حالات کے آئینے میں 40

جرمنی میں انتخابات اور نسل پرستوں کی لہر میں تیزی کے حوالے سے ایک جائزہ

حالات کے آئینے میں 40

حقیقت یہ ہے کہ ہالینڈ، فرانس اور بیلجیم  کے بعد  جرمنی  میں بھی نسل  پرست پارٹی پارلیمنٹ میں جگہ  پانے میں کامیاب ہو گئی ہے اور یہ  جماعت یورپی پارلیمنٹ  کو  اپنے نمائندے بھیجے گی۔

 یعنی نازی ازم  کے  جنم پاتے ہوئے پورے یورپ میں   پھیلنے والی   سر زمین سے اب نازی نظریات کے حامی یورپی  پارلیمان  میں نمائندگی کریں گے۔

دراصل   دنیا  کو چاہیے کہ وہ اس  چیز    پر سوچ و بیچار کرتے ہوئے  اس گرداب سے نجات پانے کی راہیں تلاش کرے۔ لیکن   مغربی روشن خیال شخصیات  اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح  دے رہے ہیں۔

تاہم چاہے خاموش رہیں  یا نہ رہیں  ایک  دن  آئے گا  نازی ازم کا جانور آپ کے دروازے   پر دستک دے گا۔

یورپ کےاپنی آئیڈیالوجی  اور تہذیبی اقدار سے دور ہٹنے  کے ساتھ ہی  نسل پرستی اور نازی ازم نے  طاقت حاصل کرنی شروع کر دی۔

مغرب کو مغربی اعلی اقدار سے  ہمکنار کرنے والے دو عوامل پائے جاتے تھے  جن میں سے ایک  ڈیموکریسی جبکہ دوسرا  حقوق انسانی    پر اس کا  نظریہ تھا۔  لیکن سرد جنگ کے  اختتام کے بعد مغربی دنیا نے تمام تر تہذیبوں کی نشاط ہونے والی ان  دونوں اقدار کا غلط استعمال کرنا شروع کر دیا۔

اجتماعی  خبر رسانی  کے  آلات   عام ہونے لگے،  اس طرح  ایک دوسرے سے دوری پر بھی ہونے والے  انسانوں کو روزمرہ کے واقعات اور  خبروں سے بیک وقت آگاہی حاصل کرنے کا موقع  میسر آنے لگا۔  مشرقی  انسانوں نے  معلومات  تک رسائی ہونے پر انفرادی ، معاشرتی اور ریاستی طور پر   کہیں زیادہ آزادی کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

ان مطالبات نے مغرب کے  جمہوریت کے معاملے میں دو رخی ہونے کو آشکار کیا ۔ مشرقی  علاقوں  کے عوام اب اپنی  حکومتوں سے   ہر طرح کی آزادی کا مطالبہ کر نے کے ساتھ ساتھ اس  کے لیے  جدوجہد کر سکتے ہیں، ویسے  بھی انہیں ان  مطالبات کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ لیکن    ایسا ہے کہ یہ  شخصی آزادی  جب سماجی اور سرکاری سطح پر  حاصل  ہونے لگی تو مغرب نے  اچانک اپنا چہرہ   دوسری  سمت موڑ لیا۔

مغربی دنیا کے مقابلے میں  ہم مشرقی انسانوں کی آزادی اور مزید   سہولتوں  کی خواہش  مغربی مفادات کی حدود  تک تھے۔

مثال کے طور پر   ایک یورپی موٹر ساز فرم کے جرمنی اور ہندوستان کے   کارخانوں میں  ایک جیسا کام کرنے والے دو  ملازموں  کا موازنہ کرتے ہیں۔ یورپی  موٹر ساز فرمیں ،  محنت کشوں کے  یونین  حقوق  کے تحفظ کے  لیے   ہر ممکنہ کوششیں صرف کرتی ہیں۔ یہاں  تک کا جائزہ لینے سے  یہ کہنا ممکن ہے کہ مغربی سرمائے کی اولیت    منافع نہیں بلکہ  اپنے ملازمین کی  خوشحالی اور معیار زندگی  ہے، لیکن  عملی طور حقیقت  اس سے کہیں  ہٹ کر ہے۔ مثلاً  اس موٹر ساز فرم کے جرمنی  میں تیار کردہ ماڈل  اور ہندوستان، پاکستان، جنوبی کوریا   یا پھر ترکی میں  تیار ماڈل کے پوری دنیا  میں نرخ  ایک جیسے ہیں۔ لیکن  اس ماڈل کو تیار کرنے والے  محنت کشوں کی اجرتوں  کے درمیان   دنیا جہاں کا فرق پایا جاتا ہے۔ جرمنی   کا محنت کش روزانہ  اپنے گھر کو گوشت، دودھ، سبزیاں اور صحت کی عالمی تنظیم کے مطابق   خوردنی  اشیاء لیجا سکتا ہے تو ہندوستانی محنت کش    کی ماہانہ تنخواہ  جرمن محنت کش کی  ایک ہفتے  کی  اجرت سے بھی کم ہے۔

