حالات کے آئینے میں 37

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف حکومتی جارحیت اور ان کی حالت زار پر ایک جائزہ

حالات کے آئینے میں 37

دو ہزار کی دہائی میں میانمار  کی  فوجی  انتظامیہ   کی جانب سے ملک میں  جمہوریت اور فکری آزادی  کے خلاف  جرائم کا ارتکاب کرنے  کے حوالے سے خبروں نے عالمی  خبر رساں ایجنسیوں میں جگہ پائی تھی۔ جس پر میں  اپنے  پیشے  کے  تقاضے کے مطابق  اس ملک  گیا۔ ملک میں فوج کا راج  قائم تھا تا ہم  یہ  بھی واضح  کرتا چلوں کہ ان حالات میں بھی  میں ایک صحافی کے طور پر   کچھ زیادہ  دباؤ اور مشکلات کا سامنا کیے بغیر  اپنا کام  کر سکا تھا۔  میں نے ان   ایام میں اپنے گھر میں نظر بند ہونے والی  اور موجودہ صدر آنگ  سان سو چی   سے ملاقات  کی  راہ ڈھونڈ  ہی نکالی ۔

مغربی دنیا کی جانب سے ڈیموکریسی کی ہیرو  کے طور پر بیان کردہ  محترمہ چی  در حقیقت  قوم  پرست  بائیں بازو کے حلقوں کے زیر اثر تھیں،  لیکن   پتہ  نہیں کیوں  مغربی دنیا اس  حقیقت کے سامنے اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔  در اصل  بائیں بازو کی قوم پرستی     کے مرض سے سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنے والے مغربی ہی تھے۔

ہٹلر کی جانب سے سن 1930 کی دہائی میں  جرمنی  میں  چھیڑی گئی بائیں بازو کی قوم پرست تحریک یعنی  نازی ازم  خطہ یورپ اور دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کی جانیں لینے کا سبب بنی تھی۔

نازی ازم جیسا مرض دوبارہ یورپ    میں زور پکڑتا جا رہا ہے۔ جرمنی  میں نہ صرف سوشل ڈیموکریٹس، گرین  پارٹی اور لیفٹ گروپس  کے درمیان     بلکہ دائیں بازو کے نظریات کی حامل   سیاسی جماعتوں میں  بھی   نازی   ازم  کی  صدائیں بلند ہونی شروع ہو گئی ہیں۔

جب آپ  چانسلر  انگیلا مرکل  کے انتخابی  مہم کے دوران      پیش کردہ  تقریروں کے متن اور آدولف ہٹلر   کے بیانات  کے ساتھ موازنہ کریں گے تو  میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ آپ بھی   ان میں   کئی مماثلتوں کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ  یہی مرض دیگر یورپ ملکوں میں  قدم بہ قدم سرایت کرتا چلا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ "جمہوریت کے گہوارے اور مغربی  تہذیب کے وارث"  ہونے   پر اپنے آپ پر فخرکرنے والے مغربی  یورپ اور خاصکر یورپی یونین  میانمار  حکومت کے باقاعدہ   قتل عام  اور نسل کشی  کو دیکھنے   سے قاصر ہے۔

یورپ اور یورپی یونین کی جانب سے 2 ہزار  کی دہائی کے اوائل میں نظریاتی  آزادی نہ ہونے کے  جواز  میں  میانمار  پر دباؤ ڈالا گیا  تھا،  لیکن اب  موجودہ جارحیت پران کے  خاموشی دھارنے کی وجہ آخر کار کیا ہو سکتی ہے؟

دنیا میں ایک اعلی مقام  کی حامل نوبل ایوارڈ کمیٹی  آیا کہ  قتل عام کا حکم دینے والی میانمار کی   عملی صدر آنگ سو چی کو دیے گئے امن ایوارڈ  کے حوالے سے دوبارہ  نظرِ ثانی کرے گی؟

