حالات کے آئینے میں 48

تجزیہ :نیٹو کے قیام اور اس کے کردار پر بحث اب کیونکر لازمی ہے؟

حالات کے آئینے میں 48

! نارتھ اٹلانٹک  ٹریٹی   آرگنائزیشن  (نیٹو)  دوسری جنگ عظیم کے بعد  سوویت یونین  کے  کیمونسٹ نظریے کے پھیلاؤ کے خلاف قائم کی جانے والی ایک تنظیم ہے۔  سوویت  یونین کی خطرناک پالیسیوں کے خلاف محاذ آرائی کیے  جا سکنے  کے زیر مقصد 4 اپریل سن 1949 کو امریکہ، برطانیہ، بیلجیم، فرانس، ہالینڈ، اٹلی، آئس لینڈ، ڈنمارک، لگسمبرگ، ناروے، پرتگال اور کینیڈا   کے اشتراک   سے  نیٹو کا قیام   عمل میں آیا۔ ترکی نے    سن 1952 میں نیٹو میں شمولیت اختیار کی۔  اس تنظیم   کے بنیادی  مقاصد میں  رکن ممالک  کو  بیرونی خطرات کے خلاف فوجی  تحفظ فراہم کرنا اور بیک وقت سیاسی ، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں  تعاون فراہم کرنا  شامل ہیں۔

اس منشور پر قائم  نیٹو   پر سن 1991 میں  مشرقی بلا ک کا مکمل طور پر شیرازہ بکھرنے پر   بحث چھڑی۔ تا ہم  اس تاریخ سے چند ماہ قبل  عراق کے کویت پر قبضے  اور وجود پانے والی  دہشت گردی کی نئی لہر "نیٹو کی ضرورت " کے بارے میں تسلی  بخش   اسباب پیدا  کرنے کا موجب بنی۔

انہی ایام میں  اٹلی میں نیٹو  کی ایک غیر قانونی مسلح تنظیم منظر عام پر آئی۔ ا س دور کے اطالوی وزیر اعظم گیولیو  آندرے  اوتی   نے 24 اکتوبر سن 1990 کو گلاڈیو کے  اپنے ملک میں موجود   ہونے کا اعتراف کیا۔

اس کے  ڈھانچے میں عمومی طور پر  'خصوصی دستوں کے ڈھانچے سے مشابہہ'     عوامل کی موجودگی کا اعلان کیا  گیا ، جس میں  مشرقی بلاک   کی جانب سے کسی  بھی مغربی یورپی   یا پھر نیٹو کے رکن ملک  پر قبضہ کرنے  کی صورت میں  غیر منظم  جنگی حربوں  کے ذریعے  دشمن کو روکنا،  اس  کو اپنے ہدف سے دور رکھنا، نقصان پہنچانا ،  خفیہ معلومات  تک رسائی،  خبررسانی اور لاجسٹک  عناصر کا سبو تاژ کرنا، سٹریٹیجک اہمیت کے حامل اہداف کا خاتمہ کرنا   وغیرہ شامل  تھے۔

لاطینی زبان میں "شمشیر" کا مفہوم رکھنے والے  گلاڈیو   لفظ کو  تنظیم کے نام  کے طور پر استعمال کرنے والی یہ تنظیم  امریکی اور برطانوی  حملہ آور گوریلا  اسٹے   بی ہائنڈ  کی جانب سے سن 1952 میں قائم کی گئی۔ سی  آئی اے کی  سرپرستی       اور مالی   معاونت  کی حامل اس تنظیم کو سن 1956 میں  امریکہ کے ساتھ   تعاون کی حالت  میں جاسوسی اور گوریلا  جنگوں کے لیے  منظم کیا گیا ۔

گلاڈیو بحث و مباحثہ کے ساتھ ہی  نیٹو کی   جانب سے تمام تر رکن ممالک میں  غیر  منظم  جنگی    طرائق پر عمل  درآمد کرنے یا پھر  اس کی کوشش کرنے کے دعوے  سامنے آنے لگے۔  متعدد ملکوں میں اس قسم کے ڈھانچے کا تعین  ہونے سے  اتحاد پر  دوبارہ   بحث  چھڑ گئی۔ یہ بات  کافی دلچسپ ہے کہ نیٹو کی  سرکاری  اور  جائز حیثیت  پر بحث  جاری    ہونے کے وقت یوگوسلاویہ کے  اندر  خانہ جنگی  نے زور پکڑ لیا۔  قدرے   وحشیانہ اور خونی  ہونے والی یہ خانہ جنگی   نسل کشی  کی حیثیت اختیار کر گئی۔    اچانک اس قتل عام کو  روکنے کا خواہاں  نیٹو  بنی نوانسانوں کی نئی امید بن گیا۔   بعد ازاں  عراق و افغانستان پر قبضوں نے نیٹو  کے وجود پر بحث  کو غیر مؤثر ثابت کر دیا۔

