عالمی معیشت28

جی ٹوئنٹی اجلاس اور عالمی اقتصادیات

عالمی معیشت28

سن 2015 میں   جی ٹوئنٹی اجلاس کی صدارت کی ذمہ داری   ترکی کو نصیب ہوئی تھی   جبکہ اس سال 7 تا 8 جولائی  کو جرمنی  نے اس اجلاس کی میزبانی ادا کی  جس میں  دنیا کے ترقی یافتہ اور صنعتی 19 اور یورپی یونین پر مشتمل  بعض اقوام  نے شرکت کی۔ان ممالک میں دنیا کے گنجان آباد ممالک چین اور بھارت بھی شامل تھے ۔

 اس اجلاس میں شریک ممالک کی فی کس آمدنی  کا جب ذکر کیا جائے تو اس میں 57 ہزار امریکی ڈالرز سے امریکہ سر فہرست ہے جس کے بعد 55 ہزار ڈالر کے ساتھ سعودی عرب  اور آسٹریلیا 48 ہزار ڈالرز کے ساتھ  تیسرے نمبر پر  ہے ۔ برآمداتی لحاظ  سے   چین،امریکہ،جرمنی اور جاپان  اس اجلاس میں  موجود تھے ۔علاوہ ازیں  یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ  جی  ٹوئنٹی اجلاس   میں شریک 20 ممالک میں سے   15 کا تجارتی حجم کافی وسیع ہے  جو کہ  اس کے رکن بھی ہیں۔

 جی ٹوئنٹی اجلاس  کا انعقاد ہمبرگ میں ہوا جس میں  عالمی اقتصادی ترقی ،تجارت اور مالیاتی منڈیوں  کی صورت حال سمیت  افرادی قوت میں اضافے اور روزگار کے مواقعوں  کا جائزہ لیا گیا ۔

اجلاس میں  تجارتی عالمی  تعاون میں فروغ کے علاوہ  ترقیاتی امور اور شعبہ صحت  جیسے موضوعات  پر بھی غور و خوض کیا گیا  جن کا مقصد  عالمی  معیشت  کو در پیش مسائل کے سدباب  ،نقل مکانی کو روکنے   اور غربت  اور دہشتگردی    کے خاتمے  کو یقینی بنانا ہے ۔

سن 2015 میں  اقوام متحدہ کے تحت منعقدہ   تحفظ ماحولیات کانفرنس   کے دوران 175 ممالک نے  پیرس تحفظ ماحولیات  معاہدے پر دستخط کیے تھے  جس کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکی صدر بننےکے بعد  یک طرفہ طور پر اس  معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ۔ اس فیصلے پرامریکہ نے عالمی خفگی مول لے لی  ۔

 اس سال جنوری میں  امریکی صدر  ٹرمپ  نے سابقہ صدر  براک اوباما   کے برعکس   ماحولیاتی مسئلے پر غیر سنجیدگی کا برملا اظہار  کرتےہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ  تحفظ ماحولیات کا مقصد در حقیقت امریکی  معیشت کو کمزور بنانا ہے  اور چین نے اپنے مفادات کی خاطر  اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یورپی یونین نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کی  سخت مخالفت  کی  اور مطالبہ کیا کہ وہ اس پر نظر ثانی ضرور کریں ۔

 ہمبرگ اجلاس میں زیر بحث اہم مسائل میں  ایک مہاجرین   کا تھا  ۔واضح رہے کہ   شام کی خانہ جنگی   سے متاثرہ  30 لاکھ مہاجرین   ترکی میں قیام پذیر ہے  جس پر بھی اس اجلاس میں تفصیلی بات چیت ہوگی ۔ ترکی نے اس اجلاس میں   اپنی  اندرونی و بیرونی خارجہ  پالیسیوں اور ان کی اہمیت    کا مثبت انداز میں اظہار کیا  تاہم  ترقی یافتہ ممالک کا اس معاملے میں رویہ    نہ  تو  تعمیراتی اور نہ ہی   پُر خلوص نظر آتا  ہے   جن میں جرمنی قابل ذکر ہے ۔

 اس حوالے سے   ترکی نے  اس اجلاس میں  متعدد  ممالک سے صلاح و مشورہ  کیا اور واضح کیا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے  جس کا حل ضروری ہے    اور یورپی ممالک  اس سلسلے  میں فوری   تعاون کر سکتے ہیں۔

 علاوہ ازیں اس اجلاس  میں قطر کا مسئلہ بھی زیر غور لایا گیا ۔اجلاس میں   خلیجی بحران کے باعث سعودی فرمان روا شاہ سلمان نے  شرکت سے معذوری ظاہر کر دی   جس کی وجہ سے  یہ اجلاس قطر کےمعاملے میں   کسی مثبت فیصلے  سے   دور رہا ۔

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں