عالمی معیشت38

ترک تجارت کا بڑھتا برآمداتی حجم

عالمی معیشت38

سال رواں   کی دوسری سہ ماہی  میں  ترک  معاشی ترقی کی شرح کا تناسب 5٫1 فیصد رہا  جس کا اثر  تیسری سہ ماہی پر بھی مثبت انداز  میں پڑا ۔ گزشتہ سال   ملک میں ناکام  فوجی بغاوت   نے جہاں ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے  وہیں حکومت کی  بر وقت پالیسیوں نے  معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا  اور سال رواں میں  ترک معیشت  پھر سے پھلنے پھولنے لگی ۔

 سال رواں کی دوسری  سہ ماہی  میں اگر اس شرح تناسب پر نظر ڈالی جائے  تو معلوم  ہوتا ہے  کہ  اس دوڑ میں  چین 6٫9 فیصد کے ساتھ سر فہرست  ہے جس کے بعد  5٫7 فیصدکی ترقی کے ساتھ بھارت     کا نام آتا ہے۔  جی ٹوئنٹی  ممالک   کے  درمیان  درجہ بندی کے لحاظ سے ترک  معاشی ترقی     5٫1 فیصد کے ساتھ  تیسرے نمبر پر ہے  لہذا  یہ کہنا ممکن ہوگا کہ  ترکی نے عالمی  اقتصادی   طاقتوں  کے درمیان  ایک اہم کامیابی اپنے نام کی ہے ۔

 ترقی   کی اس دوڑ میں جن شعبوں کو تقویت حاصل ہوئی ان میں   مواصلاتی شعبہ سر فہرست رہا  جس میں 10٫1 فیصد ترقی دیکھنے میں آئی اس کے بعد 9٫4 فیصد   ترقی کے ساتھ مالیاتی  شعبہ ،6٫8 فیصد کے ساتھ  شعبہ تعمیرات اور 6٫3 فیصد ترقی کے ساتھ  صنعتی شعبہ قابل ترجیح رہا ۔

 اس ساری صورت حال  میں  اقتصادی ترقی میں  اہم کردار کریڈت گارنٹی فنڈ    کا بھی عمل دخل رہا  جس کے چھوٹے تاجروں سے تعاون   نے  پیداواری  اعداد و شمار   میں اضافے  کو تقویت دی  جس کی بہترین مثال حالیہ 6٫3 فیصد کا اضافہ ہے ۔

  یہ بھی کہنا   ضروری  ہے کہ  اس پیداواری  ترقی میں  برآمدات      کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے   ۔ سال رواں کی دوسری سہ ماہی  کے دوران  برآمداتی حجم   میں  اضافہ گزشتہ سال کے اسی دور کے مقابلے میں 10٫5 فیصد بڑھا  جس کا سہرا  کے جی ایف   کے  تعاون کو بھی جاتا ہے۔

 اقتصادی ترقی  کے تسلسل کو برقرار رکھنے کےلیے  قرضوں کو برآمداتی امور  میں    اضافے  کےلیے قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے  کیونکہ    معاشی ترقی   میں استحکام اور اس شعبے کو   تقویت دینےکےلیے  ایسی مصنوعات تیارکرنا ہونگی  جن   کی عالمی بازار میں  طلب اور  قدرو قیمت زیادہ ہو۔  یہاں یہ بھی  کہنا بہتر ہوگا کہ   ملکی ترقی   میں اضافےکے لیے    ملکی  طلب  کے ساتھ ساتھ برآمداتی حجم میں  بھی  اضافے  کو  ترجیح دینا ہوگی ۔

برآمدات کے علاوہ   اس ترقی میں  غیر ملکی سرمایہ  کاری   کو بھی خاصی توجہ حاصل رہی  جس کے نتیجے میں 9٫5 فیصد  کا اضافہ دیکھنے میں آیا    ۔ یہ بھی کہنا ضروری ہوگا کہ اس ترقی   میں   ملک میں ہونے والے صدارتی  ریفرنڈم کے نتائج اور  بعد کی قابل اعتماد  صورت حال     کا بھی کافی عمل دخل رہا ہے   جس میں مزید اضافےکے لیے  یہ ضروری ہے کہ  اس شعبے کو  طویل المدت بنیادوں پر  تعاون فراہم کیا جائے۔

 نتیجتاً  ترک معیشت نے  سال رواں   کی  دوسری سہ ماہی   کے دوران   جس کامیابی کا مظاہر ہ کیا ہے اگر اس کا تسلسل برقرار رکھا گیا  تو  یہ کہنا مناسب   ہوگا کہ    ترقی کی یہ رفتار  سال کی آخری شش ماہی میں بھی جاری رہ سکے گی  لہذا  اس بات کا قومی امکان ہے   کہ   سال رواں کی مجموعی  ترقی کا تناسب  4٫4 فیصد کے لگ بھگ  رہ سکتا ہے ۔

 

 

 


ٹیگز: تجارت , ترک

متعللقہ خبریں