نیٹو کی غیر قانونی سرگرمیوں کو عوام نے بھلانا شروع  کر دیا  تو ترکی میں  بین الاقوامی  جاسوسی و غداری کی مرتکب     فیتو نے     بغاوت کی کوشش کی۔

ترک عوام  نے  اپنے سربراہ اور صدر رجب طیب ایردوان کی اپیل  پر گلی کوچوں میں نکلتے ہوئے  اس بغاوت  کا  سر کچل ڈالا۔  بغاوت    اقدام   میں ملوث  اعلی رتبے کے فوجی افسران  نیٹو کے  رکن ملکوں  کو  فرار  ہو گئے۔ نیٹو  میں  فرائض ادا کرنے والے  فیتو  دہشت گرد تنظیم   سے تعلق ہونے کا تعین  ہونے والوں نے   رکن ملکوں سے   پناہ   دینے کی درخواستیں  دے رکھی ہیں۔

حتی ٰ  فوجی افسران کی  ایک بڑی اکثریت نے  ترک مسلح افواج  سے خارج کیے جانے کے باوجود  نیٹو  میں  مزید کچھ مدت تک اپنے  فرائض کو جار ی رکھا۔

ترک پولیس کی جانب سے   دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہونے کا تعین کردہ  بعض  اشخاص نے نیٹو کی مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے بھی بڑھ کر  یہ تمام تر ملزمان     نیٹو میں  معاوضے کے بدلے کام کر رہے تھے۔  ایسے ہی  جیسا کہ  گزشتہ  دنوں جمہوریہ ترکی کے بانی  مصطفی کمال اتاترک اور صدر رجب طیب ایردوان   کی تصاویر کو دشمن قوتوں میں   دکھانے والے  نیٹو کے   این سی اوز  ملازمت کر رہے تھے۔

15 جولائی  سن 2016 کو دہشت گرد تنظیم فیتو    کے ناکام  خونی  بغاوتی اقدام کے دوران  نیٹو اور ترکی کے مغربی کلب کے اندر اتحادیوں  کا ترک عوام کا ساتھ نہ دینا  قدرے  تعجب   انگیز بات ہے۔

اس سے بھی کہیں زیادہ حیرت انگیز بات  نیٹو اور ترکی کے   اتحادی  مغربی دوستوں کی  جا نب سے دہشت گردوں کو پناہ دینا ہے۔

ترکی میں خونی اقدام کے  بعد نیٹو  کے اس تنظیم سے  تعلق  کو منظر عام پر لانے والے چند واقعات پر نگاہ ڈالتے  ہیں۔

۔نیٹو میں  ملازم  ترک   این سی اور  ایک فوجی اتاشی  کی   بغاوت اقدام کے بعد  ناروے کو  دی گئی  پناہ کی درخواست کو قبول کر لیا گیا۔

۔فیتو  سے منسلک   لوگوں  کو  ان کے عہدوں سے بر طرف کرنے کے لیے  جاری کردہ  جعلی دستاویز  کی منظوری  دینے والا  مفرور  میجر احمد  ایردوان برطانیہ میں ایک فوجی   کوارٹر  میں تا حال مقیم ہے۔

۔بغاوت میں عملی طور پر  حصہ لینے والا  اور  امریکہ میں الائنس    روٹیشن ہیڈ کوارٹر   میں  فرائض ادا کرنے والا لیفٹنٹ  جنرل ذکی مصطفیٰ  بغاوت کے بعد  نیٹو کے فوجی اڈے  پر   موجود تھا۔  ترک مسلح  افواج کی طرف سے برطرف کیے جانے کے باوجود  نیٹو میں   تا حال ایڈمیرل  کے عہدے پر مامور  ہونے کاتعین ہونے پر اس نے  فوری طور  پر امریکہ میں پناہ کی درخواست دے دی۔

۔15 جولائی کے بعد  عہدے سے  ہٹائے جانے والے  5 اعلی رتبے کے  فوجی بیلجیم میں واقع نیٹو اینڈ شیپ  ہیڈ کوارٹر میں دیکھے گئے ہیں۔  جن کو بیلجیم  نے سیاسی پناہ دے  رکھی ہے ۔

۔ گزشتہ  دنوں امریکہ میں منعقدہ نیٹو  پارلیمانی اسمبلی   اجلاس میں  مدعو نہ کیے جانے کے  باوجود مڈل ایسٹ فورم کے صدر ڈینل پائپس  کی جانب سے  فیتو کے رکن اور رومی فورم کے صدر ایمرے چیلک کو  غیر قانونی طریقے سے اس اجلاس میں   شامل کیا  گیا۔  نیٹو نے اس حرکت  کے سامنے خاموشی اختیار رکھی۔   جب ترک وفد نے  اس  چیز کے احتجاج میں  اجلاس کو ترک کیا تو دیگر ملکوں کے حکام  نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

اتنے زیادہ دلائل کے باوجود   کیا  نیٹو   سے  اس  کے رکن ممالک پوچھ  گچھ نہیں کریں گے؟

 

 



متعللقہ خبریں