جمہوریہ ترکی کے صدر  رجب طیب ایردوان نے بنگلہ دیشی حکومت سے 'روہنگیا  کے مہاجرین کو پناہ دینے استدعا کی اور دنیا بھر کے سامنے  اعلان  کیا کہ ترکی ، مہاجرین کے تمام تر اخراجات برداشت کرے گا۔ در حقیقت دو مسلمان ممالک  ملیشیا اور انڈونیشیا  روہنگیا والوں کے پڑوس میں   واقع ہیں۔   جن کے مسلمانوں کی  ایک کثیر تعداد سعودی عرب جاتے ہوئے مذہبی   فرائض کی ادائیگی  بڑھ چڑھ کر  کرتی ہے۔

آج، دنیا کی طاقتور ترین اقتصادیات کا درجہ رکھنےو الی خلیجی ممالک  کی جانب سے    مشترکہ طور پر واحد آواز کا بلند نہ ہونا  باعث ِ شرم ہے۔

روہنگیا والے  دنیا  کی سب سے بڑی "بلاوطن کے"  اقلیت ہیں۔  بچوں کی پیدائش کے اندراج، وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے پاسپورٹ ، حق و حقوق   کا تحفظ   مانگے جا  سکنے والی  عدالتوں  کی طرح کے بنیادی  انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ ان کی یہ حیثیت میانمار کے اعلان ِ آزادی کرنے کے  دن سے ابتک  ٹھیک 60 برسوں سے جاری ہے۔

خوراک   کے بھی  فقدان  کا سامنا کرنے والے  مسلمانوں کے   قیام پذیر ہونے والے علاقے میں  قدرے  مہنگے  اور جدید اسلحہ سے لیس "روہنگیا فوج ِ نجات"  نامی ایک تنظیم منظر ِ عام پر آئی۔  ان کی گھناؤنی کاروائیاں  مغربی    نژاد   دہشت گرد تنظیم  داعش سے  اس  قدر  مشابہہ  ہیں   کہ گو کہ  میانمار  فوج  اور  اس تنظیم کے خلاف نبرد ِ آزما ہے لیکن    مرنے والے شہری  ہی ہوتے ہیں۔  مزید برآں  یہ  ابھی تک    مردہ یا زندہ    کوئی ایک دہشت گرد بھی  نہیں پکڑ سکی۔

تازہ کاروائی میں بھی ایک بار پھر    اس جنگ کا  سب سے زیادہ  بدلہ  معصوم شہریوں کو ہی اٹھانا پڑا۔  کم ازکم  تین ہزار روہنگیا مسلمان  اپنی جانوں سے ہاتھ دھو  بیٹھے ہیں۔  فوج  پر تشدد کاروائیوں میں مزید تیزی لا رہی ہے تو  یہ تقریباً روزانہ ہی  20  کے قریب دیہاتوں کو نذرِ  آتش کرتے ہوئے  ان کے وجود کا خاتمہ کر رہی ہے۔  لیکن  ان  کی قطعی    تعداد کا تعین کر سکنا   نا ممکن   ہے۔ اس سے پیشتر    جھڑپوں کے آغاز سے ابتک 2  تا 3 ہزار  افراد  کے ہلاک  ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں ، تا ہم  یہ محض تعین کی جا سکنے والی تعداد ہے۔

جو کہ اصلی تعداد کی عکاسی نہیں کرتی ، کیونکہ  گزشتہ ایام میں محض بوتھی داؤنگ  علاقے کے چند دیہاتوں  میں تقریباً 1500 افراد کا قتل عام ہونے کی خبروں کی   آزاد  خبر ایجنسیوں   نے اطلاع دی  تھی،   اس گاؤں کے محض 400  مکین  ہی زندہ بچ سکے ہیں باقی ماندہ کو زندہ جلا دیا گیا ہے۔

