پاکستان ڈائری - 34

پاکستان ڈائری میں اس بار ملک کے مایہ ناز کرکٹر کامران اکمل سے ملاقات کریں ۔کامران 1982 لاہور میں پیدا ہوئے ۔یہ اعزاز صرف ان کے خاندان کے پاس ہے کہ وہ تین بھائی عدنان اکمل عمر اکمل اور کامران اکمل تینوں فرسٹ کلاس کرکٹر ہیں

پاکستان ڈائری - 34

پاکستان ڈائری - 34

پاکستان ڈائری میں اس بار ملک کے مایہ ناز کرکٹر کامران اکمل سے ملاقات کریں ۔کامران 1982 لاہور میں پیدا ہوئے ۔یہ اعزاز صرف ان کے خاندان کے پاس ہے کہ وہ تین بھائی عدنان اکمل عمر اکمل اور کامران اکمل تینوں فرسٹ کلاس کرکٹر ہیں اور تینوں نے پاکستان کا نام روشن کیا ۔کامران رائٹ ہینڈ بیٹس مین اور وکٹ کیپر ہیں۔

انہوں نے پہلا ٹیسٹ ڈیبیو دو ہزار دو میں ہرارے میں کیا اور پہلا او ڈی آئی زمبابوے اور پاکستان کے مابین بلواویو میں 2002 میں کھیلا۔وہ ٹیسٹ کرکٹ اور ون ڈے انٹرنیشل میں 11 سینچرز سکور والے واحد پاکستانی وکٹ کیپر ہیں ۔2017 میں وہ پاکستان سپر لیگ میں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے۔2005 موہالی میں انکی طرف سے بنائے جانے والی سینچری آج بھی شائقین کرکٹ کے ذہنوں پر نقش ہے۔

کامران اکمل 2006 میں آئزہ کامران کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور انکا ایک بیٹا اور بیٹی ہے ۔ٹی آر ٹی سے انٹرویو کے دوران انہوں نے بچپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ابو بچپن سے ہی انہیں کرکٹ کھیلا رہے تھے پہلے محلے کی ٹیم سے کھیلا پھر ماڈل ٹاؤن کرکٹ کلب سے کھیلنا شروع کیا۔پھر ڈیپارٹمنٹ انڈر فیفٹین کے ٹرائل ہوئے۔نیشنل بینک کی طرف سے کھیلا۔عامر حیات روکڑی لاہور کے پریزیڈنٹ ہوتے تھے اور عامر ملک، عامر سہیل ان دونوں کی خصوصی شفقت رہی ۔ان کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھا ان سب نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ابتداء میں ہی بہت اچھے لوگ ملے اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔

اپنے بچپن کی کچھ شرارتیں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا مجھے پتنگ بازی کا بھی بہت شوق تھا ۔لاہور میں بہت پتنگ بازی ہوتی مجھے کرکٹ کھیلنے پر تو کبھی ڈانٹ نہیں پڑی لیکن پتنگ بازی پر تو ابو سے مار تک کھائی۔امی ہمیشہ بہت لاڈ کرتی ہیں تو وہ مار سے بچا لیتی تھیں ۔کامران اکمل کہتے ہیں آج جو بھی ہوں والدین کی بدولت ہوں انکی دعائیں پیار محبت میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔

کامران اکمل کہتے ہیں کہ زمبابوے ٹیسٹ میچ سے ڈیبیو کیا اور یہ زندگی کے تاریخی لمحوں میں سے ایک تھا۔جن کھلاڑیوں کو میں قذافی اسٹیڈیم میں دور جنگلے کے پار سے کھیلتا دیکھتا تھا آج ان کے ساتھ کھیل رہا تھا۔وہ خوشی بیان سے باہر ہے ۔موہالی کی سنچری بھی یادگار ترین تھیں ۔اللہ کا نام لے کر گراونڈ میں اترے اور بھارت کو ہرایا ۔انہوں نے کہا کرکٹ ابھی فوکس ہے۔ابھی تھوڑا مشکل وقت ہے لیکن میں پرامید ہوں کہ جلد اللہ اچھا وقت بھی لے آئے گا۔

کامران اکمل نے کہا میرے والد نے مجھ سے بہت محنت کروائی اس ہی طرح میرے بھائیوں عدنان اور عمر نے بھی محنت کی۔میں نے بھائیوں کے ساتھ گراونڈ کا تجربہ ضرور شئیر آگے وہ اپنی محنت سے نکلے ۔میرے خاندان کی خواہش تھی کہ ایک کوئی بیٹا ضرور کھیلے اور اللہ کی قدرت دیکھیں تین بھائی کرکٹ میں آگئے۔

