پاکستان ڈائری - 47

پاکستان ڈائری میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کرواییں گے پاکستان اور بنگلہ دیش کی صف اول کی فلم سٹار شبنم سے

پاکستان ڈائری - 47

پاکستان ڈائری -47

پاکستان ڈائری میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کرواییں گے پاکستان اور بنگلہ دیش کی صف اول کی فلم سٹار شبنم سے وہ آج کل پاکستان آیی ہویی ہیں اور نجی چینل پر بننے والے ڈرامہ سیریل میں اہم رول ادا کررہی ہیں۔

شبنم ۱۷ اگست ۱۹۴۷ کو سابقہ مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں پیدا ہوییں۔انکا اصل نام جھرنا ہے ۔انہوں اپنے کرییر کا آغاز بنگالی فلموں سے کیا اسکے بعد اردو فلمز میں کام کے سلسلے کا باقاعدہ آغاز ہوگیا اور انکو شبنم کا نام دیا گیا۔۔ساٹھ کی دہایی سے لے کر اسیء کی دہایی تک شبنم نے پردہ اسکرین پر راج کیا اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن رہیں۔ان کی مشہور فلموں میں ساگر آخری اسٹیشن ،درشن،چندا،کاروان،سمندر،تم میرے ہو،آس ، انمول ،دل لگی، پہچان ،زینت ،عندلیب ،لاڈلا،دوستی،بندگی ،احساس اور دیگر شامل ہیں۔اپنے تیس سالہ فلمی کرئیر میں انہوں نے ۲۰۰ سے زاید فلموں میں کام کیا اور انہیں ۱۳ نگار ایوارڈ اور ۳ نیشنل ایوارڈ ملے۔پاکستانی اردو فلمیں جب زوال کا شکار ہوییں تو انہوں نے فلمز میں کام کرنا کم کردیا۔۱۹۹۹ کو اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے وہ پاکستان سے بنگلہ دیش چلی گییں جہاں انکا میکہ اور سسرال دونوں آباد ہیں۔۱۹۶۵ میں وہ معروف موسیقار کار روبن گھوش کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسک ہوییں انکا ایک بیٹا ہے۔

ٹی آر ٹی سے بات کرتے ہوئے شبنم جی نے کہا پاکستان دوبارہ آکر بہت اچھا لگ رہا ہے وہ کہتی ہیں میں حیران ہوں کہ پاکستان کی نی نسل مجھے پہچانتی ہے اس بات سے مجھے خوش گوار حیرت ہویی۔وہ کہتی ہیں کہ بہت اچھا لگتا ہے جب ینگ بچے بچیاں مجھ سے آکر ملتے ہیں انہیں میری فلمز اور کرداروں کا پتہ ہوتا ہے شاید اسکی بڑی وجہ ٹی وی انٹرنیٹ پر پرانی فملز کا نشر ہونا ہے اور میرا خیال میں ان بچوں کے والدین کی وجہ سے بھی انہیں پرانی فلمز اور اداکاروں کے بارے میں پتہ ہے ۔

شبنم جی اس وقت پاکستان میں ایک ڈرامہ سیریل میں کام کررہی ہیں جوکہ لاہور میں عکس بند کیا جارہا ہے،شبنم کہتی ہیں میں ۱۹۹۹ میں بنگلہ دیش شفٹ ہوگی جہاں وہ اپنے والدین اور سسرال والوں کو بھرپور وقت دیتی رہیں،اپنے شوہر معروف موسیقی کار روبن گھوش کا ذکر کرتے ہویے وہ آب دیدہ ہوگیں اور کہنے لگی ان کے ساتھ پچاس سال کی رفاقت رہی ان کی کمی لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔انکے جانے کے بعد میں بہت تنہا ہوگی ہوں۔وہ کہتی ہیں روبن جی کے جانے کے بعد میں نے مصروف رہنے کے لیے دوبارہ کام کا آغاز کردیا ہے ۔

