ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔29

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔29

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔29

پروگرام " ترکی یوریشیاء ایجنڈہ " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ۔ سوٹزرلینڈ کے قصبے کارنز مونٹانا  میں جاری قبرصی مذاکرات سے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔ہم بھی اپنے آج کے پروگرام میں قبرص مذاکرات  اور علاقے پر ان کے اثرات پر بات کریں گے۔

اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر جمیل   دوعاچ اپیک کا موضوع کے بارے میں تجزئیہ آپ کی پیش خدمت ہے۔

مسئلہ قبرص دنیا کے ایک طویل عرصے سے جاری مسائل میں سے ایک ہے ۔بحر روم کے وسط میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کا حامل یہ جزیرہ حالیہ دنوں میں ایک عالمی مسئلے کی حیثیت سے  ایک دفعہ پھر دنیا کے ایجنڈے پر ہے۔ اصل میں ماضی قریب کے دنوں میں یہ مسئلہ حل کے قریب آگیا تھا۔ جیسا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ سال 2005 میں عنان پلان پر ریفرینڈم کروایا گیا جو ناکامی پر منتج ہوا۔ ترک فریق نے عنان پلان کو قبول کیا جبکہ یونانی فریق نے اسے رد کر دیا۔ اس کے باوجود  یورپی یونین نے یونانیوں کی پیٹھ سہلائی اور  سفارتی آداب کو یک قلم رد کرتے ہوئے جنوبی قبرص  کو  یورپی یونین کا رکن بنا لیا۔

حالیہ طور پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے قبرص کے لئے نمائندہ خصوصی ایسپین بارتھ ایڈی کی نگرانی میں 28 جون کو دوبارہ قبرص مذاکرات کا آغاز کیا گیا۔ مذاکرات بھاری شکل میں تقریباً 10 دن تک جاری رہے اور ناکامی پر منتج ہوئے۔ مذاکرات میں مذاکرات کی مندرجات کو   خفیہ رکھے جانے کا فیصلہ کیا گیا  جس پر ترکی، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ اور برطانیہ نے مکمل طور پر عمل کیا۔لیکن یونان اور جنوبی قبرصی یونانی انتظامیہ نے ترک فریق کی تجاویز  اور ضمیموں کو ذرائع ابلاغ کے حوالے کر دیا۔ اس اقدام سے یونانی فریق نے ترک فریق کو اکسانے کی کوشش کی۔ علاوہ ازیں مذاکرات کے دوام کے دوران یونانی فریق نے اقوام متحدہ کے معلومات کو خفیہ رکھنے کے فیصلے کی دستاویز اور معلومات  کو اقوام متحدہ اور ترک فریق سے پہلے اور توڑ موڑ کر اپنے ذرائع ابلاغ  کو پیش کیا۔

ترک فریق نے پہلے دن سے لے کر آخر تک نفسیاتی برتری  کو برقرار رکھا۔ سنجیدہ اقدامات کئے اور اپنی تجاویز کو افشا کئے بغیر صرف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کو ان سے مطلع کیا۔ ذرائع ابلاغ کی جنگ لڑنے کی بجائے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ  کی سطح سے مفاہمت کی اسٹریٹجی پر عمل کو پیش نظر رکھا۔

رائے عامہ کو اس دفعہ ایک قومی امید تھی کہ ان مذاکرات سے کوئی سمجھوتہ طے پا جائے گا کیونکہ صرف قبرص کی ترکی اور یونانی حکومتیں ہی نہیں ، 1960 اداراتی سمجھوتے کے ضامن ملک ترکی ، یونان اور برطانیہ  بھی سالوں کے بعد  مذاکرات کی میز پر آئے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نگرانی میں سوٹزر لینڈ میں ملاقات کی۔ تاہم یہ مذاکرات  آخری لمحات میں جنوبی قبرصی یونانی انتظامیہ کے سمجھوتے  سے انکار پر  ناکامی کا شکار ہو گئے۔

