ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 26

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 26

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 26

پروگرام " ترکی یوریشیاء ایجنڈہ " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری سے اپنے صدارتی فرائض کا آغاز کیا اور اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کی یوریشیاء پالیسی کے بارے میں  تجسس کیا جا رہا ہے۔ ہم  بھی اپنے  آج کے پروگرام میں ٹرمپ انتظامیہ کی یوریشیاء پالیسیوں اور علاقے پر ان کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔

اتا ترک یونیورسٹی  کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر جمیل دوعاچ اپیک  کا موضوع سے  متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

ترکی اور ترک جمہوریتوں کے مرکز میں واقع یوریشیاء جغرافیہ ایسے  جغرافیاوں میں سے ایک ہے کہ جس پر متعدد عالمی  طاقتیں نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ آنے والے  ادوار میں بھی یوریشیاء ایک ایسے علاقوں میں سے ایک ہو گا کہ جہاں  گلوبل طاقتیں   جدوجہد کریں گی۔ اس دائرہ کار میں سال 2017 کے آغاز میں امریکہ میں فرائض کا آغاز کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ  کے بارے میں تجسس کیا جا رہا ہے کہ اس کی امریکہ میں اور یوریشیاء   میں پالیسی  کیا ہو گی۔ ہم بھی اپنے آج کے پروگرام میں واشنگٹن کی نئی انتظامیہ  کا یوریشیاء کے حوالے سے جائزہ لیں گے۔

یوریشیاء  کے قلب میں واقع ترک جمہوریتیں  اور ترکی ایک طرف اپنے علاقوں میں ایک دوسرے کے مقابل آنے والی بڑی طاقتوں کے درمیان توازن کا مشاہدہ کر رہے  ہیں تو دوسری طرف سرحد پار مفادات کے تحفظ میں آسانی پیدا کرنے والی حکمت عملیوں  کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک صرف اپنے اطراف کی پیش رفتوں کے بارے میں ہی نہیں  گلوبل کرداروں کی ڈنامک پالیسیوں  کے مقابل بھی حساس ہیں۔ ترکی اور ترک جمہوریتیں جیو کلچر اور جیو پولیٹک  کے خصوصی  اوصاف کو پیش کرتے ہیں اور ایک سے زائد علاقائی نظام کے توازن کو کم  یا زیادہ  متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ترکی اور ترک جموریتیں اپنی دلچسپی کے جغرافیہ کی بھی اور عالمی نظام کی بھی پیش رفتوں پر بغور نگاہ رکھنے پر مجبور ہیں۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی کے عمومی بہاو کے حوالے سے اس سوال کا جواب  کہ علاقے میں ٹرمپ انتظامیہ کس پالیسی پر عمل پیرا ہو گی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک قوی احتمال کے مطابق موجودہ غیر حتمی کیفیت مزید کچھ عرصے تک جاری رہے گی۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ20 جنوری کو واشنگٹن میں شروع ہونے والا نیا دور امریکہ اور دنیا کے حوالے سے ایک نئے اور تکلیف والے دور کا پیامبر ہو سکتا ہے۔ آنے والے سالوں میں   کرّہ ارضی کے متعدد گوشوں میں اس تبدیلی کے اثرات محسوس کئے جا سکیں گے۔ ان گوشوں میں ترکی  کی قریبی دلچسپی کا جغرافیہ یعنی ترکستان  بھی شامل ہے۔

