قدم بہ قدم پاکستان - 38

آئیے! آج آپ کو تونسہ بیراج لیے چلتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 38

قدم بہ قدم پاکستان - 38

آئیے! آج آپ کو تونسہ بیراج لیے چلتے ہیں۔

پاکستان اپنے سمندر، دریاؤں، ڈیموں، نہروں اور بیراجوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم کو انفرادیت حاصل ہے۔ پاکستان کا نہری نظام دنیا کا بہترین نہری نظام ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بہترین بیراج ہیں جو اپنی خصوصیات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔

تونسہ بیراج کالا باغ ہیڈ ورکس سے تقریباَ100کلو میٹر جنوب کی طرف دریائے سندھ پر واقع ہے۔ یہ پاکستان کا پندرھواں اور دریائے سندھ کا چوتھا بیراج ہے جو 1958ءمیں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیر پر تیرہ کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔تونسہ بیراج سے دو نہریں نکالی گئی تھیں جن میں ایک ضلع مظفر گڑھ اور دوسری ڈیرہ غازی خان کو سیراب کرتی ہے۔ اس بیراج سے لاکھوں ایکٹر اراضی سیراب ہونے کے علاوہ دیگر کئی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اس بیراج کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان تک جانے کے لیے خشکی کا راستہ نکل آیا ہے اور پختہ سڑک کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان کا دوسرے علاقوں سے براہ راست تعلق قائم ہو گیا ہے۔

تونسہ بیراج آب پاشی کے لئے بنایا جانے والا منفرد بیراج ہے۔ بیراج پر مٹی کے پانچ بند بنے ہوئے ہیں۔ تونسہ بیراج میں تقریباً سترہ ایکڑ رقبے پر پانی کا ذخیرہ ہے۔ اس میں مختلف اقسام کی آبی حیات موجود ہیں جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ موسم سرما میں یہاں پرندوں کی بہت سی اقسام بسیرا کرتی ہیں۔

تونسہ بیراج کے اردگرد کا علاقہ زرخیز زمین پر مشتمل ہے۔ جہاں کسان گنا، کپاس اور گندم کاشت کرتے ہیں جبکہ درختوں کی نئی نسلیں بھی متعارف ہو چکی ہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے خود رو جھاڑیوں میں پلچھی کی تعداد زیادہ ہے۔ درختوں اور کھیتوں نے اس علاقے کے حسن کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ تونسہ بیراج کو رامسر آب گاہ کا درجہ حاصل ہے۔یہ درجہ اسے22مارچ1996ءکو حاصل ہوا۔ اس کا رامسر سائٹ نمبر 817 ہے۔ رامسر آب گاہ کا درجہ حاصل ہونے کے بعد تونسہ بیراج کی اہمیت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ تونسہ بیراج اب آبی حیات پر تحقیق کا اہم مرکز ہے۔ 1983ءسے تحقیق کا کام تیز ہو چکا ہے۔

یہاں آنےوالے مہمان پرندوں کے شماراور ان کی عادات و خصائل پر تحقیق کے علاوہ ”ڈولفن منصوبے“ پر محکمہ ماہی پروری کافی کام کر رہا ہے۔ ہجرت کر کے آنے والے پرندوں خاص طور پر بگلوں پر تحقیق کا کام جاری ہے۔ یہاں محکمہ جنگل حیات کی طرف سے مصنوعی گھونسلے بھی بنائے گئے ہیں۔ مہمان آبی پرندوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے اور ان کی آبادی میں اضافے کے لئے کیے جانے والے اقدامات قابل تحسین ہیں اور ان اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ یہاں بڑے پیمانے پر ماہی پروری سے ہر سال کروڑوں روپے حاصل ہوتے ہیں۔ اس علاقے میں چولستانی ہرن بھی موجود ہیں۔

تونسہ بیراج میں پانی کی مقدار کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ جب دریائے سندھ میں پانی کی مقدار بڑھتی ہے تو تونسہ بیراج کے آبی ذخیرے میں پانی پانچ میٹر تک بلند ہو جاتا ہے لیکن سردیوں کے موسم میں پانی کی گہرائی صرف ایک میٹر تک رہ جاتی ہے۔ گرمیوں میں پانی کی زیادہ مقدار اور سردیوں میں مہمان پرندوں کی آمد سے یہاں گہما گہمی رہتی ہے۔ تونسہ بیراج کا پانی، یہاں موجود آبی و جنگلی حیات، کھیت اور کھلیان سیاحوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہیں۔

آئندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور خوبصورت مقام پر لے چلیں گے۔ تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجیے۔ اللہ حافظ۔

 



متعللقہ خبریں