میانمار   فوج  کا  اس  قتل  عام کے لیے طریقہ واردات کچھ یوں ہے:  یہ  گاؤں میں اسلحہ اور آروں   کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے  ممکنہ    حد تک انسانوں کا قتل کرتے ہیں ،  فوج کی مدد بدھ مت    راہب بھی کرتے ہیں۔باقی ماندہ  لوگ  گاؤں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں  تا ہم اب کی بار  فوج کی پہلے سے ہی  گاؤں کے ارد گرد  نصب کردہ  بارودی  سرنگوں کا ہدف بنتے  ہیں۔  اس دوران فوجی گھات لگائے  بیٹھے ہوتے ہیں،  بھاگنے والوں پر راکٹ برسانا  شروع کر دیتے ہیں اورآخر میں یہ اُس گاؤں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے نعشوں کو  بھی راکھ کے ڈھیر میں بدل دیتے ہیں۔ زخمیوں کی اکثریت تیسرے درجے   کی  حد تک  جل چکی ہے۔

اسوقت  میانمار میں باقی بچنے والے مسلمانوں کا 70 تا 80 فیصد خواتین وبچوں پر مشتمل ہے۔ منگ داع اور بوتھی دونگ علاقوں   کے نوجوانوں کی اکثریت  بنگلہ دیش اور ملیشیا  فرار ہو چکی ہے، دیہاتوں میں  خواتین اور بچے ہی باقی بچے ہیں۔ اس بنا پر   سب  سے زیادہ تشدد کا سامنا کرنے والے یہی   ہیں۔ مونگ داع علاقہ   بنگلہ دیشی سرحدوں کے کافی قریب ہے، یہاں  کے باسی   سرحدوں کارخ کر رہے ہیں۔  تا ہم ، اب کی بار  ان  کی ہی  نسل سے تعلق رکھنے والی بنگلہ دیشی حکومت  ان پر اپنے دروازے  بند کر دیتی ہے۔  وہاں پر ایک غیر جانبدار علاقہ موجود ہے جہاں پر  پناہ لینے والوں کی تعداد  انتہائی   زیادہ ہے۔  سرحدوں کے قریب  نہ  ہونے والے علاقوں  کے  مکین  جوار کے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں، ان کے پاس  فرار ہونے کا کوئی راستہ موجود نہیں ۔

سرحدوں کے قریب جانے والوں کو بنگلہ دیشی  سرحدی محافظین واپس   دھکیل دیتے ہیں  ، جن پر میانمار فوجی  فائر کھول دیتے ہیں۔

ان  تمام تر وحشیانہ و سفاکانہ    کاروائیوں کے سامنے ترکی  اور چند ایک ممالک کی دھیمی آواز کے علاوہ   دیگر ملکوں کی جانب سے خاموش

دو ہزار کی دہائی میں میانمار  کی  فوجی  انتظامیہ   کی جانب سے ملک میں  جمہوریت اور فکری آزادی  کے خلاف  جرائم کا ارتکاب کرنے  کے حوالے سے خبروں نے عالمی  خبر رساں ایجنسیوں میں جگہ پائی تھی۔ جس پر میں  اپنے  پیشے  کے  تقاضے کے مطابق  اس ملک  گیا۔ ملک میں فوج کا راج  قائم تھا تا ہم  یہ  بھی واضح  کرتا چلوں کہ ان حالات میں بھی  میں ایک صحافی کے طور پر   کچھ زیادہ  دباؤ اور مشکلات کا سامنا کیے بغیر  اپنا کام  کر سکا تھا۔  میں نے ان   ایام میں اپنے گھر میں نظر بند ہونے والی  اور موجودہ صدر آنگ  سان سو چی   سے ملاقات  کی  راہ ڈھونڈ  ہی نکالی ۔

مغربی دنیا کی جانب سے ڈیموکریسی کی ہیرو  کے طور پر بیان کردہ  محترمہ چی  در حقیقت  قوم  پرست  بائیں بازو کے حلقوں کے زیر اثر تھیں،  لیکن   پتہ  نہیں کیوں  مغربی دنیا اس  حقیقت کے سامنے اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔  در اصل  بائیں بازو کی قوم پرستی     کے مرض سے سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنے والے مغربی ہی تھے۔

