حالات کے آئینے میں 36

دہشت گردوں کی کاروائیوں میں نت نئے حربے منظر عام پر

حالات کے آئینے میں 36

دنیا کی قدیم ترین  دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک ہاش ہاشی ہے۔  مغربی  طبقوں کی جانب سے آساسنز  کے نام   سے منسوب کی جانے والی  اس تنظیم نے  دہشت گرد کاروائیوں کے ساتھ اپنی دھاک بٹھا رکھی تھی۔

تلوار، تیر کمان اور اسی  طرح کے اسلحہ  کو رکھنے پر پابندی ہونے کی بنا پر  ہاش ہاشی  اپنے اہداف  کو   زیادہ  چھوٹے سائز کے اسلحہ یعنی چاقو  کے ذریعے  نشانہ  بنایا کرتے تھے۔

حسن صباح کی جانب سے سلطنت ِ  سلچوقی     کے خلاف قائم کردہ یہ  تنظیم  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  کرائے کےقاتل جتھے کی ماہیت اختیار کر گئی۔ صلیبی  شہہ سوار  سمیت  کئی  طاقتیں اس دہشت گرد تنظیم کے ذریعے اپنی گھناؤنی کاروائیاں کرتی تھیں۔ ہاش ہاشیوں کے سرغنہ حسن  کی جانب سے  عالمی سیاسی  اسٹیج پر  منظر عام پر  لایا گیا  دہشت گردی کا یہ نظام  وقت  کی نہر میں بہتا ہوا موجودہ  ماہیت کر گیا ہے۔

دہشت گردی نے   ایک دور میں  خلیاتی  نظام کی   حامل   کاروائیاں کیں، حتی  خود کش بم  حملہ  آوروں کا طریقہ کار بھی استعمال کیا گیا۔ اس قسم کے وحشیانہ  طریقوں کے   ساتھ  دہشت  گردی کا وجود  عصر حاضر تک آیا ہے۔ دہشت گردی  عالمی  تبدیلیوں اور تغیرات کے رونما ہونے والے ادوار میں   سب سے زیادہ   آلہ کار بنایا جانے والا شدت انگیز   ایک عنصر ہے۔  چین سے لیکر شمالی یورپ  تک پھیلی ہوئی  طاقت  نے اقتدار اور سرمائے کی  جنگوں میں دہشت گردی کے عزائم کو محاذ کی ہراول سطح پر  جاری رکھا  ہے۔

سن 1991 میں اتحادی قوتوں کی جانب سے عراق پر قبضہ جمانے سے  ابتک کے دور میں خطے میں کئی  ایک دہشت گرد تنظیمیں  اُبھر کر سامنے آئی ہیں۔ ان دہشت گرد تنظیموں نے زیادہ تر  مشرق ِ وسطی  میں "قابض" کی نظر سے دیکھے جانے والی  اتحادی قوتوں اور ان کے مقامی  شراکت داروں کو ہدف بنایا  ہے۔

مشرق وسطی   میں  نہ سمانے والی تنظیموں کے درمیان  تقسیم ہوئی اور اس طرح ان کے نت نئے بازو سامنے  آنے لگے ،   ہر نئی تنظیم  اس سے پہلے کی تنظیم سے زیادہ خونخوار اور خوفناک ثابت ہوئی۔

حکومتوں اور مملکتوں کی جانب سے  دہشت گرد حملوں اور کاروائیوں کے خلاف تدابیر میں اضافہ  کیے جانے نے  دہشت گردوں نے  بھی نئے حربے اور طریقوں کا استعمال کرنا سیکھ لیا۔ جوں جوں جدید  مملکتوں نے  اپنے تحفظ کے میکانزم کو مزید  تقویت دی  یوں  یوں  دہشت گردی  نے  بھی حملے  کے حربوں اور اسلحہ  کو مزید  سادہ بناتے ہوئے  اپنی  گھناؤنی کاروائیوں کو جاری رکھا۔

آج مسلمان ملکوں اور بعض مغربی یورپی ملکوں کے لیے  جانِ عذاب   بننے والی  دہشت گرد  تنظیم داعش  کے  تمام تر  اعلی منتظمین  کا یورپی یونین کے رکن ملکوں سمیت امریکہ اور کینیڈا  کا شہری ہونا   ایک  حد درجے اہم معاملہ  ہے۔

