دلائل اور عقل و منطق سے   عاری  اور مکمل طور پر کسی سیاسی  حساب   کے آلہ کار بنائے جانے والے رضا صراف   کے خلاف  مقدمہ متحدہ امریکہ کے یک طرف  دباؤ کی محض ایک  چھوٹی سی مثال  ہے۔

نیا عالمی نظام ہمیں خونی سرحدوں کی جانب  دھکیل رہا ہے  لیکن ہم اس دباؤ اور  سر پر تھونپی جانے والی پالیسیوں کے سامنے گردن خم نہیں کریں گے۔ کیونکہ مشرقی ثقافت ایک قدیم ماضی کی حامل ہے۔  مشرقی ثقافت  ہر قدم پر اپنی اصلیت کو برقرار رکھتی ہے اور یہ مغربی ثقافت کی طرح  تباہ کن نہیں ہے۔

ان میں سے بعض مملکتیں ہزاروں برسوں سے قائم دائم ہیں۔  ہماری سرحدوں پر بالکل  جنگ نہیں ہوئی   قطعی  طور پر ایسا  نہیں ہے۔   لیکن  یہاں پر ایک حقیقت ضرور پائی جاتی ہے اور  وہ   یہ ہے کہ ہماری سرحدیں جغرافیائی  محل وقوع ، انسانی اقدار اور  ثقافت  کا نتیجہ ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ  اگر ہم  شام اور مشرق وسطی کے علاقے میں     نئی خونی سرحدوں کی  چالوں کے سامنے ڈٹ کر مزاحمت  کرتے ہیں تو پھر   ہم بڑی طاقتوں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں گے۔

 

 



متعللقہ خبریں