ہٹلر کی جانب سے سن 1930 کی دہائی میں  جرمنی  میں  چھیڑی گئی بائیں بازو کی قوم پرست تحریک یعنی  نازی ازم  خطہ یورپ اور دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کی جانیں لینے کا سبب بنی تھی۔

نازی ازم جیسا مرض دوبارہ یورپ    میں زور پکڑتا جا رہا ہے۔ جرمنی  میں نہ صرف سوشل ڈیموکریٹس، گرین  پارٹی اور لیفٹ گروپس  کے درمیان     بلکہ دائیں بازو کے نظریات کی حامل   سیاسی جماعتوں میں  بھی   نازی   ازم  کی  صدائیں بلند ہونی شروع ہو گئی ہیں۔

جب آپ  چانسلر  انگیلا مرکل  کے انتخابی  مہم کے دوران      پیش کردہ  تقریروں کے متن اور آدولف ہٹلر   کے بیانات  کے ساتھ موازنہ کریں گے تو  میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ آپ بھی   ان میں   کئی مماثلتوں کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ  یہی مرض دیگر یورپ ملکوں میں  قدم بہ قدم سرایت کرتا چلا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ "جمہوریت کے گہوارے اور مغربی  تہذیب کے وارث"  ہونے   پر اپنے آپ پر فخرکرنے والے مغربی  یورپ اور خاصکر یورپی یونین  میانمار  حکومت کے باقاعدہ   قتل عام  اور نسل کشی  کو دیکھنے   سے قاصر ہے۔

یورپ اور یورپی یونین کی جانب سے 2 ہزار  کی دہائی کے اوائل میں نظریاتی  آزادی نہ ہونے کے  جواز  میں  میانمار  پر دباؤ ڈالا گیا  تھا،  لیکن اب  موجودہ جارحیت پران کے  خاموشی دھارنے کی وجہ آخر کار کیا ہو سکتی ہے؟

دنیا میں ایک اعلی مقام  کی حامل نوبل ایوارڈ کمیٹی  آیا کہ  قتل عام کا حکم دینے والی میانمار کی   عملی صدر آنگ سو چی کو دیے گئے امن ایوارڈ  کے حوالے سے دوبارہ  نظرِ ثانی کرے گی؟

جمہوریہ ترکی کے صدر  رجب طیب ایردوان نے بنگلہ دیشی حکومت سے 'روہنگیا  کے مہاجرین کو پناہ دینے استدعا کی اور دنیا بھر کے سامنے  اعلان  کیا کہ ترکی ، مہاجرین کے تمام تر اخراجات برداشت کرے گا۔ در حقیقت دو مسلمان ممالک  ملیشیا اور انڈونیشیا  روہنگیا والوں کے پڑوس میں   واقع ہیں۔   جن کے مسلمانوں کی  ایک کثیر تعداد سعودی عرب جاتے ہوئے مذہبی   فرائض کی ادائیگی  بڑھ چڑھ کر  کرتی ہے۔

آج، دنیا کی طاقتور ترین اقتصادیات کا درجہ رکھنےو الی خلیجی ممالک  کی جانب سے    مشترکہ طور پر واحد آواز کا بلند نہ ہونا  باعث ِ شرم ہے۔

روہنگیا والے  دنیا  کی سب سے بڑی "بلاوطن کے"  اقلیت ہیں۔  بچوں کی پیدائش کے اندراج، وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے پاسپورٹ ، حق و حقوق   کا تحفظ   مانگے جا  سکنے والی  عدالتوں  کی طرح کے بنیادی  انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ ان کی یہ حیثیت میانمار کے اعلان ِ آزادی کرنے کے  دن سے ابتک  ٹھیک 60 برسوں سے جاری ہے۔

