ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 27

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 27

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 27

پروگرام " ترکی یوریشیاء ایجنڈہ" کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ سامعین 14 جولائی 1992 میں ترکی اور آزربائیجان کے درمیان طے پانے والے سفارتی تعلقات  کے قیام کے معاہدے کو پچیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ہم بھی اپنے آج کے پروگرام میں ترکی۔آزربائیجان تعلقات اور ان کے علاقے پر اثرات کا جائزہ لیں گے۔

اتاترک  یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر جمیل دوعاچ اپیک کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

18 جولائی 1991 کو اعلان آزادی کے بعد 9 نومبر 1991 کو جمہوریہ آزربائیجان کو پہلا تسلیم کرنے والا ملک ترکی تھا۔ ترکی اور آزربائیجان کے درمیان سفارتی تعلقات 14 جنوری 1992 میں قائم ہوئے۔

باہمی تعلقات کو مزید تقویت دینے کے لئے 2010 میں صدارتی سطح پر اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل  میکانزم  قائم کیا گیا۔  آزربائیجان کے ساتھ قائم کئے جانے والے ترکی۔آزربائیجان۔ جارجیا ، ترکی۔آزربائیجان۔ایران اور ترکی۔ آزربائیجان۔ترکمانستان سہہ فریقی اجلاس میکانزم علاقائی استحکام، امن اور خوشحالی میں   کردار ادا کرنے والے اہم نوعیت کے میکانزم ہیں۔

بحیرہ کیسپین کے توانائی کے ذخائر کو عالمی منڈیوں میں لانےکے لئے" باکو۔تبلیس۔جیہون خام پیٹرول پائپ لائن" اور "باکو۔تبلیس۔ ارض روم" قدرتی گیس پائپ لائن منصوبے آزربائیجان اور ترکی کے درمیان بھائی چارے سے اسٹریٹجک ساجھے داری تک جانے والے اہم اقدامات ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم 5 بلین ڈالر کے قریب ہے اور سال 2023 تک دونوں ملک اس حجم کو 15 بلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتے ہیں۔

دو طرفہ اعتماد اور اتحاد  کی بنیادوں پر استوار آزربائیجان۔ترکی تعلقات بین الاقوامی پلیٹ فورم پر بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں حکومتیں اقوام متحدہ، یورپی سلامتی و تعاون کونسل، یورپی کونسل، بحر اسود اقتصادی تعاون  کونسل، ترک کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم میں بھی کامیاب شکل میں تعاون کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آزربائیجان اور ترکی کے درمیان فوجی تعاون کے دائرہ کار میں دونوں ملک مسلح افواج کے درمیان تعاون کے فروغ کے لئے مختلف ادوار میں فوجی مشقوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔ حالیہ طور پر ماہِ مئی کے آغاز میں باکو کے قریب واقع فوجی تربیتی مرکز میں ایک ہزار فوجیوں، 80 ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں، 60 توپوں اور مارٹر گنوں، بارہ  Mİ-7 محارب اور نقل و حمل کے ہیلی کاپٹروں اور ائیر ڈیفنس سسٹموں نے شمولیت کی۔ مشقیں 5 مئی تک جاری رہیں ا ور کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئیں۔

آزربائیجان کے عوام کا ترکی کی طرح ترکوں کی اوعوز نسل سے ہونا ، ایک جیسے ماضی اور تاریخ کے ساتھ اور ایک جیسے جغرافیاوں میں  فروغ پانا ترکی اور آزربائیجان کے درمیان زیادہ قریبی ڈائیلاگ کا سبب بنتا ہے۔ ترکی اور آزربائیجان کے درمیان تعلقات کثیر الجہتی اور اسٹریٹجک   سطح پر ہیں۔ دونوں  ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا مقصد علاقے میں استحکام اور امن قائم کرنا ہے۔ یہ تعلقات کسی بھی تیسرے ملک کے لئے خطرہ تشکیل نہیں دیتے۔ ترکی۔آزربائیجان تعلقات "اسٹریٹجک شراکت داری" کے نقطہ نظر کا مکمل احاطہ کرتے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان 25 سالہ مختصر مدت کے دوران حاصل کردہ کامیابیوں اور مضبوط بھائی چارے کے ترجمان ہیں۔

ترکی، بالائی کھارا باع مسئلے کے آزربائیجان کی زمینی سالمیت اور خودمختاری کے اندر پُر امن طریقوں سے حل ہونے کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔ اس  دائرہ کار میں منسک گروپ کے رکن کی حیثیت سے اپنی کاروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے خاص طور پر اپریل 2016 میں رابطہ لائن ا ور آزربائیجان۔آرمینیا سرحد کے مخصوص مقامات پر ہونے والی شدید جھڑپوں اور جانی نقصان کے بعد ترکی ہر موقع پر اپنے اندیشوں کو اور مسئلے کے مذاکراتی حل کی اپیل کو پیش کر رہا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ منسک مثلث یہاں ابھی تک کوئی حتمی قدم نہ اٹھا کر مرحلے کو طول دے رہی ہے۔ بالائی کھاراباع کے بارے میں اہم بین الاقوامی فیصلوں کی موجودگی کے باوجود اس مرحلے کو لیت و لعل میں ڈالنانہایت افسوسناک امر ہے۔

توانائی  کے موضوع پر بھی دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ خاص طور پرٹرانس اناطولیہ قدرتی گیس پائپ لائن منصوبہ TANAP  اس وقت ایک گلوبل منصوبے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

14 اکتوبر 1921 میں جب انقرہ میں آزربائیجان کے نمائندے ابراہیم آبیلوف نے اپنا اعتماد کا مراسلہ پیش کیا تو مصطفیٰ کمال اتاترک  نے کہا تھا کہ "آزربائیجان کی خوشی ہماری خوشی اور غمی ہماری غمی ہے" ۔ کئی سال کا  عرصہ گزرنے کے بعد آزربائیجان کے صدر حیدر علی ایف کے یہ الفاظ کی " ہم ایک ملت دو حکومتیں ہیں" اسی جذبے کی تجدید کی حیثیت رکھتے ہیں۔



متعللقہ خبریں