ترکی کے دریچے سے مشرق وسطی 36

مشرق وسطی میں ترکمانوں کے وجود پر ایک جائزہ

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطی 36

مشرق وسطی کے علاقے میں  اہم تعداد میں  ترکمان باشندوں کا وجود پائے جانے والے  ملکوں  میں سے ایک لبنان ہے، ہم آج  کے  اس سلسلے میں لبنانی ترکمان باشندوں کا تجزیہ  پیش کر رہے ہیں۔

لبنان میں ترکوں کے وجود کا ماضی  12 ویں صدی سے تعلق رکھتا ہے۔  تا ہم جمہوریہ ترکی  کو سرکاری طورپر لبنانی ترکمانوں کے  وجود سے پہلی بار سن 1989 میں آگاہی حاصل ہوئی۔ لبنانی فوج    کے جوان ترکمان خالد اسد کے  سن 1989 میں فرائض کی ادائیگی کے دوران ترکی زبان بولنے کا ان کے کمانڈر  کو علم ہوا۔ فوجی  جوان خالد اسد کو ترک  سفارتخانے  کو لیجاتے ہوئے اس حوالے سے پہلا سرکاری رابطہ قائم   ہوا۔  بیروت  میں ترک سفیر ابراہیم دجلے لی سے ملاقات کرنے والے  اسد  نے قواشرا نامی ایک   گاؤں   میں مقیم  ایک ترکمان خاندان سے تعلق  رکھنے کا بتایا۔  جس پر سفیر  نے اس گاؤں کا دورہ کیا  اور اس طرح  ترکمانوں کے ساتھ  جمہوریہ ترکی کا پہلا  تعلق قائم ہوا۔ سن 1989 میں لبنان میں خانہ جنگی  چھڑنے کے باعث سفیر ِ ترکی کی وطن واپسی کے  دوران ان کی حفاظت کا بیڑا ترکمانوں نے اٹھایا اور انہیں طرابلس تک  باحفاظت پہنچا دیا۔  اس پہلی ملاقات کے بعد بیروت میں  تعینات کردہ  نئے سفیر نے آکار علاقے میں  ترکمانوں کے2 دیہاتوں کا دورہ کیا اور اس طرح یہ چیز ایک رسم  کی ماہیت اختیار کر گئی۔  طویل عرصے تک   ترکمانوں کی  محض آکار  علاقے میں ہی موجودگی  پر یقین رکھا گیا تا ہم  بعد میں سن 2007 میں بال بیگ اور 2011 میں دنیہ  علاقوں میں  بھی مقیم ترکمان باشندوں کے ساتھ روابط قائم کیے گئے۔

آج لبنان میں  ترکوں کے وجود اور عثمانی ورثے کا 8 عنوانات کے ما تحت  جائزہ لیا  جا سکتا ہے، یہ عنوانات  کچھ یوں ہیں: آکار ترکمان، بال بیگ ترکمان، دنیہ ترکمان، کریٹ ترکمان، لبنان میں مقیم  جمہوریہ ترکی کے شہری، اناطولیہ نژاد ترکمان ، شامی ترکمان اور سرقافی  باشندے۔

آکار لبنان کے شمالی صوبے میں واقع ہے، جہاں  پر قواشرا اور آئدامون نامی دو ترکمان  گاؤں  موجود ہیں۔قواشرا ترکی زبان کے تحفظ اور ترکی کے ساتھ پہلے تعلقات کو قائم کرنے  کی بنا پر  اس حوالے سے پیش پیش ہے۔ اس کی  آبادی  تین ہزار کے لگ بھگ ہے اور یہاں کے  تمام تر مکین  ترکمان ہیں، جبکہ 5000 نفوس کے حامل ادیامون میں 3500 ترکمان  باشندے آباد ہیں۔ ان کے  جوار میں واقع  مستہ حسن میں 350، الا دبابیہ میں  50 اور 2500 نفوس  کے حامل الا داوسی  گاؤں میں چند ایک ترکمان کنبے  آباد ہیں، اس طرح آکار میں  مقیم ترکمانوں کی مجموعی تعداد  7 ہزار سے زائد  ہے۔

