ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 45

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 45

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 45

 

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 45

 شمالی عراق کی علاقائی انتظامیہ میں عالمی قوانین کے بر خلاف ہونے والے ریفرنڈم کو  ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ۔آج کےاس پروگرام میں  ہم  اس ریفرنڈم کے مشرق وسطیٰ کے علاقے   پر اثرات  اور عراق میں نئے دور کے آغاز  کے  موضوع پر اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار  جمیل دوعاچ اپیک  کا  جائزہ  آپ کی خدمت میں پیش  کر رہے ہیں ۔

 عرق اور دیگر ممالک کے تمام تر اعتراضات کے باوجود  شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ میں  ہونے والے ریفرنڈم کو  ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ۔ حکومت عراق نے اس ریفرنڈم کے بعد شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ  کے خلاف اقدامات کیے اور شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ2003 کی سرحدوں تک محدود ہو کر رہ گئی ۔ ایک ماہ قبل شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ کی آزادی کا موضوع زیر بحث تھا لیکن اب یہ فیڈرل علاقہ حکومت عراق سے وابستہ ہو گیا ہے ۔

ریفرنڈم کے بعد عراق میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں ۔ عراقی فوج کے فی الفور حرکت میں آنے اور ایران، ترکی اور عراق کے مشترکہ منصوبوں نے شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ  کی عراق سے علیحدگی  کے  منصوبوں کو  ملیا میٹ کر دیا  ۔  کرکیوک اور متنازعہ علاقوں کو دوبارہ مرکزی حکومت سے وابستہ کر دیا گیا ۔  سرحدی چوکیوں اور ہوائی اڈوں کا انتظام بھی مرکزی حکومت اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے ۔ ہابور سرحدی چوکی پر عراقی فوج تعینات کر دی گئی ہے اور شام اور عراق کی سرحد  کوبھی عراقی فوج نے اپنے  کنٹرول  میں لے لیا ہے ۔ ترکی اور ایران جن کے درمیان شام کی خانہ جنگی، ترکی کی نیٹو میں رکنیت ،دہشت گرد تنظیم پی کے کے کی ایران میں شاخ پی جے اے کے خلاف ایران کے نرم موقف سمیت متعدد معاملات میں اختلافات  موجود تھے   اب  غیر متوقع طور پر ایک دوسرے کے قریب تر آ گئے ہیں  ۔ ان دونوں ممالک  نے  شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ میں غیر قانونی ریفرنڈم کے معاملے میں عراق کا بھر پور ساتھ دیا ۔ایک سال قبل بعشیکا فوجی اڈے کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین بیانات دینےوالے ترکی اور عراق کے  سربراہان نے ایک دوسرے کیساتھ بھر پ ساتھ دیا ۔

شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ کی آزادی کی توقعات پوری نہ ہو سکیں۔اس کے برعکس اس نے 2005 میں آئین کی خلاف  جو مراعات حاصل کی تھیں  ان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی ۔ پہلے کرکیوک  پر اس کی حاکمیت ختم ہوئی ا س کے بعد اقتصادی ذرائع پر نگرانی  کا بھی خاتمہ ہو گیا ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ اہم اقتصادی ذرائع سے محروم ہو گئی ہے ۔  اب کرکیوک اور دیگر زیر بحث علاقوں سے پٹرول  سےہونے وا لی آمدنی ختم ہو گئی ۔ اب حکومت عراق سرحدی چوکیوں کے  کنٹرول کو بھی مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے ۔ یہ صورتحال 1990 سے سرحدی چوکیوں سے آمدنی  حاصل کرنے والی شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ کی پارٹیوں اور لیڈروں کے لحاظ سے پٹرول کی آمدنی کے خاتمے جتنی اہمیت رکھتی ہے ۔

 ترکی، ایران اور عراق کے اتحاد نے شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ کی حمایت کرنے والی علاقائی  اور غیر ملکی    طاقتوں کے منصوبوں کو بھی  ناکام بنا دیا ہے ۔ عراقی آئین  میں کرکیوک اور زیر بحث علاقوں  سے متعلق  شق نمبر 140 کو ختم کرنے کا موضوع  عراقی حکومت کے ایجنڈے میں  ہے ۔ حکومت اہم قدم اٹھاتے ہوئے شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ کی حیثیت کو بھی ختم کر سکتی ہے۔

شمالی عراق کی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور کردستان محب ان وطن پارٹی اپنی سابقہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیےآئندہ  آیام  میں شمالی عراق میں  ہنگامہ آرائی کروا سکتی ہیں ۔ حتیٰ کہ شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ   کی پارٹیوں کے اندر اختلاف بھی پیدا ہو سکتے ہیں ا ور  یہ بٹ بھی سکتی ہیں ۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عربل ۔بغداد تعلقات سے بڑھ کر عربل ۔بغداد اور سلیمانیے ۔بغداد  تعلقات کو زیر بحث لانے والی  نئی  تصویر ہمارے سامنے آ سکتی ہے ۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ماہ نومبر سے عراق میں ایک نئے دور کا آغاز ہو جائے گا ۔ہو سکتا ہے کہ 14 سالہ قبضے کا دور عراقی حکومت  کے  پر عزم موقف سے ختم ہو جائے ۔ نسلی اور مذہبی تفریق کی وجہ سے  سنی کے طور پر سامنے لائی جانے والی عراق کی قومی شناخت کو شمالی عراقی علاقائی انتظامیہ میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد تقویت مل گئی ہے ۔حشدی شابی گروپ کے ساتھ شانہ بشانہ جنگ کرنے والے سنی اور شعیہ ترکمین اور عراقی فوج  کے اندر پشمرگوں کے خلاف جنگ کرنے والے کردی کمانڈر اس  کی واضح مثال ہیں ۔ عراق میں 2018 میں انتخابات ہو رہے ہیں  اور ان انتخابات کو حالیہ واقعات ہی رخ دیں گے ۔ عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی  نے اگر کامیاب سیاست کیساتھ انتخابی مہم شروع کی تو  عراق میں اتحاد و یکجہتی کا عمل شروع ہو سکتا ہے   کیونکہ عراق  کے ساتھ ساتھ  ایران اور ترکی  بھی اس عراق کی علاقائی سالمیت اور باہمی  اتحاد کے حامی ہیں ۔

 مستقبل قریب میں  ترکی اورعراق  کے مابین تعلقات کو فروغ ملنے اور اس دائرہ کار میں اہم اقدامات اٹھانے کا قوی امکانات موجود ہیں   کیونکہ ترکی عراق کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بھر پور حمایت کر رہا ہے ۔  دونوں ممالک کے درمیان خاصکر دہشت گردی کیخلاف جنگ کے معاملے میں تعاون کو  بڑھانے کا موضوع ایجنڈے میں ہے اور عراق میں موجود ترکی کے بعشیکا فوجی اڈے کے موضوع پر بھی مطابقت  ہونے کے امکانات  روشن ہیں ۔ ترکی  داعش کے خلاف جدوجہد میں اہم پیش رفت   حاصل کرنےوالی عراق کی مرکزی حکومت سے دہشت گرد تنظیم پی کے کے کے خلاف بھی ایسے ہی اقدامات اٹھانے کی توقع رکھتا ہے ۔  عراق بھی اس تنظیم کے خاتمے کا طرفدار نظر آ رہا ہے  لیکن  ترکی اور عراق  کے تعلقات کو حسب خواہش سطح پر لانے کے لیے عراق کو ٹھوس قدم اٹھاتے ہوئے ٹھوس نتائج کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔



متعللقہ خبریں