حالات کے آئینے میں 47

داعش کی حقیقت اور مغرب کا اس میں کردار

حالات کے آئینے میں 47

م  سالہا سال سے داعش کے خطے میں  بنیاد   نہ ہونے والی  ایک دہشت گرد تنظیم  ہونے کا کہتے    چلے آئے ہیں۔  لیکن  بڑے  افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خاصکر مغربی میڈیا کے  کارکنان نے  اس حقیقت پر یقین  نہ کرنے کی ٹھانی  ہوئی تھی۔ حتی ٰ  اس  چیز پر بالکل متفق  نہ  ہونے کا کھلم کھلا اظہار کرنے والے  بھی موجود تھے۔

ان ہم منصبوں کے ساتھ  ماضی سے چلے آنے والے ہمارے تعلقات انتہائی  خصوصی  ہیں۔ ہماری یہ دوستی محض سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے متعارف ہونے  یا پھر اکتاہٹ پیدا کرنے والے بین الاقوامی  اجلاس  کے وقفوں کے دوران مجبوری بات چیت سے   تعلق  نہیں رکھتی۔ خصوصی  دوستی   ہمیشہ محاذوں پر ہوئی  ہے ۔ یوگوسلاویہ کا  شیرازہ بکھرنے  کے بعد رونما ہونے والی  خانہ جنگیوں سے لے کر راؤندا، افریقہ اور مشرق وسطی  کی کئی جنگوں تک  ہم نے  ایک  ساتھ  رپورٹنگ کی  ہے۔ میں  بعض  اوقات کئی ہفتوں تک  ایک ہی چھت تلے   ایک جیسا کھانا کھانے والے   دوستوں کا  یہاں پر ذکر  کر رہا ہوں۔ محاذ پر زخمی ہونے پر ایک دوسرے کو کئی گھنٹوں تک  حتی کئی  دنوں تک  کندے پر اٹھانے  والے    ہمارے ان دوستوں ۔ یاروں  نے ہمیشہ اس معاملے پر شک و شبہات کا ہی مظاہرہ کیا ہے۔

داعش کی حقیقت کا اندازہ کرنے والے   وابستہ  ہونے والے  میڈیا عناصر  میں  اس  چیز کی نشر و اشاعت کرانے میں ناکام  رہے۔ داعش دہشت گرد تنظیم  کی خاصکر "بکتر بند جنگیں"  ہمیں  جانی  پہنچانی  لگتی تھیں۔  اس تنظیم کا بھاری اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں  نیٹو  کے اتحادی بعض ملکوں کے حربوں اور طرز سے مشابہہ دکھتی تھیں۔  ہمارے سر کو کھجانے والے  ان سوالات کا جواب گزشتہ برس امریکہ میں ہونے والے  صدارتی  انتخابات کی مہم میں حاصل کیا گیا ۔

ریپبلیکنز کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ   نے بعد میں ڈیلیٹ  کردہ  ٹویٹ میں  لکھا تھا  کہ "داعش  کو صدر اوباما نے قائم کیا ہے۔"

ٹرمپ کے اس اعتراف  کے بعد  مغربی  اخباری نمائندوں نے تھوڑی بہت جسارت حاصل کی  اور مغرب کے داعش سے تعلق پر تحقیقات شروع کر دیں۔

آئیے  اب امریکہ کی قیادت کی اتحادی قوتوں کے داعش مخالف فوجی آپریشنز  کے اعداد و شمار پر  ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔

اتحادی قوتوں کی داعش کے خلاف   جنگی طیاروں کی پروازوں کی تعداد :28181

آپریشنز دنوں کی تعداد :1185

اتحادی قوتوں کی جا نب سے غیر متحرک کردہ داعش کے عسکریت پسندوں کی تعداد : 5000

داعش پر داغے گئے میزائل اور بموں کی تعداد : 102082

یہ اعداد و شمار دراصل وہاں پر چلی جانے والی چالوں  کو واضح طور پر آشکار کرتے ہیں۔ اتحادی قوتوں اور امریکہ  کی جانب سے داعش  مخالف جنگ میں استعمال کردہ  فوجیوں کی تعداد میں مسلسل تبدیلی کرنے  کے باعث اس حوالے سے کوئی قطعی تعداد  پیش کرنا ، ناممکن ہے۔ تا ہم ، اگر ہم امریکہ کی حصہ دار پی وائے ڈی  کے  ایک لاکھ کے لگ بھگ  مسلح   کارکنان  موجود ہونے کا  کہیں تو یہ چیز اس ملک کی فوجی صورتحال  کے حوالے سے بعض  اشارے  دے سکتی ہے۔

