شمالی عراق میں ریفرنڈم ایک خطرناک فیصلہ

شمالی عراق میں ریفرنڈم: خطرناک فیصلہ جس سے سنگین نتائج مرتب ہوسکتے ہیں: ابراہیم قالن

شمالی عراق میں ریفرنڈم ایک خطرناک فیصلہ

شمالی عراق میں ریفرنڈم: خطرناک فیصلہ جس سے سنگین نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔

عربیل  میں کرد رہنما  اپنے عوام   کے سیاسی  اور اقتصادی مفادات کی خاطر  عراق کو تقسیم کرتے ہوئے اور اپنے قریبی اتحادی ممالک میں سے ترکی   سے دوری اختیار کرتے ہوئے  اپنے لیے خطرہ پیدا کررہے ہیں۔

عراقی کردعلاقائی انتظامیہ  کی جانب سے 25 ستمبر کو اپنی آزادی  کے لیے ریفرنڈم کروانے کے فیصلے  سے علاقے  اور گلوبل سطح پر  شدید  تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اساور آءندہ اس میں مزید اضافہ ہونے کا خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔عراقی کرد  اپنے آپ کو تنہا کرنے  اور اب تک  حاصل کردہ کامیابیوں  کو ناکامیوں میںتبدیل کرنے کے درپہ ہیں ۔ عربیل انتظامیہ کا   ریفرنڈم کروانے کا یہ فیصلہ   آزادی کے لیے ہے یا  اپنے ہاتھ بغداد انتظامیہ کے سامنے مضبوط کرنے کی غرض سے ہے اس بارے میں وقت ہی  روشنی ڈال سکے گا۔ لیکن ریفرنڈم کے اس فیصلے سے  خطرناک اور سنگین نتائج  برآمد ہوں گے  اور ان نتائج کو  مختلف  سطح پر محسوس بھی کیا جاتا رہے گا۔

25 ستمبر  کو   منعقد ہونے والے  قومی سلامتی کونسل  کے اجلاس  میں ریفرنڈم کو غیر قانونی  اور ناقابلِ قبول قرار دے دیا گیا۔  ٹرمپ انتظامیہ نے   اس ریفرنڈم کو  اشتعال انگیزی  اور علاقے کے استحکام کو نقصان پہنچانے سے تعبیر کیا اقوام متحدہ   کی سلامتی کونسل  نے بھی اس سے ملتا جلتا ردِ عمل  ظاہر کرتے ہوئے اس ریفرنڈم کو  ملتوی   کرنے  یا منسوخ کرنے  کی اپیل کی تھی۔یورپی ممالک اور  خلیجی ممالک نے بھی  اسی قسم کا ڈیکلریشن جاری کیا۔

عراق کی تقسیم کی حمایت کرنے والا کوئی بھی ملک نہیں  پایا جاتا، تا ہم ایک  استثنی ٰ  ضرور  ہے اور وہ  وزیر اعظم  نتن  یاہو کی  جانب سے  خود مختار کردستان  کے قیام کی کھلم کھلا حمایت  حاصل ہونا  والا اسرائیل  ہے۔

علاقے کےحقائق کو مد نظر رکھنے سے   یہ کہنا ممکن ہے کہ یہ  عمل کردوں کو خوش کرنے کے بجائے اندیشے   میں پڑنے کی ضرورت  ہونے والی  ایک مشکوک  حمایت ہے۔

اسوقت بغداد  نے آزادی ریفرنڈم کے خلاف بعض اقدام اٹھائے ہیں، ادھر ایران نے سلیمانیہ اور عربیل کے  ہوائی اڈوں کے ساتھ اپنی آمدورفت منقطع کر لی ہے۔ ترکی مختلف  تدابیر پر عمل پیرا ہے، دیگر ملکوں  کے بھی اسی مؤقف کو اپنانے کا احتمال قوی ہے۔

بلا شبہہ عراقی  کردوں  کو عربوں، ترکمانوں اور عراقی معاشرے کو تشکیل دینے والے دیگر گروہوں کی حد تک پُر  امن، محفوظ  اور خوشحال  زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ ان کو بھی اہل تشیع اور اہل سنت کی   طرح  ظالم اور جبری  منتظمین کے ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا  ،  انہوں نے عراقی معاشرے کے لیے مختلف   اشکال میں  خدمات فراہم کی ہیں۔

