عالمی معیشت43

ترک معیشت میں خواتین کا کردار

عالمی  معیشت43

ترک معیشت حالیہ چند سالوں   سے  مستحکم طریقے سے  اپنی  روش پر قائم ہے   جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ  حالیہ 10 سالوں میں  ترکی میں تقریباً 65 لاکھ افراد کو روزگار میسر آیا ۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  یلدرم بایزید  یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی  و اقتصادی علوم  کے پروفیصر ڈاکٹر اردال تاناس قارا غول کے قلم سے پیش کیا جا رہا  ہے ۔

 گزشتہ ایک   سال کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے      بعض یورپی ممالک کے مقابلے میں ترکی میں   روزگار کے  مواقعوں میں  نمایاں  اضافہ ہوا ۔ سال رواں  جولائی کے مہینے میں     ترکی میں    11  لاکھ 22 ہزار افراد کو روزگار ملا جو کہ گزشتہ سال کے اسی دور کے مقابلے میں زیادہ تھا ۔

 اقتصادی ترقی  کا اثر  افرادی قوت  کی استعداد اور روزگار کے مواقع مزید بڑھانے میں  معاون ثابت ہوگا۔ بالخصوص سال رواں   کی دو سہ ماہیوں  میں   ترک معیشت میں   ترقی کا تناسب  بالترتیب 5٫2 اور 5٫1 فیصد رہا ۔

 ترقی کی یہ رفتار اور  اس کا تسلسل  آئندہ کے سالوں  میں  برقرار رکھنا  بھی ضروری ہے  جس کے لیے  ایک موثر  اور سود مند اقتصادی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے  جس میں افرادی قوت  کی  اہمیت اپنی جگہ مربوط ہے ۔

 افرادی قوت  میں اضافے کے باوجود گزشتہ دنوں  محکمہ اعداد و شماریات نے  ملک میں بے روزگاری کی شرح کا تناسب  10٫7 فیصد ظاہر کیا جس میں کمی لانے کےلیے  حکومت   نے  اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کا بھی عندیہ دیا ہے ۔

 بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پانے کےلیے   خواتین کے لیے بھی روزگار کے  مزید مواقع  پیدا کرنا ضروری ہے ۔

 گزشتہ 15 سالوں  میں ترکی میں خواتین     کو روزگار  کے بہتری اور مزید مواقع میسر آئیں گے۔ سن 2002  سے 15 سال سے  بڑی عمر کی خواتین  میں افرادی قوت کا تناسب 25٫3 تھا  جو کہ  سال رواں کے جولائی کے مہینے میں یہ تناسب  29٫3 فیصد تک بڑھ گیا ۔

 اس تناسب  میں اضافے کے باوجود   یہ صورت حال  حسب منشا٫ نہیں ہے   جس  کا اصل سبب   روزگار     کے شعبے میں خواتین کی  خاطر خواہ  عدم دلچسپی  اور انہیں در پیش مسائل   کا خاتمہ کرنا ہے ۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ  اس مسئلے کی اصل وجہ در حقیقت      دفتری اور گھریلو معاملات میں  تصادم  ہے  اس کے علاوہ بھی   اور کئی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے  یہ خواتین کا شعبہ ہائے اموری زندگی میں کم ہے ۔ حکومت   کا کام ہے کہ وہ  اس تصادم کی  روک تھام  کےلیے ایک ایسی پالیسی تشکیل دے  جس سے یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

 یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ  برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں 3 تا 5 سال  کے  درمیان بچوں  کو مونٹیسوری  میں داخل کرانے سے    معاشی زندگی میں خواتین کا تناسب بڑھا ہے  لہذا ترکی میں اگر خواتین کو ذریعہ معاش کا حصہ بنانا ہے تو ملک  کے ہر گوشے میں مونٹی سوری اسکولوں کی تعداد بڑھانا ہوگی ۔

نتیجتاً، ترکی میں  افرادی قوت  میں اضافے  کےلیے خواتین  کا کردار  بھی لازم و ملزوم ہے  جس کےلیے  حکومت کو ایک   مربوط  اور جامع پالیسی تشکیل دینا   ضروری ہے ۔

 یلدرم بایزید یونیورسٹی  کے شعبہ سیاسی و اقتصادی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر اردال تاناس قارا غول     کا جائزہ آپ نے سنا

 

 

 

 



متعللقہ خبریں