سوشیالوجسٹ اور سوشل سائیکالوجسٹ ماہرین   سمیت مذہبی سماجی ماہرین کی جانب سے اس معاملے پر  سنجیدہ  سطح کی تحقیقات  کو  منظر عام پر  لانے کی ضرورت ہے۔ زندگی کی  متعدد رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے والے   ایک فرانسیسی، جرمن یا پھر نارویجین  شہری   کی طرف سے  شام ۔ عراق  کی پٹی پر کٹھن  زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے  موت کی جانب جانے والے راستے کی یک طرفہ ٹکٹ لینے  کے عمل  کی وضاحت  لازم  و ملزوم ہے۔ مغربی ملکوں کے دہشت  گردی کے خلاف اقدامات غیر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ تمام تر  ٹیکنالوجی کے امکانات اور ہولو گرافیک تدابیر بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔ دہشت گردوں نے  وضع کردہ "نئی  نسل کے دہشت گرد" طریقوں کے ذریعے  تمام تر روایتی اسلحہ  اور ہتھیاروں کو ایک طرف  پھینک دیا ہے۔ اب یہ انسانی ضروریات کو دہشت گردی کے آلہ کار اور لاجسٹک  کاروائیوں کے لیے  استعمال  کرنے  لگے ہیں۔ یعنی  اربوں ڈالر کی مالیت سے  بنائی گئیں  سیکورٹی دیواریں نئی نسل  کی دہشت گردی کے سامنے لاچار   بنی ہوئی ہیں،   فزیکل اور الیکڑونک دیواریں اب  کاغذ سے بھی زیادہ  پتلے کسی   ناقابل  برداشت    مادے کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔

نئی نسل کی دہشت گردی کے کارکنان بھی اب مختلف ہیں۔ یہ  قدیم اصول، کیمپوں میں ان کی تربیت حاصل کرنے والے اور رامبو کی طرح کی جسمانی  ساخت کے مالک نہیں ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں  نے   عسکریت پسندوں کی  تربیت  اور  اس طرح کی کاروائیوں کو اپنے  ریکارڈز سے ہی ختم کر دیا ہے۔

اب  ایک سفاک دہشت گرد   مسلز والا اور کسی کھلاڑی  کی  ساخت سے عاری ہوتا ہے، حتی یہ نشے اور سگریٹ نوشی جیسی عادات  کا حامل ہوتا ہے ایسے کہ ایک سو میٹر بھی نہ بھاگ سکے۔

جیسا کہ  ہم نے بارسیلونا کے تازہ حملوں میں  مشاہدہ کیا ہے کہ دہشت گرد  اب پیشہ ور طریقے سے اسلحہ  استعمال کرنے سے بھی قاصر ہیں، یہ اندرون شہر  چھڑنے والی جھڑپ میں مکمل طور پر  ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں۔

ون ٹو ون یا پھر گلی کوچوں کی جھڑپ میں    اناڑی دہشت گردوں کے پیدا کردہ اثرات  زیادہ بلند سطح  کے اور صفر مالیت کے بھی ہو سکتے ہیں۔

یورپ میں  پیش آنے والے نئی نسل کے اس طرز کے  تازہ دہشت گرد حملوں کے مرتکب تمام تر  مجرموں کا یورپی  شہری  ہونا  ، بحث کی ضرورت ہونے والا ایک دوسرا معاملہ ہے۔

نئی نسل کے دہشت گردوں کا اسلحہ اب  پستول، بم یا پھر گن نہیں ہوتا،  اب یہ ہر ملک میں قانونی اور معصوم تصور کی جانے والی موٹر گاڑیوں کو اسلحہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

دنیا اس خطرے سے کس حد تک آگاہ ہے  ہم نہیں جانتے تا ہم اگر اس حوالے سے اختیار کردہ تدابیر کا جائزہ لیا جائے تو  ہماری امیدوں پر پانی پھرتا دکھائی  دیتا  ہے۔

خطہ یورپ میں اس  قسم کے حملوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات، گولی کو کاغذ سے روکنے   کے مترادف ہیں۔

بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ  دنیا اور خاصکر ترکی  کے دونوں اطراف  میں واقع یورپ اور مشرق وسطی   میں اس طرز کی دہشت گرد کاروائیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔

دہشت گرد  موٹر گاڑی کے ذریعے  شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں یا پھر حسن صباح کے مریدوں کی  طرح چاقو زنی کر رہے ہیں۔

دنیا   اس نئی نسل کی دہشت گردی  کے حوالے سے معلومات نہیں  رکھتی،  یہ نئی طاقتوں کے  ظہور پذیر ہونے کی بھی خواہش نہیں  رکھتی، حتیٰ یہ   طاقتوں کو یکجا کرنے سے بھی  گریز کر رہی ہے۔

مثال کے طور پر  ترکی کی جانب سے انٹر پول کےذریعے مطلوب قاتل دہشت گردوں کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، ان کو زیر حراست تک نہیں لیا جاتا۔

داعش میں  شرکت کرنے والے  اپنی شہریوں کے بارے میں مغربی  ممالک   معلومات کا ہر گز تبادلہ نہیں کرتے۔ ترکی کی جانب سے گرفتار کردہ یورپی نژاد  داعش کے رکن دہشت گردوں  کے حوالے سے  ذرا بھر  معلومات کو ہوا بھی لگنے نہیں دیتے۔  یہ بے معنی اور غیر منطقی   افعال  دہشت گرد تنظیموں کے  لیے  زمین ہموار کر رہے  ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ  دہشت گرد یورپ میں  شہریوں   کے خلاف ہر طرح کے دہشت  حملے بڑی آسانی سے کر  رہے ہیں۔



متعللقہ خبریں