عربیل اور بغداد کے درمیان بنیادی تنازعات  جائز   اصولوں  پر مبنی  ہیں۔ در اصل بغداد  نے نہ صرف عراقی کرد  علاقائی  انتظامیہ  بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ترکمانوں اور سنی عربوں کو   تحفظ اور سیاسی  معاملات کے حوالے سے دیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔  مالکی کی دونوں حکومتوں  کی مذہب پرست پالیسیوں نے   عراقی معاشرے کے درمیان اتحاد قائم کرنے  کے لیے لازمی  ہونے والی امیدوں پر پانی پھیرا ہے۔  کردوں کو بھی سنی عربوں اور ترکمانوں کی طرح  غیر ذمہ دار اور مہنگی پالیسیوں سے نقصان پہنچا ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ    عراقی کردوں کو عراق  میں سن 2003 کے امریکی قبضے کے بعد اپنے مصائب   دور کرنے کےلیے  کوئی  خاص حیثیت  حاصل نہیں تھی  البتہ، شمالی عراقی انتظامیہ  نے  عراق  کی 10 سالہ انارکی اور منتشر صورت حال کے بر خلاف  اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں   جن میں   پارلیمان، پرچم،فوج،کسٹم چوکیاں   اور  کرنسی نوٹوں   وغیرہ جیسی سہولیات حاصل ہیں۔یہ بات قابل  توجہ ہے کہ عراق کے کسی اور نسلی گروہ کو یہ سہولت حاصل نہیں لیکن اس ریفرنڈم  کے بعد شمالی عراقی انتظامیہ نے اپنے پیر پر خود کلہاڑی مارنے  کا ارتکاب کیا ہے۔

 کسی بھی ملک میں بسے ہر نسلی گروپ   کو   اپنے مخصوص علاقے  کا    ارباب  اختیار  بنایا  جانا   خطرنکا ہو سکتا ہے  کیونکہ اس کا انجام  منطقی نہیں ہوگا۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہوتا تو امریکہ،یورپ،افریقہ اور ایشیا٫ میں ہزاروں نسلی گروہ اپنی اپنی ریاست لیے بیٹھ جاتے  ۔

  دنیائے حاضر میں   انسانوں کے  سماجی،سیاسی اور اقتصادی  مسائل کو   علاقائی  افہا  م وتفہیم  اور  اقوام کے مفاد میں  حل کرنا زیادہ بہتر امکان ثابت ہو سکتا  ہے جس کےلیے   چھوٹی چھوٹی ریاستوں  کا مطالبہ  غیر ضروری ہوگا۔

 عراقی کردوں  کے جائزمطالبات عراق کی علاقائی سالمیت  اور سیاسی حاکمیت  کے دائرے میں پورا کرنا ضروری ہے ۔ عراق    کے ٹکڑے  ہونا ،خطے کو ویسے ہی  سلامتی کے  خطرات سے دوچار کرنے کےلیے کافی ہوگا جبکہ  عراقی آئین کا  بھی یہ ماننا ہے کہ  اس غیر قانونی ریفرنڈم کو دنیا کا کوئی بھی ملک یا ادارہ قبول نہیں کرے گا۔

دوسری طرف اس پہلو پر بھی زور دینا ضروری ہے کہ حزب اختلاف نے عراق کے کردوں کو ہدف نہیں بنایا۔ ترکی نے مشکل ترین حالات میں بھی سیاسی و اقتصادی حوالے سے عراق کے کردوں کا ساتھ دیا ہے۔  تاہم اربیل کے کرد رہنما اپنی عوام  کے سیاسی و اقتصادی مفادات  کو عراق  کو تقسیم کرنے کی کوششوں سے  اور خود کو  اپنے قریب ترین اتحادی یعنی ترکی سے دور کر کے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

ریفرینڈم  ایک تو بذات خود  غیر قانونی  اور پُر مسائل تھا اس پر طرّہ یہ کہ  اس نے متنازع علاقے عراقی کرد علاقائی انتظامیہ  کی حدود سے باہر واقع علاقے کیرکوک  کو بھی اپنے  اندر سمیٹ کر  صورتحال کو اس علاقے کے رہائشی ترکمینوں اور عربوں کے حوالے سے  اور بھی خراب بنا دیا ہے۔ عراق کے ترکمینوں کے ساتھ ایک خصوصی تعلق ہونے کی وجہ سے ترکی کیرکوک کی پیش رفتوں کے بارے میں زیادہ اندیشے محسوس کرنے کے معاملے میں حق بجانب ہے۔ کیرکوک میں ڈیموگرافک ساخت کو تبدیل کرنے کی کوششیں بذات خود  ایک خطرناک پالیسی تھی۔ کیرکوک میں ریفرینڈم کا انعقاد اس تاریخی شہر میں بعض نسلی  کشیدگیوں اور جھڑپوں کو ہوا دے سکتا ہے۔ یہ پالیسی  جس کے لئے نقصان دہ ہو گی وہ صرف اور صرف عراقی کرد علاقائی انتظامیہ اور اس کی قانونی جائز حیثیت ہے۔



متعللقہ خبریں