خوراک   کے بھی  فقدان  کا سامنا کرنے والے  مسلمانوں کے   قیام پذیر ہونے والے علاقے میں  قدرے  مہنگے  اور جدید اسلحہ سے لیس "روہنگیا فوج ِ نجات"  نامی ایک تنظیم منظر ِ عام پر آئی۔  ان کی گھناؤنی کاروائیاں  مغربی    نژاد   دہشت گرد تنظیم  داعش سے  اس  قدر  مشابہہ  ہیں   کہ گو کہ  میانمار  فوج  اور  اس تنظیم کے خلاف نبرد ِ آزما ہے لیکن    مرنے والے شہری  ہی ہوتے ہیں۔  مزید برآں  یہ  ابھی تک    مردہ یا زندہ    کوئی ایک دہشت گرد بھی  نہیں پکڑ سکی۔

تازہ کاروائی میں بھی ایک بار پھر    اس جنگ کا  سب سے زیادہ  بدلہ  معصوم شہریوں کو ہی اٹھانا پڑا۔  کم ازکم  تین ہزار روہنگیا مسلمان  اپنی جانوں سے ہاتھ دھو  بیٹھے ہیں۔  فوج  پر تشدد کاروائیوں میں مزید تیزی لا رہی ہے تو  یہ تقریباً روزانہ ہی  20  کے قریب دیہاتوں کو نذرِ  آتش کرتے ہوئے  ان کے وجود کا خاتمہ کر رہی ہے۔  لیکن  ان  کی قطعی    تعداد کا تعین کر سکنا   نا ممکن   ہے۔ اس سے پیشتر    جھڑپوں کے آغاز سے ابتک 2  تا 3 ہزار  افراد  کے ہلاک  ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں ، تا ہم  یہ محض تعین کی جا سکنے والی تعداد ہے۔

جو کہ اصلی تعداد کی عکاسی نہیں کرتی ، کیونکہ  گزشتہ ایام میں محض بوتھی داؤنگ  علاقے کے چند دیہاتوں  میں تقریباً 1500 افراد کا قتل عام ہونے کی خبروں کی   آزاد  خبر ایجنسیوں   نے اطلاع دی  تھی،   اس گاؤں کے محض 400  مکین  ہی زندہ بچ سکے ہیں باقی ماندہ کو زندہ جلا دیا گیا ہے۔

میانمار   فوج  کا  اس  قتل  عام کے لیے طریقہ واردات کچھ یوں ہے:  یہ  گاؤں میں اسلحہ اور آروں   کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے  ممکنہ    حد تک انسانوں کا قتل کرتے ہیں ،  فوج کی مدد بدھ مت    راہب بھی کرتے ہیں۔باقی ماندہ  لوگ  گاؤں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں  تا ہم اب کی بار  فوج کی پہلے سے ہی  گاؤں کے ارد گرد  نصب کردہ  بارودی  سرنگوں کا ہدف بنتے  ہیں۔  اس دوران فوجی گھات لگائے  بیٹھے ہوتے ہیں،  بھاگنے والوں پر راکٹ برسانا  شروع کر دیتے ہیں اورآخر میں یہ اُس گاؤں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے نعشوں کو  بھی راکھ کے ڈھیر میں بدل دیتے ہیں۔ زخمیوں کی اکثریت تیسرے درجے   کی  حد تک  جل چکی ہے۔

