حالات کے آئینے میں 35

ترکی صدر ایردوان کی معرفت امریکہ کی چالوں میں نہیں آیا

حالات کے آئینے میں 35

ہم نے باراک اوباما  کی صدارت کے آخری  ایام میں  شمالی یورپ، بلقان اور بحیرہ اسود کے کنارے پر  واقع اتحادی ملکوں کے  اسلحہ  کے گوداموں کی حیثیت حاصل کرنے کے بعد پیدا ہونے والے  طوفان پر ہمیشہ توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔

خوش قسمتی کی بات ہے کہ صدر ایردوان اس طوفان  کے خطرات سے  با خبر تھے   لہذا انہوں نے ترکی کو اسلحہ کے ذخیرے  کے  لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

یلدرم بیاضت کے شعبہ تاریخ کے لیکچرار    ایردال شمشیک  کا  اس موضوع کے حوالے سے جائزہ۔۔۔۔

8 جولائی  سن 2016 میں پولش دارالحکومت  وارسک میں منعقدہ " نیٹو  حکومتی و مملکتی سربراہی اجلاس" میں  شرکت کرنے والے صدر  ایردوان نے ترکی  کے بحیرہ اسود کے کنارے بعض مقامات پر  نیٹو  کے  فوجی اڈے قائم کرنے   کی تجویز کوعقل مندی اور حق بجانب جواز کے ساتھ   مسترد کر دیا۔  جناب  ایردوان کے اس سٹریٹیجک اقدام کے بعد ریشین فیڈریشن نے  ترکی کے  ساتھ  در پیش  سیاسی و سفارتی بحران کو فی  الفور نکتہ پذیر کر دیا۔ روسی  صدر پوتن نے صدر ایردوان کے  امن  پر مبنی  مؤقف  کا خیر مقدم کیا۔ پوتن نے ایردوان کو  تحریر کردہ جوابی خط میں  دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے طیارے کے بحران   کے  پیچھے دوسری قوتیں کار فرما ہونے کا اعلان کیا اور ترکی کے ساتھ منقطع ہونے والے تمام تر اقتصادی، سیاسی اور حکمت عملی تعلقات کو  از سر نو  اور سرعت سے شروع  کرا دیا۔

روسی صدر  کی جانب سے صدر ایردوان کی امن کے قیام  کے مطالبے کو بلا شرط قبول   کیے جانے نے  گھناؤنی طاقتوں کو   حرکت  دلائی۔ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم فیتو  کے رکن دہشت گرد نے روس کے انقرہ میں سفیر اندرے کارلوف کو  کیمروں کے سامنے خونخوار طریقے سے قتل کرڈالا۔

پوتن اور روسی بیوروکریسی اس اشتعال  انگیزی کی  چال میں نہ آئی اور  گندی  چال کو افشا کو کردیا گیا۔  یعنی خونی اشتعال انگیزی کے باوجود  بہتری کی جانب گامزن ترک۔ روسی تعلقات اپنے ڈگر سے نہ ہٹے   بلکہ اس سے قبل کی سرعت سے  فروغ پاتے رہے۔

ترکی اور بحیرہ اسود کے   ترک کناروں کو   اسلحہ اور فوجی سازو سامان کے گودام   کی حیثیت   دینے کی چال ناکام رہنے پر  اچانک پیسیفک ایشیا  سے لیکر بحر ہند تک    واقع متعدد  ملکوں میں  بحران نے اپنا چہرہ نمو دار کرنا شروع کر دیا۔

فلپائن میں  اچانک   داعش   دہشت گرد تنظیم سامنے  آئی اور  امن و سلامتی کی علامت ہونے والے آراکان اور آبنائے  آراکان  میں  دہشت گرد کاروائیاں کیں۔

چین اور  جاپان کے پانیوں میں بھی کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا،  کئی ایک ملکوں نے دوسرے ملکوں کے پانیوں کی  خلاف ورزی کرنی شروع کر دی۔  یہ سلسلہ بحرانوں  کے فریق ملکوں میں سماجی تبدیلیوں اور تغیرات  پیدا  ہونے  کا موجب بنا۔ معاشروں میں  جنگ کرنے کی خواہش   چوٹیوں کو چھونے  لگی۔

دھمکیوں کے مرکزی مقام کے طور پر پیش کیے جانے والے شمالی کوریا میں  مزدوروں ، پارٹی ارکان اور سابق فوجیوں  کی جانب سے فوج میں رضا کارانہ طور پر  شمولیت کی خواہش ظاہر کرنے کی  خبریں پھیلنے لگیں۔ پیونگ یانگ  کے پروپیگنڈا   ذرائعوں نے   اعلان کیا کہ لاکھوں کی تعداد میں شہریوں نے امریکی  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  سخت گیر بیانات کے خلاف گلی  کوچوں میں نکلتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور 35 لاکھ  شہریوں نے رضاکارانہ طور پر فوج میں شمولیت کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔

شمالی  کوریا کی اس مخبوط الحواسی کے اثرات جنوبی کوریا  پر بھی پڑے۔اپنے آپ کو شدید خطرے میں محسوس کرنے والے  جنوبی کوریائی  باشندے خوراک کی ذخیرہ  اندوزی  کرنے    اور بمباری کے پیش نظر محفوظ  پناہ گاہوں کی تیاریوں میں  مصروف ہیں۔ جنگ کے خطرے کے پیش نظر انہوں نے سونا خریدنا شروع کر دیا  جس سے سونے کی عالمی منڈی میں گہما گہمی   کا رجحان  پیدا ہوا۔  جنوبی کوریائی عوام   کی جانب سے ضرورت سے پانچ گنا زیادہ سونا خریدنے  کا اس ملک کے اخباروں نے  انکشاف کیا۔

شمالی کوریا کی جانب سے "ہم اگست کے وسط میں حملہ کردیں گے"  دھمکی دیے گئے  پیسیفک  میں امریکی جزیرے گوان میں عوام  خوراک کی ذخیری اندوزی میں مصروف ہیں۔

شمالی کوریا کی جانب سے داغے گئے  کسی میزائل کے دس منٹ میں  پہنچ سکنے والے جاپان میں  بھی عوام نے  پناہ گاہیں  بنوانی شروع کر دی ہیں۔ جاپانی  ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ متعلقہ  فرموں نے  پناہ گاہ  بنوانے کی  درخواستوں کا   مثبت میں جواب نہیں دیا۔

ادھر  امریکہ میں بھی سنجیدہ سطح کی گہما گہمی  دیکھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے "ہمارا اسلحہ  چلانے کے لیے تیار ہے" اعلانات کے بعد قومی سلامتی  امور کے مشیر میک ماسٹر نے کہا کہ "شمالی کوریا  کی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی کے خلاف   ضروری تدابیر  اختیار کر لی گئی ہیں اور ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔"

یہ بھی  ایک حقیقت ہے کہ "جوہری ہتھیاروں کی دھمکیوں   "پر اب  دنیا یقین  نہیں  کرتی۔  کیونکہ   ایک دور کی امریکی حکومت کی جانب  سے  عراق کے  ایک جوہری خطرہ ہونے  کا دعوی  کرتے ہوئے   سن 1991 میں اس پر  دھاوا بول دیا گیا تھا۔ اس جنگ میں دس لاکھ سے زائد  انسانوں کی  ہلاکتوں کے بعد  عراق کے ایک جوہری خطرہ نہ ہونے کا اعلان  کیا گیا تھا۔

امریکہ اور مغربی ملکوں میں "اجنبیت" اور نفرت آمیز جرائم  کا کھلم  کھلا ارتکاب  ان کے اپنے  ہی معاشروں کے  رد عمل کا  موجب بننا شروع ہو گیا ہے ۔ مغربی یورپ میں انتہائی  قومیت پرستی اور امریکی سفید فاموں کی نسل پرستی   دنیا بھر کے لیےکسی خطرے کی سطح  کے قریب  پہنچ  چکی ہے۔

روس میں  بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔  جنگ کے خطرات کے  باعث روس نے  یوکیرین   میں ،  چینی اور جاپانی سرحدوں کے جوار میں لاکھوں   فوجیوں کی تعیناتی کرتے ہوئے انہیں جنگ کے لیے   چاق و چوبند کردیا  ہے۔ اس ملک کے مشرق بعید میں   فوجی دستوں  نے "بلند سطح کی فوجی تیاریاں" شروع  کر رکھی ہیں۔ اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ روسی فوج شمالی کوریا سے  داغے گئے کسی  میزائل کے اپنے ہدف سے منحرف ہونے کے  پیش نظر   تدابیر اختیار کر چکی ہے۔

ان تمام سماجی و فوجی  حرکات و سکنات کی مالیت بیسیویوں ارب ڈالر  سے   زیادہ  ہے۔ اگر ان رقوم کو فاقہ کشی اور قیام امن کی کوششوں میں  خرچ کیا جائے تو ہماری دنیا  کہیں زیادہ محفوظ بن  سکتی ہے۔  اس طرح  نہ تو خون  اور نہ ہی آنسو بہیں  گے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حالات  ہمیں کثیر الامملکتی جنگوں کی جانب  دھکیل  رہے ہیں۔ ہماری واحد امید ،جناب ایردوان اور چینی صدر  شی جن پنگ کی طرح کے مملکتی  رہنما ؤں کی جانب سے قیام امن کی کوششیں  صرف کرنے  پر انحصار  کرنے پر مبنی ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں