پاکستان ڈائری - 38

پاکستان ڈایری میں اس بار ملاقات کریں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن افشین ذیشان سے

پاکستان ڈائری - 38

پاکستان ڈائری - 38

 پاکستان ڈایری میں اس بار ملاقات کریں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن افشین ذیشان سے وہ کمیونٹی ورک کرتی ہیں اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی وزٹنگ فیکلٹی میں گورنمنٹ اور پبلک پالیسی کا مضمون پڑھاتی ہیں۔ 

افشین لاہور میں پیدا ہوئیں والد کام کے سلسلے میں کراچی شفٹ کرگیے تو بچپن کا بیشتر حصہ کراچی میں گزرا  وہ کلاس نہم میں تھیں تو انکے والدین اسلام آباد شفٹ ہوگئے اور اسکے بعد سے اعلی تعلیم انہوں نے اسلام آباد راولپنڈی سے حاصل کی۔

راولپنڈی میں عابد مجید روڈ کالج سے ایف ایس سی کیا،بیچلرزشماریات معاشیات اور میتھس میں گورنمٹ کالج سے کیا اور رول آف آنر حاصل کیا۔ ایم بی اے قاید اعظم یونیورسٹی سے کیااور انہیں یہاں بھی رول آف آنر ملا۔غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا خوب انعامات جیتے۔ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگیں اور گھریلو سماجی مصروفیات کے ساتھ ساتھ حال ہی میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ایم فل کیا ۔

ٹی آر ٹی سے بات کرتےہوئے افشین ذیشان نے کہا کہ میرے والدین ڈویلپنمٹ سیکٹر میں کام کرتے رہے تو انہیں دیکھ کر ہی شوق پیدا ہوا کہ تعلیم کرییر کے ساتھ دکھی انسانیت کے لیے کام کرنا بہت ضروری ہے۔وہ کہتی ہیں شادی کے بعد شوہر ،سسرال اور اپنی جڑواں بیٹوں کو بھرپور ٹایم دیا ۔جب بچیاں بڑی ہوئیں اور روٹین سیٹ ہوگی تو میں نے دوبارہ سماجی کاموں کا بھرپور آغاز کردیا۔

سسرال والوں نے ہمیشہ بہت تعاون کیا تو میں نے سوچا کیوں نا گھر والوں اور دوست احباب کے ساتھ ایک گروپ تشکیل دیا جایے اور جس سے ہم دیگر افراد کی مدد کریں۔میں کویی این جی او نہیں رن کررہی ۔ابتدائی طور پر یتیم خانوں شیلٹر ہومز کے ساتھ کام شروع کیا۔مقصد بچوں کو سپانسر کرنا،ان کے لیے تفریحی سرگرمیوں کا انعقاد کرنا شامل تھا۔اس کے بعد میں نے صحت کے شعبے میں کام کیا۔فری میڈیکل کیپمس لگایے اور کم آمدن والے طبقے کے لیے ادویات فراہم کرنے کا کام کیا۔

افشین ذیشان کہتی ہیں کہ میں نے کبھی این جی او بنانے کا نہیں سوچا کیونکہ اس طرح سے امداد کے پیسے آفس مینٹینس میں لگ جاتے ہیں۔میں چاہتی ہوں ہم بنا دفتر بنایے ہی لوگوں کی مددکرتے رہیں۔لیکن میں اور میرا گروپ ہم فلاحی اداروں اور این جی اوز کے ساتھ مل بھی لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ہم کوشش کرتے ہیں امداد کچھ اس طرح کریں کہ اگلا شخص اپنا روزگار کمانے لگ جایے۔

وہ کہتی ہیں ہم کیئرنگ کمیونٹی کے نام سے کام کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ بہت سے رضاکار کام کرتے ہیں۔جن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی نیکی کی تشہیر بھی نا کی جایے۔ابھی ہم نے جشن آزادی پر یتیم بچوں کے ساتھ فنکشن آرگنایز کیا ۔جس میں ہم سب نے مل کر آزادی کے گیت گائے بچوں نے خوبصورت ڈیبلو پیش کئے ۔کیئرنگ کمیونٹی کے رضاکاروں نے بہت سے بچوں کی سپانسر شپ کی زمہ داری اپنے ذمہ لے لی۔وہ کہتی ہیں کہ کوشش ہے کہ ہم معاشرے میں اس طبقاتی فاصلے کو ختم کردیں۔یتیم خانوں میں رہنے والے بچے کسی سے کم نہیں ہیں وہ بھی ہمارے بچے ہیں ہمیں ان کی تعلیم کے لیے آگےآنا چاہیے۔

افشین نے ایک سال نیشنل ڈیزاسٹر منجیمنٹ اتھارٹی پی ایم آفس میں کام کیا۔اسکے بعد ایف ایم 96 پر بطور پروڈیوسر اور اینکر خدمات انجام دیں۔ بعدازاں بطور ریسرچ آفیسر این ڈی یو جواین کیا۔ ایم فل گورنمنٹ اور پبلک پالیسی میں کیا اور انکا مقاملہ ڈیزاسٹر  ریسک ریڈکشن پالیسی ان پاکستان تھا۔وہ کہتی ہیں ہمارے ملک میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے ادارے قایم ہیں پالیسی بھی ہیں لیکن عمل درامد نہیں۔ہم لوگوں کو تیار نہیں کرتے کہ خدانخوستہ قدرتی آفات کی صورت میں کیا کرنا ہے۔

۔ افشین نے تھائی لینڈ میں نویں انٹرنیشل کانفرنس ان سوشل سائنسز میں اپنا ریسرچ پیپر جینڈر سینسویٹی ان ڈیزاسٹر ریڈکشن پریزنٹ کیا۔حال ہی میں افشین امریکا وزٹ کرکے آئی ہیں اور وہاں پر سی لیول کانفرنس بائے یونیسکو میں موسمیاتی تبدیلیوں کہ سطح سمندر اور کوسٹل ریزیلنس پلانز پر  مقالہ پڑھا ۔وہ کہتی ہیں ساحلی علاقوں پر لوگ خود کو سونامی سے کیسے بچا سکتے ہیں یہ سب ہمارے ابتدائی وارنگ سسٹم پر منحصر ہے۔لوگوں کو اگاہی دینا ضروری ہے کہ وہ قدرتی آفات کے آنے سے پہلے خود کو کیسے تیار کریں اور محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں۔وہ کہتی ہیں ایمرجنسی کے لیے ہر وقت ایک بیگ تیار ہونا چاہیے جس میں پیسے دیگر ضروری اشیا ہوں تاکہ باوقت ضرورت انسان خالی ہاتھ نا رہ جایے۔

افشین کہتی ہیں فارغ اوقات میں وہ کیلی گرافی، شاعری اور پینٹنگ کرتی ہیں اور حالات حاضرہ پر کالمز بھی لکھتی ہیں۔اگے پی ایچ ڈی کا بھئ پلان کررہی ہوں۔وہ کہتی ہیں جب ادارہ پختہ ہو انسان سب کچھ کرسکتا ہے۔خواتین کو اپنے گھر اور بچوں کے ساتھ ان بچوں کا بھی خیال کرنا چاہیے جن کے والدین نہیں ہیں اور وہ شیلٹرز ہوم میں رہتے ہیں۔ہم گھر کے ساتھ ساتھ سماجی فلاحی سرگرمی کو بھی ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔وہ کہتی ہیں اب میں پڑھاتی بھی ہوں میں نے یوتھ میں بہت پوٹینشل دیکھا ہے انشاءاللہ پاکستان کا مستقبل بہت اچھا ہے۔

 



متعللقہ خبریں