حالات کے آئینے میں 39

روشنی کو مائکرو چپ میں محفوظ کرنے کی ایجاد سے توانائی کی جنگوں کا خاتمہ ہو جائیگا، ایک تجزیہ

حالات کے آئینے میں 39

  مختار نامے کے ساتھ جنگیں  یورپ میں  پھیلنے والی نسل پرستی، جرمن   سیاست میں سرعت سے نازی ازم کی  واپسی اورمشرق وسطی  میں ختم نہ  ہونےو الی جنگیں بنی انسانوں  کی مستقبل کی امیدوں  پر مسلسل منفی اثرات  پیدا کر رہی ہیں۔ ہماری دنیا کو کسی  آگ کے گولے میں  دھکیلنے کے لیے   بھر پور کوششیں کرنے والوں کے ساتھ ساتھ  زندہ رہنے کی امید دلانے والے لوگ بھی ضرور پائے جاتے ہیں۔

گزشتہ ایک تہائی صدی   میں ہمیں   ایک شاندار   خبر  گزشتہ دنوں  آسڑیلیا سے موصول  ہوئی، جس کے مطابق  سڈنی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے   کمپیوٹر چپ میں  روشنی کی صوتی طول ِ موج   کی شکل  میں      ذخیرہ اندوزی  کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

چونکہ  میں نے بھی طبعیات کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اس لیے یہ خبر  میرے لیے بھی   ناقابل یقین  تھی، میں نے اس خبر کے حوالے سے   فوراً تحقیق کرنی شروع کردی ۔سائنسی جریدوں  کا مطالعہ کرتے وقت جب  مجھے اس خبر کے مصدقہ  ہونے  پر  یقین  ہو گیا    تو  میری آنکھیں  کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ یہ   بالکل ایسی  ہی کیفیت تھی  کہ جیسے   کے  آپ  کی محبوبہ  نے   دعوت  شادی کو قبول   کر لیا ہو  یا  پھر جب ہم  پہلی بار باپ بنتے ہیں تو اسوقت ہمارے گہرے جذبات  ابھر کر سامنے آجا تے ہیں۔  نہ صرف میرے لیے بلکہ  یہ ، اس موضوع پر    تعلیم  یافتہ ہونے  والوں اور   علم  فزکس   پر تحقیقات کرنے والوں کے  لیے بھی   ایک  شاندار   خبر تھی،  جس کی مسرت کو بیان کرنا   ایک آسان  کام نہیں ہے۔ کیونکہ بنی نو انسان تقریباً ایک صدی سے  روشنی کو محفوظ کرنے   میں سرگرداں ہیں۔  خاص طور پر امریکی سائنسدان سن  1949 سے  ابتک اس    موضوع  پر تواتر سے کام کرتے چلے آرہے ہیں۔  اس   تحقیق پر سب سے زیادہ  وقت اور محنت  صرف کرنے والی امریکی   اکیڈمی   دنیا ہے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ترکی میں اس موضوع  پر کام  دو ہزار    کی دہائی میں شروع  ہو سکا۔ رجب طیب ایردوان   کے  اس ملک  کے  سربراہ منتخب ہونے کے  بعد اس موضوع پر   تحقیقات   کے لیے  جمہوریہ ترکی نے  بھی سنجیدہ سطح  کا بجٹ اور وقت مختص کرنا شروع کر دیا۔

گو کہ ترکی  نے اس   شعبے میں   اپنی کاروائیوں کو تاخیری سے شروع  کیا ہے تو بھی اس نے  شمسی توانائی  کے استعمال اور اس کی  بعض شعاعوں کو دفاعی صنعت میں بروئے کار  لانے والے ملکوں کی  صف میں جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ مثال کے طور پر  لیزر  شعاوں پر   تحقیقات کو       دیگر   ملکوں   کے اس پر امور کے آغاز کے 50 سال بعد  شروع کرنے کے باوجود  اسوقت اس شعبے کی حاصل کردہ پیش رفت   پینٹاگون کے ساتھ رقابت قائم کر سکنے کی سطح تک  پہنچ چکی ہے۔

دنیا   اس خاموش  لیکن شاندار انقلابی    تخلیق  تک کیسے پہنچی،  مختصرا ً اس کے تاریخی پس منظر  اور مستقبل  میں  ہمارے لیے  خدمات  کے حوالے سے  جائزات کو پیش کرتا ہوں ۔

پاپولر سائنس جریدے  کے   مارچ سن 1949  کے شمارے  میں  اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا کہ ایم آئی ٹی کے انجنیئر حضرات نے شمسی توانائی کا حامل ایک   گھر   تیار کر لیا ہے۔

اس میں سوڈیم سلفیٹ بھر ہوا  ایک ٹینک نصب کیا گیا ۔ یہ تیزابی نمک  32 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر  پگلنا شروع ہو گیا  اور یہ توانائی کو  پانی سے کہیں زیادہ بڑھ کر اپنے اندر محفوظ کر سکنے کی حیثیت رکھتا تھا۔ کیمیا دان ماریہ  تل کیس اور معمار ایلیا نور ریمنڈ  کی جانب سے تیارکردہ یہ نظام   سورج کی گرمائش کو  سوڈیم سلفیٹ ٹینکوں   میں محفوظ کرتا تھا جو کہ سردیوں کے ایام میں اندرونی حصوں کو گرم رکھتا تھا۔ تاہم   ان گھروں میں  مقیم  لوگ  موسم سرما میں     مطلوبہ حد تک گرمائش حاصل کرنے سے قاصر تھے ،  یہ وہاں پر چند برس قیام کرنے کے بعد  اس گھر سے نقل مکانی  کر جاتے  تھے۔