اسوقت  میانمار میں باقی بچنے والے مسلمانوں کا 70 تا 80 فیصد خواتین وبچوں پر مشتمل ہے۔ منگ داع اور بوتھی دونگ علاقوں   کے نوجوانوں کی اکثریت  بنگلہ دیش اور ملیشیا  فرار ہو چکی ہے، دیہاتوں میں  خواتین اور بچے ہی باقی بچے ہیں۔ اس بنا پر   سب  سے زیادہ تشدد کا سامنا کرنے والے یہی   ہیں۔ مونگ داع علاقہ   بنگلہ دیشی سرحدوں کے کافی قریب ہے، یہاں  کے باسی   سرحدوں کارخ کر رہے ہیں۔  تا ہم ، اب کی بار  ان  کی ہی  نسل سے تعلق رکھنے والی بنگلہ دیشی حکومت  ان پر اپنے دروازے  بند کر دیتی ہے۔  وہاں پر ایک غیر جانبدار علاقہ موجود ہے جہاں پر  پناہ لینے والوں کی تعداد  انتہائی   زیادہ ہے۔  سرحدوں کے قریب  نہ  ہونے والے علاقوں  کے  مکین  جوار کے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں، ان کے پاس  فرار ہونے کا کوئی راستہ موجود نہیں ۔

سرحدوں کے قریب جانے والوں کو بنگلہ دیشی  سرحدی محافظین واپس   دھکیل دیتے ہیں  ، جن پر میانمار فوجی  فائر کھول دیتے ہیں۔

ان  تمام تر وحشیانہ و سفاکانہ    کاروائیوں کے سامنے ترکی  اور چند ایک ممالک کی دھیمی آواز کے علاوہ   دیگر ملکوں کی جانب سے خاموشی اختیار کرنا  انسانیت کے نام پر  ایک دھبہ ہے۔ جمہوریہ  ترکی کے صدر  جناب ایردوان   نے عیدقربان کے دوران عالمی   سربراہان کو ایک ایک کرکے  ٹیلی فون کیا  اور ان سے اس قتل عام کو رکوانے کے لیے   عالمی سطح پر کوششیں صرف کرنے  کی درخواست کی۔

  میری یہ دیرینہ خواہش ہے کہ میں  اس امید کا اظہار کر سکوں کہ  اقوام متحدہ  اس قتل عام کا سد باب کرنے کے لیے فوری طور پر سنجیدہ اقدامات اٹھائے  گا۔  تا ہم   اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کے رکن ممالک  کی جانب سے جھڑپوں والے علاقوں  میں خونریزی کو رکوانے کے اشارے تا حال منظر عام پر نہیں آسکے۔ میانمار کی غیر تجربہ کار  لیڈر چی  اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ ان کی طرف سے  شروع کردہ یہ نسل کشی  ان  کے ملک کو  مشکلات میں دھکیلے گی اور جب ان کو اندازا ہو گا تب  پانی  سر سے گزر  چکا ہو گا۔

میں اب کے بعد  کے تجزیے میں روہنگیا اور میانمار  کے کیونکہ جنگ  کا ایک نیا علاقہ اعلان کیے  جانے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔

ی اختیار کرنا  انسانیت کے نام پر  ایک دھبہ ہے۔ جمہوریہ  ترکی کے صدر  جناب ایردوان   نے عیدقربان کے دوران عالمی   سربراہان کو ایک ایک کرکے  ٹیلی فون کیا  اور ان سے اس قتل عام کو رکوانے کے لیے   عالمی سطح پر کوششیں صرف کرنے  کی درخواست کی۔

  میری یہ دیرینہ خواہش ہے کہ میں  اس امید کا اظہار کر سکوں کہ  اقوام متحدہ  اس قتل عام کا سد باب کرنے کے لیے فوری طور پر سنجیدہ اقدامات اٹھائے  گا۔  تا ہم   اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کے رکن ممالک  کی جانب سے جھڑپوں والے علاقوں  میں خونریزی کو رکوانے کے اشارے تا حال منظر عام پر نہیں آسکے۔ میانمار کی غیر تجربہ کار  لیڈر چی  اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ ان کی طرف سے  شروع کردہ یہ نسل کشی  ان  کے ملک کو  مشکلات میں دھکیلے گی اور جب ان کو اندازا ہو گا تب  پانی  سر سے گزر  چکا ہو گا۔

میں اب کے بعد  کے تجزیے میں روہنگیا اور میانمار  کے کیونکہ جنگ  کا ایک نیا علاقہ اعلان کیے  جانے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔



متعللقہ خبریں