ٹرمپ، اٹلانٹک اتحاد  کے لئے کھلے دل سے مصارف کرنے والا   لیڈر ملک  بننے کی بجائے براہ راست اپنے مفادات کا  دفاع کرنے والی ایک بڑی طاقت کا روّیہ اختیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکہ کا ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری سے نکلنا بھی اس کی ایک مثال ہے۔ ٹرانس۔ پیسیفک  شراکت داری  آسٹریلیا، برونائی دارالسلام، کینیڈا، چلی، جاپان، ملائشیا، میکسیکو، نیوزی لینڈ ، پیرو، سنگا پور ، امریکہ اور ویتنام جیسے ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کرنے اور نئے قوانین تشکیل دینے کے لئے اوباما انتظامیہ  کی طرف سے اٹھایا گیا قدم تھا۔ یہ ممالک دنیا کی گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ کے 40 فیصد سے زائد کو تشکیل دیتے ہیں۔ ٹرانس پیسیفک  شراکت داری پیسیفک واحد منڈی کو قائم کر کے، تجارتی مالیت کو کم کر کے اور مشترکہ قوانین کے تعین سے 12 ممالک کی تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے زیادہ موزوں ماحول پیدا کرنے پر مبنی ہے۔ ٹرانس پیسیفیک کے قیام سے توقع تھی کہ  چین کی گلوبل تجارت کے اصولوں کو شکل دینے کی طاقت محدود ہو جائے گی، مزدوروں  اور ماحول کے حقوق کے تحفظ کے لئے معیاروں کا تعین ہو گا اور امریکہ نئی منڈیوں میں داخل ہونے  کا امکان حاصل کر سکے گا۔ فریقین نے، تمام رکن ممالک  کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہونے والے ٹرانس پیسیفک  شراکت داری کے قیام کے لئے 4 فروری 2016 کو سمجھوتے پر دستخط کئے۔

ترکستان کے جغرافیہ کا احاطہ کرنے والی بڑی طاقتوں کے بارے میں حکمت عملیاں ہیں امریکہ کی ترکستان کے لئے سیاست میں ایک موئثر عنصر  کی حیثیت رکھتی ہیں۔ امریکہ اپنی پلاننگ کو اس پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے تشکیل دے رہا ہے کہ ترک جمہوریتوں کے ساتھ دلچسپی لینے کے دوران اٹھائے جانے والے اقدامات   ماسکو اور بیجنگ کو  کس شکل میں متاثر کریں گے۔ترکستان کے ساتھ جیو پولیٹک کا روس، چین  اور دیگر اہم ہمسایہ ممالک  کے ساتھ  مل  کر  پُر معنی ہونا ان ممالک  کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاو کے اثرات کو بھی ترک جمہوریتوں پر منعکس کرنے کا سبب  بن رہا ہے۔ نتیجتاً  امریکہ ترکستان کی طرف دیکھنے کے دوران روس اور چین کو بھی پیش نظر رکھ رہا ہے اور چین اور روس  کے روّیوں میں تبدیلی ترکستان پر بھی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

آنے والے دنیوں میں امریکہ کی یوریشیا  اور ترکستان پالیسی میں کوئی شدید تبدیلی متوقع نہیں ہے تاہم حالیہ 12 سالوں میں پہلی دفعہ کسی ریپبلکن صدارتی امیدوار نے انتخابات سے قبل وسطی ایشیاء یعنی ترکستان کے بارے میں کوئی بیان جاری کیا۔ یہ بیان امریکہ کی خارجہ پالیسی میں وسطی ایشیاء پر زیادہ توجہ دینے کے بارے میں ایک اشارہ ہو سکتا ہے۔ حالیہ سالوں میں یوریشیا میں امریکہ مخالف تحریکوں میں تیزی آ رہی ہے۔ ان تحریکوں کے مقابل امریکہ نرم طاقت کے عناصر کو  پیش نظر رکھے گااور جمہوریت کی تحریک دینے والی پالیسیوں  سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ ترکستان سے ترکی کی طرف پھیلنے والی لائن کی اہمیت میں صرف امریکہ کے لئے  ہی نہیں بلکہ علاقے کے تمام  کرداروں کے حوالے سے زیادہ ہو جائے گی۔یہ لائن بڑی جدوجہدوں کا منظر نامہ بنے گی۔آنے والے دنوں میں یورپ اور چین کو ایک دوسرے سءے منسلک کرنے والی "ترک بیلٹ" تمام فریقین کے لئے اہمیت حاصل کر جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ سخت جدوجہد کے پلیٹ فورم کی بھی شکل اختیار کر جائے گی۔ بہت ممکن ہے کہ اس وقت ہم جن مراحل سے گزر رہے ہیں وہ ترکی اور ترک دنیا کو ایک دوسرے سے زیادہ شدت سے منسلک کرنے والی  ایک بڑی جیو پولیٹک تبدیلی ہوں۔



متعللقہ خبریں