اس  حوالے سے  بعض دیگر کام  بھی کیے گئے۔ آِس بیئر   پانی کے ایک حوض کو    برف کے ایک بلاک  میں  تبدیل کرتے ہوئے  توانائی کو محفوظ کیا جانے لگا، جبکہ دن کے وقت  یہی  برف  ٹھنڈک حاصل کرنے  کے لیے بروئے کار لائی جانے لگی۔  آقویون  انرجی  کے موڈیولز بیٹریوں میں  ونڈ اور  سولر انرجی کو محفوظ کرنے  کے زیر مقصد ٹاکسک یا پھر    نہ جلنے والے   تیزابی پانی   سے استفادہ کیا گیا۔

اس طرح انسانوں نے بلا کسی  مسئلے  کے   توانائی کی ذخیرہ اندوزی کو سیکھ لیا۔ اس کے فوراً بعد  روشنی کو  روشنی کی ہی شکل میں  محفوظ  کرنے کے امور پر کام شروع کردیا گیا۔ کمپیوٹر  ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد  اس شعبے  میں  کام کرنے والی فرموں نے اس  پر مزید تحقیقات کی غرض سے  وسیع پیمانے کے اخراجات کیے اور آج بھی ان کے فروغ پر کام جاری ہے۔  لیکن   قدرت کا کرنا  دیکھیں کہ  اس کام میں کامیابی حاصل کرنا دنیا کے ایک  کونے میں واقع    ایک یونیورسٹی کے محدود وسائل   کے ساتھ  اپنے  کام کو جاری رکھنے والے ایک سائنسدان کی قسمت میں آیا۔  اس نے دنیا میں  پہلی بار  شعاوں پر مبنی   ڈاٹا کو   ایک  کمپیوٹر چپ میں   طول ِ موج کی شکل میں محفوظ کرنے   میں کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ ایجاد ، آگ، کرنسی اور بخارات والی مشینوں کی ایجاد کی حد تک  ایک اہم   سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔  آسان مفہوم  میں اگر اس کام کی تشریح کی جائے  تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ  روشنی کی رفتار کے حامل  کمپیوٹرز اب ہمارے  استعمال میں ہوں گے، ڈاٹا ٹرانسفر کا عمل بھی اسی رفتار سے  ممکن بن سکے گا۔  یہ ایجاد محض معلومات کی منتقلی اور  ان کی ذخیرہ اندوزی پر محیط ہے۔

یہ  ہماری زندگیوں میں   انقلابی تبدیلیاں لانے والی ایک ایجاد ہے، جو کہ   توانائی کےو سائل پر اپنی حاکمیت قائم کرنے کے لیے لڑی جانے والی جنگوں  کے دور کو ختم کرے گی۔ اب نسل کشی اور اجتماعی اموات    کا سامنا نہیں کرنا  پڑے گا۔  کیونکہ   روشنی کی ذخیرہ اندوزی  ، توانائی  کو جمع  کرنے  کے عمل  میں مزید آسانیاں  پیدا کرنے کا مفہوم  رکھتی ہے۔  روشنی کو محفوظ کرنے کے بعد  کا مرحلہ شعاعوں کے  ٹکراؤ یا پھر مینڈل  میتھڈ سے الہام حاصل  کرتے ہوئے     اس کی  استعداد میں  اضافہ کرنا ہو گا۔

یہ عمل  علم طب میں بھی انقلاب برپا کرے گا۔    بنیادی خلیات پر    تحقیق اور   ریشوں کی   تیاری  کے عمل کو بھی سرعت ملے گی۔ اسوقت کئی ہفتے درکار  ہونے والے ریشوں کی تیاری میں  محض  چند گھنٹے  یا پھر منٹ ہی کافی ہوں گے۔ اس سے دانتوں اور ہڈیوں کی تیاری بھی ممکن بن  سکے گی۔  جس سے  مصنوعی ہڈیوں اور امپلانٹ تیار کیے جائیں گے۔

دنیا کے   بڑے ترین مسائل میں سے ایک  خوراک کی ذخیرہ  اندوزی    ہے ،  اس عمل میں  بھی اس ایجاد سے استفادہ حاصل کیا جا سکے گا۔ علاوہ ازیں وٹامنز  کا بھی   ذخیرہ ممکن بن جائیگا۔  جس سے انسانی  بیماریوں کو رفع دفع کیا جاسکے گا۔

 جیسا کہ نیل آرمسٹانگ نے  چاند پر قدم رکھتے وقت   کہا تھا کہ "یہ ایک انسان کے لیے چھوٹا لیکن بن نو انسانوں کے لیے ایک عظیم قدم ہے" ، اسی طرح  روشنی کو مائیکرو چپ میں   محفوظ کیا جا سکنا    بنی نو انسانوں کی  ایک انقلابی    ایجاد ہے۔



متعللقہ خبریں