اس  متضاد صورتحال سے  سرمائے کو زیر  لب لانے  سے   انسانوں کے درمیان تفریق بازی سے کام   لینے کا  مشاہدہ ہوتا ہے۔ اسی طرح  ریاستوں کی مساوی سطح پر  خارجہ تعلقات قائم کرنے کی خواہش   بھی مغربی ملکوں  کے لیے ایک نا پسندیدہ چیز  ہے۔ یہ  سامراجی  عادات کو     جاری رکھنے کی متمنی   دکھائی  دیتے ہیں۔ ہمیشہ  اوپر سے دیکھنے اور حکم چلانے کا  تیور  ان کی پالیسیوں میں  موجود ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر  اگر آپ کسی مشرقی ملک کے سربراہ ہیں، آپ   شفاف   انتخابات کے ذریعے   عوام کے  نصف سے  زائد کے ووٹوں کو حاصل کرتے  منتخب  ہوتے ہیں اور جب آپ اپنے ملک  کے مفادات  کو  مغرب کے  خلاف تحفظ  دلانے اور ان  کے ساتھ  مساوی ہونے کا  کہنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر آپ دنیا کے برے ترین انسان بن جاتے ہیں۔

پارلیمنٹ، پریس، عدالتیں، جامعات اور خبر رسانی کا نظام آزادنہ طور پر کام کرنے کے باوجود آپ پر ڈکٹیٹر  کی مہر لگا دی جاتی ہے۔

جب آپ   ہر الیکشن میں  آزادی    کی بھوک  ہونے والے عوام کی  مزید اکثریت سے   چنے جاتے ہیں تو  پھر مغرب کی نظر میں آپ پکے ڈکٹیٹر بن   جاتے ہیں، آپ رائے دہندگان کے 52 فیصد  ووٹ لیتے ہوئے صدارتی عہدہ سنبھالتے ہیں تو  آپ ایک مشکوک انسان   بن جاتے ہیں۔  لیکن دوسری جانب  محض 31 فیصد  ووٹ  حاصل کرتے ہوئے ملکی نظم و نسق چلانے والا ایک سیاسی لیڈر  جمہوریت کا علمبردار بن جاتا ہے۔

جیسا کہ ہم نےاوپر بھی ذکر کیا ہے کہ   معلومات  تک  باآسانی رسائی  کا موقع ملنے  پر تمام تر دیواریں مسمار ہو چکی  ہیں ، یعنی  ترکی کا ایک  چرواہا  اور ہیمبرگ کا ایک جرمن سیاستدان  ان معلومات سے     بیک وقت     استفادہ کر سکتا ہے اور حق بجانب طور پر  ترک  چرواہا   اس میں غلطیاں  موجود ہونے کا انداز کر لیتا ہے۔

یہ  اپنے اتحادی اورحصہ دار  مغربی سے دریافت کرتا ہے کہ  آیا کہ مغرب کیوں  بالا دستی کے مؤقف کو اپنائے ہوئے ہے۔  مشرق سے سوالات اور مطالبات ِآزادی میں  کثرت آنے سے  مغربی  سیاستدان  قوم پرست    بیانات  دینے لگتے ہیں۔

مغرب  کی   بڑی سیاسی جماعتیں، سیاسی مقبولیت اور اقتدار کی حرص    کی خاطر چھوٹی نسل پرست جماعتوں  کے نظریات  کا سہارا لینا شروع کر دیتی ہیں۔  ڈیموکریسی، انسانی حقوق   سے دور  اور گاہے بگاہے نفرت آمیز  بیانات  دینے والی  ان سیاسی جماعتوں نے  پیدیگا اور ناز ی ازم کو  از سر نو   شہہ دلانی شروع کر دی ہے۔

نہ صرف بڑی سیاسی جماعتیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ  کائناتی انسانی حقوق کی علمبردار  لیفٹ اور سوشل ڈیموکریٹ   پارٹیاں بھی نسل پرستی  اور  تحقیر آمیز   زبان کا استعمال کرنے لگی ہے۔

مغرب کے گزشتہ چوتھائی صدی کے تقریباً تمام تر سیاستدان  اس غلطی  کا ارتکاب کرتے   چلے آئے ہیں جس نے   اب  نفرت کا پہاڑ  لا کھڑا کیا ہے۔

ہالینڈ میں انتخابات ہوئے تقریباً ایک سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود نسل  پرست  فاشسٹ پارٹی  کی وجہ سے   یہاں پر حکومت کا قیام  عمل میں نہیں آسکا۔  بیلجیم کی صورتحال بھی ہالینڈ سے مختلف نہیں ہے، آسڑیا بھی  نازی ازم کے  معاملے میں  جرمنی کے ساتھ  مقابلہ کرنے کی طرح  دکھائی دیتا ہے۔ فرانسیسی سیاستدان  بھی نسل پرست بیانات سے شہرت میں اضافہ کرنے  کے  درپے رہتے ہیں۔یورپی پارلیمنٹ نے اپنے دروازے نسل پرستوں اور نازیوں   کے لیے کھول دیے ہیں۔  اسی طرح یورپ  میں  سیاسی و اقتصادی  بحرانوں   نے   اس ماحول کو مزید   تقویت  دی ہے۔

بڑے افسوس سے کہنا پڑتا  ہے کہ  نسل  پرستی اور نازی ازم   نئے دور میں یورپ کا مؤقف بنتا جا رہا ہے۔  ہم امید اور تمنا کرتے ہیں  کہ یورپی روشن  خیال شخصیات  اس خطرے سے آگاہ ہیں۔

 



متعللقہ خبریں