ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 18

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 18

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 18

پروگرام" ترکی یوریشیاء ایجنڈہ" کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ تقریباً ہر سال ماہِ اپریل میں پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنت عثمانیہ کے اندر پیش آنے والے واقعات سے متعلق دنیا بھر میں مختلف نشریات دی جاتی ہیں   اور بیانات  جاری کئے جاتے ہیں۔ ہم بھی آج کے پروگرام میں 1915 کے واقعات کا بین الاقوامی قانون کے حوالے سے جائزہ لیں گے۔

اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر جمیل دوعاچ اپیک  کا موضوع سے متعلق جائزہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

تقریباً ہر سال ماہِ اپریل کے آخری ہفتے میں ہمیں ایک ہی جیسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس ہفتے میں جنگ عظیم اوّل  کے دوران سلطنت عثمانی کے اندر پیش آنے والے واقعات سے متعلق دنیا بھر میں حکومتوں ، آرگنائزیشنوں  اور افراد کی طرف سے اشاعتیں کی جاتی ہیں  اور بیانات جاری کئے جاتے ہیں۔ آرمینی یا آرمینیوں کے موقف کی حمایت کرنے والے افراد کی اکثریت  1915 کو پیش آنے والے واقعات کو نسل کشی قرار دیتی ہے۔ ترک یا ترکوں کے موقف کے حامی افراد کی اکثریت ان واقعات کا جائزہ تاریخی ڈسپلن میں لیتی ہے اور  منتقلی و سکونت کے قانون کے اطلاق کے نسل کشی نہ ہونے کا دفاع کرتی ہے۔

کئی سال قبل پیش آنے والے ان واقعات  کی تفہیم کے لئے تاریخی پس منظر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن "نسل کشی" کا تصور بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار میں شامل ہے نتیجتاً  تاریخی ڈسپلن  کے حوالے سے نقطہ نظر پیش کرنے والے افراد یا سیاست دان جب اس بارے میں بات کرتے ہیں تو ان کے جائزے کے کچھ پہلووں میں کمی رہ جاتی ہے۔ موضوع سے متعلق بیانات دینے والے اپنے نقطہ نظر کے مطابق مختلف تعداد  میں اموات کو نسل کشی قرار دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نسل کشی کا جائزہ ایک بین الاقوامی جرم کی حیثیت سے قانون کی طرف سے لیا جا سکتا ہے۔ نسل کشی  کے موضوع پر ابتدائی اہم نوعیت کا ریگولیشن، اقوام متحدہ  کی جنرل کمیٹی کے 260 نمبر کے فیصلے کے پیش نظر 1948 میں نسل کشی کے جرم کے سدباب  اور سزا  کے سمجھوتے  کی منظوری کے ساتھ منظر عام پر آیا۔

آرمینیوں نے سلطنت عثمانیہ کی زمین پر پہلے خود مختار اور بعد ازاں آزاد حکومت قائم کرنے کے لئے  سیاسی اور مسلح کاروائیاں کیں۔ نتیجتاً یہ آرمینی اصل میں  سیاسی گروپ کی  حیثیت رکھتے  ہیں۔ اس وجہ سے مذکورہ سمجھوتے  کی دوسری شق میں جن چار گروپوں کو تحفظ مل رہا ہے آرمینی گروپ کا شمار ان میں نہیں ہوتا۔ اُس دور کی عثمانی حکومت میں آرمینیوں کو ختم کرنے سے متعلق کوئی ارادہ یا بیان موجود نہیں ہے کہ جس کا اقوام متحدہ کے سمجھوتے کی دوسری شق میں ذکر کیا گیا  ہے۔ آرمینیوں کو  ختم کرنے سے متعلق  تحریری یا بیانی کوئی دستاویز تو موجود نہیں ہے لیکن جو دستاویزات موجود ہیں وہ سب کی سب آرمینیوں کے تحفظ اور ان کی پُر سہولت سکونت سے متعلق ہیں۔   ہلاک  ہونے والے آرمینیوں کی تعداد نسل کشی کے اثبات سے  بہت دور ہے۔ آرمینیوں کی ہلاکتوں کے ایک بڑے حصے کا تعلق  نقل مکانی اور سکونت  کے قانون کے اطلاق سے نہیں بلکہ دیگر وجوہات سے ہے اور انہی دیگر وجوہات کی بنا پر علاقے میں موجود ترک  شہری اموات کی شرح  آرمینی اموات کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ اس حوالے سے  نقل مکانی اور سکونت کا قانون ، سمجھوتے کی دوسری شق  میں بیان کردہ خفیہ یا بلواسطہ نسل کشی کا مفہوم نہیں رکھتا۔