اس وقت بول ٹی وی کے لیے وہ ڈرامہ سریل ریکارڈ کررواہی ہیں جس میں انکا کردار اولڈ ہوم میں رہنے والی ایسی خاتون کا ہے جو فلم سٹار شبنم کی بہت بڑی فین ہے۔شبنم کہتی ہیں مجھے امید ہے تمام دیکھنے والوں کو یہ ڈرامہ سیریل پسند آیے گا۔ڈرامے کی کاسٹ اور کہانی بہت اچھی ہے۔مجھے امید ہے جس طرح مداحوں نے مجھے فلم کے پردے پر پسند کیا ویسے ہی وہ مجھے ٹی وی پر بھی پسند کریں گے۔لاہور گوالمنڈی میں ہم شوٹنگ کررہے ہیں۔ڈرامہ کے ڈائریکٹر علی طاہر ہیں۔انہوں نے کہا فلم کا ٹیمپو فرق ہے اور ٹی وی کا مزاج مختلف ہے میں خود کو ٹی وی کے مطابق ڈھال رہی ہوں۔

شبنم جی نے کہا پاکستان آکر بہت اچھا لگ رہا ہے میں یہاں تیس سال رہی ہوں ۱۹۶۸ میں ٓایی اور انیس سو ننانوے میں واپس گئ دوبارہ یہاں آیی ہوں تو دیکھا بہت ترقی ہوگی ہے بنگہ دیش میں بھی ترقی ہورہی ہے۔حکومت نے یہاں کافی کام کیا ہے۔وہ کہتی ہیں سب مجھے مل کر خوشی کا اظہار کررہے ہیں نی نسل اپنے والدین اور ٹی وی پر چلنے والی فلمز کی وجہ سے مجھے جانتے ہیں۔پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہویے شبنم نے کہا ندیم میرے پسندیدہ اداکار رہے انکے ساتھ کام کرکے ہمیشہ اچھا لگا ۔انکا اسٹایل بہت منفرد رہا۔انکے خاندان کے ساتھ ذاتی مراسم رہےانکی بیگم فرزانہ میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہیں ۔ہم دونوں ایک دوسرے کے کام کو سراہتے بھی اور تنقید بھی کرتے۔وہ کہتی ہیں فلمز میں کپڑے ہمیشہ میری چوایس کے ہوتے تھے اور لباس کردار کے مطابق منتخب کرتی تھی۔

شبنم نے ٹی آر ٹی کو بتایا کہ میری سب سے یادگار فلم بیلک وایٹ دور کی ہے اور اس فلم کا نام آخری اسٹیشن ہے ۱۹۶۳ میں بنے والی فلم میں میرا رول پگلی کا تھا اس فلم میں کویی گلیمر نہیں تھا اور پوری فلم میں میرا ایک ڈایلاگ تھا۔ساری فلم میں کپڑے پھٹے ہویے تھے بال بکھیرے اور تمام فلم میں صرف میں نے تاثرات کے ساتھ اداکاری کی۔پوری فلم میں ایک ڈایلاگ تھا بابو ایک بیڑی دو۔بہت پاور فل فلم تھی۔وہ کہتی ہیں کہ دس بارہ بنگالی فلموں میں کام کیا۔۹۹ کے بعد تو کویی فلم نہیں کی نا پاکستان میں نا ہی بنگلہ دیش میں۔

وہ کہتی ہیں گھر ، میکے اور سسرال کی زمہ داریاں ساتھ ساتھ ہیں بیٹا تولندن بیرون ملک ہے۔کھانا پکانے کا کویی شوق نہیں نا ہی زیادہ کھانے کا روبن صاحب بھی کھانے کے خاص شوقین نہیں تھے۔اب پاکستان لاہور میں ہوں یہاں کھانے بہت لذیذ ہیں دال چاول میرے بہت پسندیدہ ہیں لیکن میں احتیاط برت رہی ہوں عمر کا تقاضا ہے۔فلموں کے دور میں بھی کھانے سے دور رہی کہیں وزن نا بڑھ جایے۔شبنم کہتی ہیں اب پاکستان کی  انڈسٹری بہت بدل گی ہے حال ہی میں "پنجاب نہیں جاوں گی" فلم دیکھی بہت اچھی لگی۔ یہ فلم جدید تکینک کے ساتھ بنایی گی ڈائریکٹر کی سوچ بہت ماڈرن ہے اگر اس طرح فلمز بنتی رہیں تو پاکستان فلم انڈسٹری دوبارہ عروج کی طرف گامزن ہوجائے گی۔وہ کہتی ہیں کہ فلم اور ٹی وی انڈسٹری میں بہت اچھے چہرے آگے ہیں اور بہت اچھا کام کررہے ہیں۔

 



متعللقہ خبریں