عالمی معیشت35

افرادی قوت میں اضافہ اور حکومتی پالیسیاں

عالمی معیشت35

دنیا اور ترکی میں بڑھتی ہوئی آبادی  جہاں  افرادی قوت میں اضافے کا باعث بنتی ہے وہیں  اس کے منفی اثرات معاشی  و سماجی  ڈھانچے پر بھی  پڑتے ہیں جن میں بے روزگاری اہم ہے۔

بے روزگاری کا  مسئلہ   ترکی میں بھی موجود ہے  جہاں سال رواں  کے مئی کے مہینے میں   اس کی شرح تناسب  10٫2 فیصد  تھی ۔ ماہ جنوری  میں  یہ شرح 13  فیصد تھی   جس میں  5 ماہ کے عرصے  کے دوران 2٫8 فیصد کی کمی ہوئی ۔ جنوری میں  ملک بھر میں بے روزگار افراد کی تعداد 39 لاکھ  85 ہزار تھی جو  کہ مئی میں  کم ہو کر 32 لاکھ  25  ہزار کے قریب پہنچ گئی  جس کا مطلب  سال رواں  کی پہلی شش ماہی کے دوران    ملک بھر میں 7 لاکھ 60 ہزار افراد کو روزگار  میسر ہوا ۔

بے روزگاری کی شرح  میں کمی کے علاوہ  افرادی قوت میں  اضافہ  بھی گزشتہ سال کے  مقابلے میں   دیکھنے میں آیا   چنانچہ  ماہرین کا کہنا ہےکہ  ایک سال کے عرصے میں     ترکی میں 10 لاکھ افراد  ملکی معیشت میں  ہاتھ بٹانے کےلیے تیار ہوئے ۔

  افرادی قوت میں اضافہ اور  بے روزگاری میں کمی  اپنی جگہ مگر  معیشت    کو در پیش تیسرا مسئلہ   روزگار کی دستیابی کا ہے  ۔ مئی    کے  اعداد و شمار کے مطابق   ،ملک بھر میں  گزشتہ سال  کے اسی دور کے مقابلے میں   یہ تعداد 6  لاکھ 21 ہزار افراد کے مزید اضافے کے ساتھ مجموعی طور پر 28 ملین 4 لاکھ  88 ہزار   ریکارڈ کی گئی  جن کا  19٫6 فیصد زراعت  سے ،18٫9 فیصد صنعت وحرفت سے ،7٫5 فیصد تعمیراتی  اور 54 فیصد  خدمات عامہ کے شعبوں سے وابستہ  ہوا۔   خدمات عامہ میں یہ اضافہ  حکومتی پالیسیوں  کا مرہون منت ہے  جس میں اٹھائے جانے والے  اقدامات  کے نتیجے میں  10 لاکھ 8 لاکھ 16 ہزار افراد کو روزگار کے نئے مواقع نصیب ہوئے۔

 جہاں تک شعبہ زراعت کا تعلق ہے  تو اس میں بھی  سال رواں کے آغاز سے اب تک  37 ہزار افراد  کو مزید روزگار  مہیا کیا گیا ہے جس میں اضافہ متوقع ہے ۔

دوسری جانب   شعبہ افراد قوت میں خواتین  کی شرح  بھی  گزشتہ سال کے مقابلے میں  بڑھی ہے ۔ ماہ مئی  2016 میں  مجموعی طور پر یہ تعداد  32٫5 فیصد تھی جو کہ اس سال  بڑھ کر  32٫9 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ۔ امکان ہے کہ  خواتین    کا اس شعبے میں اضافہ ہونا بے روزگاری کے مسئلے  پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوگا۔

 بے روزگاری  کی شرح مِں کمی کا موثر طریقہ  افرادی قوت سے وابستہ پالیسیوں  سے مربوط ہے ۔ سال رواں   کے دوران  حکومت  کی ترغیباتی  پالیسیوں کی بنا   پر  کافی  حوصلہ افزا٫  نتائج دیکھنے میں آئے  لہذا  اس بات کا قوی امکان ہے کہ  اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا   تو  وہ دن دور نہیں جب   ملک  میں  بے روزگاری      کی شرح  میں نمایاں کمی  واقع ہوگی  اور زیادہ  سے زیادہ افراد کو  روزگار میسر ہوگا۔

 

 



متعللقہ خبریں