ان شرائط میں نقل مکانی اور سکونت  کا قانون اور اس کا اطلاق سمجھوتے  کی رُو سے نسل کشی شمار نہیں ہوتا۔ نقل مکانی اور سکونت  کے قانون  اور اس کے بعد فوجی ضروریات کو بھی پش نظر رکھنے پر قانوناً یہ  قانون انسانیت کے خلاف جرم کی کیٹیگری میں داخل نہیں ہوتا۔ کیونکہ نقل مکانی ا ور سکونت  کے اطلاق کے دوران روم کے اسٹیٹس  کی ساتویں شق کی شرائط پوری نہیں ہوئیں۔ یعنی آرمینی آبادی کے خلاف حکومت کا کوئی ایسا پلان سامنے نہیں آیا کہ جو وسیع پیمانے پر اور منّظم شکل میں انسانیت کے خلاف حملے پر مبنی ہو۔  بلکہ اس کے بر خلاف آرمینی باغی جتھوں کے روسی فوج کے ساتھ مل کر ترک مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کی حد تک پہنچنے والے قتل عام کا سدباب کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہم جانتے ہیں کہ جنگ کے حالات میں علاقے میں پیدا ہونے والے  اختیارات کے جزوی خلاء سے علاقے کے بعض جتھوں نے استفادہ کیا۔ علاقے میں لوٹ مار کرنے والے جتھوں نے اپنے  مفادات کے لئے ہجرت کرنے والے آرمینی قافلوں پر حملہ کیا ، انہیں ہلاک کیا اور ان کے مال و اسباب کو لوٹ لیا۔ سلطنت  عثمانی  جنگ کی حالت میں تھی اور اپنے پاس موجود محدود تعداد کی جینڈر میری فورسز  کے ساتھ بعض اوقات سب  آرمینیوں  کو موئثر شکل میں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ اس سے مشابہ موسمیاتی، جغرافیائی، خوراک کی کمی ، ادویات کی عدم موجودگی اور بیماریوں  جیسی شرائط کی وجہ سے  ہجرت پر مجبور ہونے والے ترک شہریوں کی اموات کی تعداد کا کہیں زیادہ ہونا بھی اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ نقل مکانی اور سکونت کے قانون کا مقصد بلواسطہ شکل میں قتل کرنا نہیں تھا۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہے کہ حکومت کی طرف سے ان ناخوشگوار واقعات پر پشیمانی اور حملہ آوروں کے خلاف غصے  کا  اظہار کیا گیا۔ نتیجتاً پیشہ وارانہ جرائم کی کیٹیگری میں شامل ہونے والی لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں ملوث ملزمین کو جنگ کے دوران ہی عدالت کے کٹہرے میں لایا گیا اور ان میں سے اکثریت کو پھانسی کی سزا دی گئی۔

اس واقعے کو روزمرّہ زندگی میں ایک تاریخی اور قانونی واقعے سے زیادہ ایک سیاسی واقعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی سیاست  میں ترکی  کی ترقی سے بے اطمینانی محسوس کرنے والی حکومتیں یا آرگنائزیشنیں اس واقعے کو ترکی کے خلاف ایک پانسے کے طور پر استعمال کرنا چاہ رہی ہیں۔ لہٰذا ہر سال اس موضوع کو ایجنڈے پر لائے جانے کے پس پردہ   جو بنیادی وجہ کارفرما ہے وہ یہی ہے۔



متعللقہ خبریں