عالمی معیشت46

قومی بچت کی اسکیم اور ملکی معیشت میں استحکام

عالمی  معیشت46

اقتصادی ترقی  کی رفتار میں تیزی   کے لیے  مالی وسائل       کا استعمال کم کرنا ضروری ہوتا ہے ۔  لہذا ہر ملک   ترقی  کے اہداف مقرر کرتےہوئے بچت کے پہلووں کو  بھی   مد نظر رکھتا ہے ۔

 اگر کسی بھی معیشت میں  سرمایہ کاری  کا تناسب  بچت سے زیادہ ہو  تو   اس سے بچت   کا خسارہ  پیدا ہوتا ہے  جس ے دور کرنے کےلیے  اگر سرمائے کی قلت پیدا ہو جائے تو اقتصادی ترقی میں  کمی واقع ہو جاتی ہے ۔ بالخصوص  ترقی پذیر ممالک    میں  یہ صورت حال    معاشی استحکام کو بری طرح متاثر  کر سکتی ہے   لہذا اس سے بچنے کےلیے  ممالک   غیر ملکی سرمایہ  کاری    کی جانب رجوع کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر  گزشتہ سال   ترکی میں  خام  ملکی آمدنی کا 28٫7 فیصد سرمایہ کاری  کےلیے مختص کیا گیا  مگر اس کے ساتھ ہی بچت   کےلیے   خام قومی آمدنی          کی شرح تناسب   کو 24٫9 فیصد کے لگ بھگ مقرر کیا گیا ۔  اگر  سرمائے کی مطلوبہ مقدار کو  ملکی بچت پالیسی  سے حاصل نہ کیا جا سکے تو ایسی صورت حال میں  بیرونی قرضوں   یا غیر ملکی سرمایہ کاری  میں  اضافے پر  انحصار کیا جاتا ہے۔

 بیرونی بچت   کا براہ راست  سرمایہ کاری کےلیے  استعمال میں لانان بیرونی قرضوں  کی ادائیگی میں کافی معاون ثابت ہوتا ہے  کیونکہ  بیرونی  قرضوں  کی ادائیگی کےلیے   کی جانے والی سرمایہ کاری  معیشت     کو     غیر ملکی انحصار کے طابع بنا دیتی ہے  لہذا    اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے   کہ  ایسی معیشت کسی بھِ بیرونی معاشی بحران سے فوری طور پر متاثر ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ترکی کی معاشی صورت حال میں اتار چڑھاو اور کساد بازاری   ایک معمول کی بات  تھی ۔

 حالیہ 15 سالوں کے دوران  ترک معیشت  نے بچت کے حوالے سے  کافی اہم اقدامات اٹھائے ہیں  جس سے    ملکی خزانے کو بچت کے معاملے میں خاطر خواہ اضافہ  حاصل ہوا ہے ۔ سن 2002   میں  خام ملکی  آمدنی  میں سرکاری  بچت کا تناسب  4٫7 فیصد تھا جو کہ  گزشتہ سال 2٫7 فیصد تک پہنچ گیا  جس کا اہم سبب  ملکی پیداوار میں اضافہ  اور درآمدای مصنوعات   پر انحصار کو کم کرنا ہے ۔ یہ بات یاد رکھنا  ضروری ہے کہ اگر  جاری خسارے کو کم کرنا ہے تو اس کےلیے     ملکی بچت  کو بڑھانا نا گزیر ہے ۔

انفرادی  یا سرکاری   جمع  پونجی  کو اگر ملکی مالیاتی نظام میں استعمال کیا جائے تو  اس سے قومی خزانے   کی  بچت  میں اضافہ  ہوگا  جس سے  عوام اور ملکی  معیشت  دونوں کو بھرپور فائدہ  بھی ملے گا۔

 کفایت شعاری   کو بہترین  طور پر   استعمال  میں  لانے کےلیے یہ ضروری ہے کہ عوام میں شعور پیدا کیا جائے  کہ وہ  اپنی جمع پونجی  کو گھر میں   رکھنے کے بجائے  بینکوں  میں جمع کرائیں تاکہ  اس سے اُنہیں اور ملک کو بھی فائدہ پہنچے ۔

 اس مناسبت سے     وزارت خزانہ نے طلائی بانڈز کے نام    سے اسکیم شروع کی ہے  تاکہ عوام  گھر میں جمع سونے کو   ملکی بینکوں میں  جمع کرائیں ۔اس   اسکیم کے تحت اب تک قومی خزانے     میں 2 ٹن سے زیادہ  سونا جمع ہو چکا ہے ۔

 ملکی معیشت  میں  بچت پالیسیوں پر جتنا عمل درآمد ہوگا   معاشی  راہ میں حائل رکاوٹوں کو اتنا ہی دور کرنے میں مدد ملے گی ۔

 بچت  میں اضافے  کے موضوع پر  اٹھائے جانے والے  اقدامات  ، اقتصادی پالیسیوں  میں استحکام  اور    عوام کے وسائل آمدنی میں اضافے کا بھی  موجب بنتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں