حالات کے آئینے میں 29

دنیا کا کوئی بھی مقام اب دہشت گردی سے محفوظ نہیں

حالات کے آئینے میں 29

! جمہوریہ ترکی کے صدر  رجب طیب ایردوان نے  مغربی حکومتوں پر  دہشت گرد تنظیم PKK  سمیت فیتو  اور بائیں بازو کی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرنے کی  ہمیشہ سے ہی  نکتہ چینی کی ہے۔ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جنگ کے آغاز میں کئی ایک  مغربی ملکوں کی جانب سے خفیہ معلومات  کے تبادلے  میں حسد کا مظاہرہ کرنے اور  اپنے شہریوں کی اس تنظیم میں شمولیت کا موقع فراہم کرنے والی  راہوں میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرنے نے  ترک رہنما ایردوان  کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا تھا اور اس روز سے ابتک صدر ترکی ان کو انتباہ  دیتے چلے آرہے ہیں کہ "ایک نہ ایک دن دہشت گردی آپ کو اپنے گھیرے میں لے سکتی ہے۔"

داعش کے کرتے دھرتوں کی اکثرت کے  مغربی ملکوں   کے  جواز الاسفر  کا مالک ہونے کے باوجود ، ترکی کے   تجارتی، فوجی اور سیاسی شعبہ جات میں اتحادی  ہونے والے ان  ملکوں نے اپنے دوست ملک کے انتباہ کے  سامنے اپنے  کان بند کر رکھے ہیں۔ ترکی ، داعش کے خلاف اپنی سر زمین میں، شام اور عراق سمیت  فوجی  مشاورت پائے  جانے والے تمام تر ملکوں میں    بلا کسی رعایت کے   جنگ میں مصروف ہے۔  اس خونی تنظیم نے  سینکڑوں شہریوں اور فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

یعنی قصہ مختصر  مغربی دوستوں کی جانب سے  ترکی کو  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں  طویل مدت تک تنہا چھوڑ دیا گیا۔بلکہ  اس پر بھی اکتفا نہ کیا بلکہ  داعش کے مکار چہرے  بین الاقوامی  دہشت گرد تنظیم  فیتو  کی غلط  بیانیوں کی بنا پر  ایک لمبے عرصے تک  ترکی کے  داعش کے خلاف غیر متحرک  ہونے پر یقین  کیا۔ حتی انہوں نے گاہے بگاہے ذرائع ابلاغ میں ترکی کے  داعش دہشت گرد تنظیم کی مدد کرنے جیسے  الزامات پر مبنی خبریں بھی دیں۔

جب مغربی   نامہ نگار  ہمارے پیشے  پر کالا دھبہ لگانے والی ان خبروں کو  خوب  مرچ مصالحہ لگاتے ہوئے  پیش کررہے تھے  تو داعش  ترکی کے رہائشی مقامات اور بڑے شہروں  کو اپنے درندہ صفت حملوں کا نشانہ بنا رہی تھی۔ محض فیتو کے پراپیگنڈا عناصر  سے   حاصل کردہ جھوٹ موٹ کی معلومات کو یکجا کرتے ہوئے   تہمت   پر مبنی خبریں ، مقالے اور ریڈیو ٹی وی پروگرام  تیار  کرنے والے ہمارے ہم منصبوں کا ضمیر  دہشت گرد تنظیم  کے ہاتھوں قتل ہونے والے سینکڑوں معصوم شہریوں   کی بنا پر کیا    لعنت و ملامت کرتا  ہے۔

جب لندن، پیرس، برسلز اور یورپ کے دیگر  شہروں میں  اس خونی تنظیم نے حملے کیے تھے تو اسوقت  ہمیں شدید صدمہ پہنچا تھا۔ ہم نے ترک صحافیوں اور  کالم نگاروں کے طور پر  ان دہشت گرد کاروائیوں  کی مذمت  کرنے والی تحریریں  شائع کی تھیں اور اس حوالے سے خصوصی پروگرام  پیش کیے تھے۔ مجھے  بڑا تجسس ہے کہ کتنے، جرمن، ڈچ، بیلجین یا پھر فرانسیسی  ہمارے ہم منصبوں نے داعش، فیتو یا پھر  PKK کی جانب سے قتل کردہ ہزارہا ترک شہریوں  کے لیے   سوگ منایا   ہو گا؟ کیا کبھی انہوں نے قتل عام  پر تنقیدی تحریریں قلم بند کی ہیں؟   محض  ایک دو تحریروں میں ہی    معمولی سطح پر  دہشت  گردی کے خلاف     نکتہ چینی  کا مشاہدہ ہوا ہے۔

تا ہم  یہ  بات واقعی میں بڑی  حیرت  انگیز ہے کہ   ہم نے   متعدد مغربی صحافیوں  کو  PKK کے دہشت گردوں کی تربیت کیے جانے والے کیمپوں، فیتو  کے سرغنہ کے محل  یا پھر اپنے اپنے ملک میں موجود  ان کے دفاتر کا دورہ کر نے   سے انہی  کے ذرائع ابلاغ کی وساطت سے آگاہی حاصل کی۔  نہ صرف مغربی   ملکوں کے اخباری نامہ نگاروں  بلکہ  نیٹو، یورپین کسٹم یونین  اور مغرب کو بھی  نقصان پہنچانے والی دہشت گرد  تنظیموں  کے  خلاف جنگ لڑنے والے ملکوں کے حکومتی و مملکتی سربراہان  کی جانب سے  مذکورہ    تنظیموں سے گہری محبت  و ہمدردی  کا مظاہرہ  کرنے کا  بھی مشاہدہ  ہو رہا ہے۔

یہ  سیاسی شخصیات  ترک حکام سے  مصافحہ کرتے  ہوئے    ایک ہی میز کے گرد دہشت  گردوں کے ساتھ  یکجا ہوتے ہوتی رہتی ہیں۔ان  دو رخی  اور دوغلی  پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے وقت   ترک سرکاری حکام سے بلمشافہ ملاقات  کے بعد   ترک شہریوں، ترک فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے والے دہشت گردوں  کے  ساتھ یکجا ہونے   پر کیا کسی کو پچھتاوا ہوا ہے؟

اگر جرمنی کو اس حوالے سے مثال بنایا جائے تو  اس بات کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ جرمن چانسلر محترمہ مرکل      ان کے سر پر مصیبت  پڑنے پر ترکی آتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان  سے ملاقات کرتی ہیں اور تعاون و  حمایت کا مطالبہ پیش کرتی ہیں۔ یہی چانسلر   ہزاروں کی تعداد میں  شہری  بچوں،   بوڑھوں ، فوجیوں اور پولیس اہلکاروں  کا قتل کرنے والی PKK دہشت گرد تنظیم  کی   حمایت بھی کرتی  ہیں۔ یہ اس کے اتحادی ترک صدر ایردوان  کو جرمنی میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ یکجا ہونے  کی  اجازت بھی نہیں دیتیں اور دوسری جانب ہزاروں ترک شہریوں کی قاتل  PKK  کے سرغنوں کو   میٹنگز کرنے کی   بلا ہچکچاہٹ اجازت دے دیتی ہیں۔

حتیٰ گزشتہ دنوں  جرمنی میں  منعقدہ   جی۔20  سمٹ  کے منعقد ہونے والی عمارت   سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر  تقریباً  دس ہزار   ترک  شہریوں کے قتل کا حکم دینے والے   دہشت گرد سرغنہ عبداللہ اوجالان کے  پوسٹرز  کو اٹھانے   اور دہشت گردی کو مقدس   قرار دینے والے جلسے جلوسوں کی اجازت دی گئی۔

جرمن خفیہ سروس کی جانب سے تیار کردہ  رپورٹ میں  انکشاف کیا گیا ہے کہ PKK نے   کروڑوں  یورو کا چندہ  انہی ملکوں  میں جمع کیا ہے ۔

15 جولائی سن 2016 کی شب اڑھائی سو ترک شہریوں کو ہلاک اور ہزاروں  کو زخمی کرنے والی  فیتو دہشت گرد تنظیم  کے    کارکنان    اور فوجی   افسران    کو  اس  ملک  نے   نہ صرف  پناہ دی ہے  بلکہ انہیں  آرام دہ  زندگیاں گزارنے کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں اور آج جرمنی اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے۔

ہمبرگ میں  جی۔20  سمٹ کے خلاف احتجاج کا بہانہ بنانے والے  PKK اور فیتو کے   کارکنانوں اور  دیگر  دہشت گرد تنظیموں نے شہر  میں خوب توڑ پھوڑ کی ہے۔  آنیتفا دہشت گرد تنظیم نے   شام اور  عراق میں  داعش اور  PKK  کے  ہمراہ مشترکہ کاروائیاں کی ہیں تو جرمن دارالحکومت میں  یہ  حکومتی تحفظ کے ساتھ  دہشت گردی   کررہی ہے۔

جیسا کہ جمہوریہ ترکی کے رہنما  جناب ایردوان  کا کہنا  ہے   دہشت گردی نے    یورپ کے ہر مقام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب  ہم  یورپی پولیس کے ان  دہشت گردوں کے خلاف  کاروائیوں پر تجسس رکھتے ہیں۔  دیگر مقامات کی طرح یہ  دہشت گرد یورپی عوام  کے جان و مال کو  بھی نقصان پہنچائیں  گے۔ فیتو، PKK  کہ جن کی  قیادت آنتیفا کر رہی ہے  اب    یورپ کی بھی حقیقت بن چکی ہیں۔   ہم سمجھتے ہیں  کہ حرص کے اسیر بننے والے بعض یورپی سیاستدانوں کے اس غلط مؤقف سے  یورپی عوام  کو بھاری  ہرجانہ ادا کرنا  پڑ سکتا ہے۔ سب سے  افسوسناک بات یہ ہے کہ  ان  شہریوں  کو بھی ہماری طرح دہشت گردی کے ماحول  میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

 



متعللقہ خبریں