گزشتہ ایام میں   بی بی سی نے داعش اور امریکہ کی ساجھے داری کو آشکار کرنے والی دستاویز اور  مناظر کو  نشر کیا تھا۔   عام حالات میں  اس واقع پر مغربی دنیا میں قیامت  پھوٹ سکتی تھی۔ تا ہم، کسی نے بھی اس چیز کے خلاف اپنی صدا بلند نہیں کی۔  داعش کے حملوں  میں  سینکڑوں افراد کی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے یورپی یونین کے رکن ممالک نے   بھی خاموش  رہنے کو ہی  ترجیح دی۔

اوپر بیان کردہ فوجی آپریشنز کے اعداد و شمار  کے  ایک فیصد تک  کی حد تک  فوجی  کاروائیوں کے ذریعے  جمہوریہ ترکی   نے  تنظیم کو بھاری نقصان پہنچایا۔  دو ماہ کے اندر  محض   اس نے اپنی سرحدوں سے اس تنظیم کا مکمل طور پر صفایا کر دیا۔ اس آپریشن میں 500 کے لگ بھگ  ترک فوجیوں کی جانب سے  بے بس بنائے جانے والے  داعش والوں کی تعداد 700 کے قریب ہے۔ ترک فوجیوں  کے ان آپریشنز میں  فضائی  تعاون  حاصل نہ کرنے کی یاد دہانی  بھی کراتے چلیں۔ ترک فوج نے  محض  بری کاروائیوں کے ساتھ  داعش کو  دو ماہ کی مدت میں  اس حد تک  کاری ضرب لگائی ہے تو اتحادی قوتوں کی 4 برسوں   کے اندر ہزاروں کی تعداد میں  سورٹیوں ، ایک لاکھ سے زائد بموں اور میزائلوں  کے حملوں میں کسی بھی قسم کی کامیابی حاصل نہ کرنا محض ایک تعجب انگیز بات نہیں ہے۔

امریکہ  کی اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف   جنگ اور تعلق محض اب کسی اخباری   نمائندے کی جانب سے   تحقیقات  کیے جانے والے ایک معاملے سے  کہیں  زیادہ آگے جا چکا ہے۔

ترکی، روس، برطانیہ، ایران اور شام  کسی مشترکہ درخواست کی وساطت سے بین الاقوامی عدالتی نظام  سے  رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ دنیا بھر  کو ہلا کر رکھ دینے والی  اس خونخوار تنظیم، کہ جس  نے  لاکھوں کی تعداد میں معصوم شہریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں، کے ایک مملکت کے ساتھ تعلق   کا راز افشا  ہوا ہے۔  اس شک  یا پھر حقیقت  پر تحقیقات  کو عالمی  قانونی نظام   کے دائرہ کار میں  سر انجام دیا جانا چاہیے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں  بنی نو انسانوں کے موجودہ  نظام ِ کرہ ارض پر اعتماد  کو ایک بار پھر دھچکہ لگے گا۔

بین الاقوامی   دہشت گرد تنظیم فیتو  نے گزشتہ برسوں کے اندر ترکی  کے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کے دعوے کیے تھے ، جس پر پوری دنیا نے بند  آنکھوں کے ساتھ اعتبار کرنا شروع کر دیا تھا۔ حتی  حکومت ترکی کی شام کے معصوم شہریوں اور قانونی مزاحمت کاروں کو فراہم کردہ انسانی امداد کو "داعش کی مدد" کے طور  پر   پیش کیا گیا  جس پر   پوری دنیا نے  اندھا اعتماد کر لیا تھا۔

یہاں تک کے مغربی    ملکوں نے  اس  تہمت پر مصر ہونے والوں  اور مملکت ترکی کے قوانین کے پاؤں تلے روندتے ہوئے   جرائم کے مرتکب  افراد کے لیے اپنے دروازے مکمل طور پر کھول  دیے۔ بعض مغربی ملکوں نے ان  تہمت بازوں کو سفارتی  پاسپورٹ  دیتے ہوئے ان کی  صدارتی سطح پر   خاطر تواضع  بھی کی۔

ترکی پر اچھالے گئے  اس کیچڑ میں  لت پت ہونے والی مغربی دنیا  کا  برطانوی  اخباری نمائندوں کی جانب راز کا پردہ چاک  کردہ داعش۔ امریکہ تعلقات  کے بارے میں بالکل ذکر نہ کرنا، ڈیموکریسی، انسانی و کائناتی  حقوق  کے  لیے  باعث  شرم ہے۔

در اصل مغربی ملکوں نے اس تھیٹر کو محض دور سے دیکھنے  کا ہرجانہ  سینکڑوں جانوں کی صورت میں  دیا ہے۔ درست اور صحیح بات کہنا اور دہشت گرد کے ساجھے دار کو "تم بھی دہشت گرد ہو" کہنا کیا اس قدر  مشکل کام ہے؟  یا پھر   بعض لوگ اس کھیل   کو اس کے انجام تک پہنچانے  کے حق میں نہیں ہیں؟



متعللقہ خبریں