بالبیگ ترکمانوں  سے ترکی کا تعارف آکار ترکمانوں کی  جانب سے ترک حکام کو بال بیگ ترکمان دیہات  سے آگاہی کرانے  کی بدولت  سن 2007 میں  ہوا۔ اس علاقے کے ترکمان  5 گاؤں اورہرمل کے جوار میں واقع ایک دیہات  میں  آباد ہیں۔ دورِس میں 700، شیمیہ میں 1200، ننانیہ میں 900، حدیدیہ میں 600، ماشاری الا قا میں 500  ترکمان باشندے زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔

اس طرح دنیہ میں مقیم  ترکمانوں کے ساتھ ترکی کے تعلقات  بال بیگ ترکمانوں کے بعد سن 2011 میں قائم ہوئے۔ اس  تاریخ تک نہ تو ترکی اور نہ ہی  ترکمان علاقوں کو  دنیہ کے ترکمانوں  کے بارے میں کوئی  معلومات  حاصل تھیں۔ دنیہ  کے  علاقوں ہوارہ میں 600 جبکہ غرحایہ میں  ایک سو کے  قریب  ترکمان  آباد ہیں۔

عصر حاضر میں 10 ہزار کے لگ بھگ جزیرہ کریٹ کے ترکوں  کے لبنان میں مقیم ہونے کا تخمینہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بیروت میں اقتصادی اسباب کی بنا پر   اس مقام کو  نقل مکانی کرنے والے 50 ہزار   ترک باشندے  آباد ہیں۔ طرابلس اور آکار میں ممتاز خاندانوں میں شامل عہدِ عثمانیہ سے تعلق رکھنے والے  بڑے  کنبے  آباد ہیں، محض طرابلس میں  ترکمان  خاندانی نام کے حامل آپس میں رشتہ دار 200 کنبے موجود ہیں۔ ترکمانی  کنبوں  کے ارکان کی جانب سے قائم کردہ "جمعیت لبنانی ترکمان"  بھی اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ سن 1877۔ 1878 کی  عثمانی ۔ روسی  جنگ  کے بعد  مشرق وسطی کے علاقے میں قیام پذیر ہونے والے  سرقافی  باشندوں کا بھی ترکی سے رابطہ  قائم ہے۔

شام میں خانہ جنگی  سے متاثر ہونے والے  اس ملک  سے ایک بڑی تعداد میں ترکمان باشندوں نے  لبنان کو نقل مکانی کی ہے۔حلب اور لازکیہ  میں آباد ترکمان باشندے  قریب ترین ملک   ترکی  نقل مکانی کر چکے ہیں۔ حمص  اور تارتوس    کے  ترکمانوں نے جغرافیائی اعتبار سے قریب ترین واقع اور رشتہ داری بھی موجود ہونے والے آکار  اور بال بیگ کا رخ کیا ۔ یہ حقیقت  بھی عیاں ہے کہ دمشق  میں مقیم ترکمانوں کی ایک   بڑی اکثریت  بیروت اور طرابلس  منتقل ہو چکی ہے۔

لبنانی ترکمانوں پر نکتہ نظر کے حوالے سے رجب طیب ایردوان کا سن 2010 میں دورہ لبنان کےدوران قواشرا کے جوار میں  ایک جلسے کا اہتمام  کرنا  ایک اہم موڑ ثابت ہوا ۔ ترکی کی جانب سے  ترکمانوں کے ساتھ ہونے کا یہ اظہار ان کی حیثیت اور  ساکھ  کے لحاظ سے   ایک مثبت قدم  تھا۔ سن 2013 میں بیروت میں کھولے جانے والے یونس ایمرے مرکزِ ثقافت اور سن 2014 میں تیکا   لبنان رابطہ دفتر کے قیام نے   ترکمانوں  میں دلچسپی اور ان کی امداد میں اضافے  میں ایک اہم  کردار ادا کیا۔ ان کے حالات میں اس پیش رفت کے ساتھ بہتری آئی ہے تو بھی  لبنان میں  تا حال ان کا کوئی سیاسی نمائندہ  یا پھر  باقاعدہ   شہری تنظیم  موجود نہیں ہے۔ آئندہ کے ایام میں اس حوالے سے کوششیں صرف کرنا ہوں گی۔



متعللقہ خبریں