ترکی یوریشیا ایجنڈہ ۔ 33

ترکی یوریشیا ایجنڈہ ۔ 33

ترکی یوریشیا ایجنڈہ ۔ 33

پروگرام " ترکی یوریشیا ایجنڈہ " کے ساتھ آپ کے خدمت میں حاضر ہیں۔ ترکی کے وزیر  خارجہ میولود چاوش اولو نے مختصر عرصہ قبل ترکی کے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی انجمن ASEAN کے سیکٹرل ڈائیلاگ  کا ساجھے دار بننے کا اعلان کیا ہے۔ ہم بھی اپنے آج کے پروگرام میں ترکی کے ASEAN کے ساتھ تعلقات اور اس تنظیم کے علاقے پر اثرات کا جائزہ لیں گے۔

اتا ترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر جمیل دوعاچ اپیک کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی انجمن ASEAN کا قیام 1967 میں جکارتہ میں عمل میں آیا۔ ASEAN کے بانی رکن ممالک میں انڈونیشیا، ملائشیاء، تھائی لینڈ ، فلپائن اور سنگاپور شامل ہیں۔ 1984 میں برونائی، 1995 میں ویتنام، 1997 میں لاوس اور میانمار ، 1999 میں کمبوچیا ASEAN کے رکن بنے۔ انجمن کی بنیاد انڈونیشیا، فلپائن، ملائشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ کے وزرائے خارجہ نے 8 اگست 1967 میں بنکاک میں 5 شقوں پر مبنی دستاویز پر دستخط کر کے رکھی۔ انجمن کا مقصد اقتصادی، سماجی، ثقافتی، تکنیکی، تعلیمی اور دیگر شعبوں میں تعاون کر کے قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے دائرہ کار میں علاقائی امن اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

ASEAN کے قیام کے سالوں میں سر فہرست موضوع  جھڑپوں کی روک تھام اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانے جیسے  پہلو تھے  جن کی جگہ سرد جنگ کے دور میں اقتصادی  تعاون میں فروغ کی کوششوں نے لے لی۔ 1976 میں طے پانے والے جنوب مشرقی ایشیاء  کے جوہری اسلحے سے پاک  علاقے کے سمجھوتے  نے آسیان کو قانونی حوالے سے مربوطیت رکھنے والی تنظیم میں تبدیل کر دیا۔

سرد جنگ کے بعد کے سالوں میں آسیان علاقائی توازن اور رفاح  کے فروغ میں ایک موئثر ساخت بن گئی ہے۔ اضافی طور پر اقتصادی اور سکیورٹی کے حوالے سے بھی علاقے  کی بنیادی  اہمیت کی حامل ساختوں میں سے ایک بنا دیا۔ اقوام متحدہ، امریکہ ، کینیڈا، روس، آسٹریلیا، چین، جاپان، جنوبی کوریا، بھارت اور نیوزی لینڈ  اس مرحلے میں آسیان کے ڈائیلاگ پارٹنر بنے۔ ترکی آسیان کا رکن نہیں ہے کیونکہ تنظیم علاقے سے باہر کے ممالک کو رکن قبول نہیں کرتی۔ تاہم ترکی نے 1999 میں  تنظیم کے ساتھ اداراتی تعلقات کو   فروغ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس دائرہ کار میں سیکٹرل ڈائیلاگ   ساجھے دار بننے کے لئے اپنے ارادے کا اظہار کیا۔

انجمن کے ساتھ اداراتی تعلقات  کے فروغ کے لئے اپنے پہلے قدم  یعنی دوستی اور تعاون  کے سمجھوتے ASEAN/TAC کے لئے،  19 سے 23 جولائی 2010 کی تاریخوں میں ویتنام میں منعقدہ 43 ویں   آسیان وزرائے خارجہ اجلاس  کے دوران، ترکی   فریق بنا۔ ASEAN/TACمیں شرکت کے ساتھ ساتھ  اسی سال آسیان کی طرف سے جکارتہ  میں ترکی کے سفارت خانے  کو اختیار دیا گیا۔ تعلقات میں پیش رفت کے بعد جمہوریہ ترکی بھی ماضی قریب میں تنظیم کے ساتھ سیکٹرل ڈائیلاگ ساجھے دار بن گیا ہے۔50 ویں آسیان وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لئے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں موجود ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو  نے ترکی کے باقاعدہ آسیان  کے سیکٹر ڈائیلاگ ساجھے دار ہونے  کا اعلان کیا۔

ترکی نے سیکٹرل ڈائیلاگ شرکت داری کے لئے سال 2015 میں درخواست دی۔ اس درخواست سے متعلقہ پہلووں کے بارے میں  دو سال تک  بھاری کاروائی کو جاری رکھا۔ ترکی کا روڈ میپ اور لائحہ عمل آسیان کے رکن ممالک کی طرف سے سراہا گیا۔ آسیان کی سیکٹر ڈائیلاگ ساجھے داری کے لئے درخواست دینے والے اور ممالک بھی موجود تھے لیکن انجمن نے رواں سال میں صرف ترکی کی درخواست کو قبول کیا۔

ترکی ، لاطینی امریکہ کی طرف میلان رکھتا ہے اور افریقہ کے ساتھ اس کی ساجھے داری پالیسی موجود ہے۔ ان اقدامات کے ساتھ ترکی جنوب مشرقی ایشیاء کے علاقے کو بھی ایک طویل عرصے سے بہت اہمیت دے رہا ہے۔ ترکی مستقبل قریب میں لاوس میں اپنا سفارت خانہ کھولے گا۔ اس سفارت خانے کے ساتھ ساتھ ترکی آسیان کے علاقے کے تمام ممالک  کے دارالحکومتوں میں بھی اپنے نمائندہ دفتر قائم کرے گا۔ سیکٹرل ڈائیلاگ  ساجھے داری  کے ذریعے  سیاسی  اور اداراتی  طور پر ترکی کے اس علاقے کے ممالک کے ساتھ  تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔

آسیان صرف سیاسی بین الاقوامی انجمن نہیں ہے  بلکہ اس کے ساتھ ساتھ  حالیہ سالوں میں ایک مضبوط اقتصادی تنظیم کی شکل بھی اختیار کر گئی ہے۔ انجمن  کے علاقے  اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تجارتی  حجم میں اضافہ ہو رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ سیکٹرل ڈائیلاگ ساجھے داری  کے ذریعے ترک کاروباری حضرات کے لئے علاقے میں اہم کاروباری مواقع پیدا ہوں گے۔

ترکی کی اس ساجھے داری کے اہم ترین پہلووں میں انسانی ترقی اور سیاسی تعلقات کا فروغ شامل ہیں۔ سیکٹرل ڈائیلاگ ساجھے داری کے ذریعے اقتصادی  اور  ثقافتی تعلقات جیسے مختلف شعبوں میں ترکی کے آسیان علاقے کے ساتھ تعلقات کہیں زیادہ اچھے نقطے تک پہنچ جائیں گے۔ اب کے بعد کے سالوں میں بھی ترکی آسیان کے اجلاسوں، سربراہی اجلاسوں اور وزرائے خارجہ کے اجلاسوں میں سرکاری طور پر شرکت کرے گا۔ سال 2017 سے ترکی خواہ سیکٹرل ڈائیلاگ  کی حیثیت سے ہی کیوں نہ ہو آسیان کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ یوں دکھائی دے رہا ہے  کہ آنے والے دنوں میں آسیان ،ترکی کی کثیر الجہتی پرو ایکٹیو خارجہ پالیسی  کے اہم چینلوں میں سے ایک بن جائے گی۔



متعللقہ خبریں