قبرص میں  مسئلے کے حل  کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یونانی فریق کا ترکی کے ضامن ملک کی حیثیت سے دستبردار ہونےسے متعلق نامعقول مطالبات پر اڑے رہنا ہے۔ یہ موضوع  برحق شکل میں ترکی  کی ریڈ لائن ہے ۔کیونکہ قبرص میں پیش آنے والے تجربات نے یہ ثابت کیا کہ قبرصی ترکوں  کا وجود صرف ترکی کی ضمانت اور فوجی موجودگی سے ہی ممکن ہے۔ یہاں یہ یاد دہانی اہم ہو گی کہ 1974 میں قبرص سمجھوتوں کے برخلاف اینوسیس کے حق میں بغاوت کی گئی اور ترکوں کو قتل کیا گیا۔ لیکن اس قتل عام کے باوجود دیگر ضامن ملک برطانیہ نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ دوسری طرف یورپی یونین کے قریبی جغرافیہ یعنی بوسنیا، کوسووا اور یوکرائن میں ہونے والی فوجی جھڑپوں ماور قتل عاموں کو روکنے کے لئے یونین کی نااہلی اور عدم دلچسپی بھی سب کے سامنے ہے۔ نسلیت پرستانہ نظریات کے حامل یونانیوں کو آنے والے دنوں میں بین الاقوامی کوٹوں کے کسی موقع سے استفادہ کرنے سے روکنے والی واحد چیز ترکی کی ضمانت اور قبرص  میں اس کی فوجی موجودگی ہے۔ بین الاقوامی برادری اگر حقیقی معنوں میں قبرص میں ایک پائیدار حل کی خواہش مند ہے تو اسے یونانیوں کو قائل کرنا چاہیے۔

قبرص کا جزیرہ ترکیک ے جنوب میں واقع اور ترکی کے ساحلوں سے نہایت درجے قریب جزیرہ ہے۔ اپنے اسٹریٹجک  محل وقوع اور قدرتی وسائل کے حوالے سے بحر روم کے اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب بحر روم  میں روس کی کاروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور پوری دنیا علاقے کو ایک اسٹریٹجک نقطے کے طور پر دیکھ رہی ہے ترکی سے اس بات کی توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ  قبرص میں اپنے حقوق سے پیچھے ہٹے گا۔ اس نقطے پر ترکی کا لندن اور زیورخ سمجھوتوں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی مفہوم نہیں ہو سکتا۔

اس وقت ہم جس مقام پر ہیں وہاں مسئلہ قبرص کے لئے اقوام متحدہ کے پیرا میٹر کے اندر کسی حل کا امکان تقریباً تقریباً  موجود نہیں ہے۔  نئی پالیسیوں  اور تمام فریقین کے طرف سے قبول کردہ نئے اہداف  سے متعلق انفراسٹرکچر کا سرعت سے تشکیل دیا جانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ اگر دو علاقائی، دو معاشروں والی ، دو مساوی اسٹیٹس اور مساوی سیاسی حیثیت والی بانی حکومتوں پر مبنی ، ترک فوجیوں کی زیر نگرانی، ترکی کی عملاً اور موئثر ضمانت  والی، زمین و ملکیت پر کسی قسم  کی چھوٹ کے بغیر، ٹرم وائز صدارت  کی شقوں پر مبنی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جاتا تو مذاکرات کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس مقام پر 34 سال سے اپنے وجود کو برقرار رکھنے والے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کا یک طرفہ طور پر خود کو تسلیم کروانے کے لئے اقدامات زیادہ مفید ہو سکتے ہیں۔ یعنی کہنے کی بات یہ کہ اگر حالیہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں تو یہ دنیا کا آخر نہیں ہے ۔ ترک  قبرص میں باوقار معاشرے کے طور پر جینے کے راستوں کو تلاش کرلے گا اور اس میں کامیاب ہو جائے گا۔



متعللقہ خبریں