اپنی نجی زندگی کے حوالے سے کامران اکمل نے کہا اللہ کا بہت کرم ہے انہیں اتنے شفیق والدین ملے انہوں نے کہا انکے والدین اور اہلیہ ان کے مضبوط ترین سہارا ہیں ۔اپنی اہلیہ کے بارے میں بات کرتے ہیں ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ چیزوں کو بہت انڈرسٹینڈ کرتی ہیں اور بہت کمپرومائزنگ بھی ہیں ۔مشکلات حالات ہوں تو وہ مجھے بہت موٹیویٹ کرتی ہیں اور میرا بہت خیال رکھتی ہیں ۔وہ کہتے ہیں ہم دونوں ٹورز پر ساتھ ہی ہوتے ہیں ۔ٹائم ملے تو سیاحت بھی کرتے ہیں اور خریداری بھی۔کامران اکمل کے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور بیٹی انکے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں کہا لائبہ اور آیان شاپنگ اور گھومنے پھرنے کے بہت دلدادہ ہیں ۔وہ دونوں ضرور فرمائش کرتے ہیں جبکہ میری بیگم بلکل فرمائش نہیں کرتیں ۔کوہ مری جانا ہم سب کو پسند ہے۔

لائبہ اور آیان دونوں ابھی پڑھ رہے ہیں میرے سوال پوچھنے پر کہ بچے کرکٹ میں دلچسپی لیتے ہیں کامران اکمل نے جواب دیا کہ میں نہیں چاہتا کہ یہ دونوں کرکٹ میں آئیں ۔ویسے تمام کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں لیکن ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔میری خواہش یہ طب کا شعبہ اختیار کریں اور ڈاکٹر بنیں ۔

کامران سیاست میں تو دلچسپی نہیں رکھتے لیکن حالات حاضرہ کے شو باقاعدگی سے دیکھتے ہیں اور انکے پسندیدہ اینکر وسیم بادامی، ندیم ملک اور کاشف عباسی ہیں ۔جب بھی وقت ملے ان کے پروگرام ضرور دیکھتا ہوں ۔وہ کہتے ہیں جب بھی فرصت ہو نعمان اعجاز،فہد مصطفی،فواد خان اور ماہرہ خان کے ڈرامہ سیریل ضرور دیکھتا ہوں۔زندگی گلزار ہے اور وہ ہمسفر تھا بہت شوق سے دیکھے۔

حال ہی میں وہ کربین لیگ سے واپس آئے ہیں اور پی ایس ایل کا بھی حصہ ہیں ۔واپڈا کی طرف ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیل رہے ہیں ۔کامران اکمل نے کہا ورلڈ الیون بھی آرہی ہےمجھے امید ہے بی سی بی کے سیلکٹرز کہ میں ورلڈ الیون کا حصہ بنوں گا۔ 

کامران اکمل کہتے ہیں فینز کی بہت دعائیں ساتھ ہیں میں ٹی 20 میں پرفارمنس کے ساتھ واپس آیا ہوں ۔مجھے موقع ضرور ملنا چاہئے مجھے امید ہے کہ ٹی 20 سے ڈراپ نہیں کیاجائے گا

کامران اکمل کہتے ہیں پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کا ذمہ بورڈ اور نجم سیٹھی کو جاتا ہے۔پاکستان میں انٹرنیشل ٹیمز آرہی ہیں ۔شہریار صاحب نے زمبابوے کی ٹیم کو بلایا۔پورے پاکستان کو حکومت فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کرکٹ کی ملک میں بحالی کا کریڈیٹ جاتا ہے۔اپنے کرواڈ کے سامنےکھیلنے کی الگ ہی بات ہے۔ہمیں ان تمام کھلاڑیوں کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہیے جو پاکستان آکر کھیل رہے ہیں ۔اس طرح باقی ٹیمز بھی جلد پاکستان آئیں گی۔کامران اکمل نے کہا مستقبل میں بھی صرف کرکٹ کو فوکس کرنا ہے ۔ 

سوشل میڈیا کے حوالے سے انہوں نے کہا فیز بار بار ماضی کی کارکردگی کو دہراتے ہوئے ذاتیات پر اتر آتے ہیں جوکہ قطعی طور پر مناسب نہیں ہے۔میں نے ہر بار کوشش کی لیکن کارکردگی  کبھی اوپر نیچے ہوجاتی ہے۔فینز گلہ ضرور کریں لیکن الفاظ ایسے استعمال نا کریں جس سے دل آزاری ہو۔مجھ میں برداشت بہت ہے لیکن جو انڈیا پاکستان کے شایقن کرکٹ کا غصہ شاید ہی اسکی مثال کہیں اور ملتی ہو۔

کرکٹ ایک کھیل ہے جب ایک ٹیم جیتی ہے تو دوسری ہارتی ہے۔پہلے میڈیا اتنا زیادہ عام نہیں تھا اب تو میڈیا اور سوشل میڈیا بہت متحرک ہے۔پر انہیں منفی نہیں مثبت خبروں پر فوکس کرنا چاہیے۔کھلاڑیوں کی پرفارمنس پر تبصرہ کریں ان پر تبصرے نا کریں۔نجی زندگی میں ہم بھی عام لوگوں کی ہی طرح ہیں ہمارے بھی ویسے زندگی ہے جیسے باقی سب کی ہے۔اس لئے سب کا احترام کریں ۔

نئے آنے والوں کو کامران اکمل نے مشورہ دیا شارٹ کٹ نہیں محنت پر یقین رکھیں ۔ماں باپ کی دعائیں لیں محنت کریں کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔تعلیم ضرور حاصل کریں

 



متعللقہ خبریں