پاکستان ڈائری - 27

پروفیسر محمد طاہر صدیقی نے بی ایس سی انرز اور ایم ایس سی انرز ان ایگرکلچر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا ۔اپنی پی ایچ ڈی 1998 میں یونیورسٹی پترا ملائشیا سے کی۔پوسٹ ڈاکٹریٹ نیوزی لینڈ سے کیا

پاکستان ڈائری - 27

پاکستان ڈائری - 27

حالیہ گرمی ، لوڈ شیڈنگ اور ہیٹ اسٹروک کے باعث اموات نے پاکستان کی عوام کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کردیا کہ گرمی سے کس طرح بچا جائے ۔اس کے لئے سب سے آسان حل یہ ہی کہ درخت لگائیں جائیں ۔درخت آکسیجن مہیا کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں ۔درخت ماحول کو صاف رکھتے ہیں سیلاب طوفانوں کو روکتے ہیں ۔سایہ مہیا کرتے ہیں پھل دیتے ہیں، پرندوں کو رہائش،جانوروں کو خوراک مہیا کرتے ہیں ۔درخت آنکھوں کو سکون دیتے ہیں اور ہمیں آلودگی سے بچاتے ہیں ۔


فیس بک اور ٹویٹر پر بہت سے ماحول دوست افراد نے مہم بھی شروع کردی کہ آئیے درخت لگائیں لیکن کیا آپ اس بات سے واقف ہیں کہ پاکستان کی آب و ہوا اور محل وقوع کے حساب سے کون سے درخت لگانا موزوں رہے گا۔اس ہی لئے پاکستان ڈائری میں ہم نے یونیورسٹی آف ایگرکلچر فیصل آباد کے شبعہ فارسٹری کے چئیرمین پروفیسر محمد طاہر صدیقی کے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا تاکہ وہ ہمیں درختوں کے حوالے سے مکمل آگاہی دے سکیں ۔

پروفیسر محمد طاہر صدیقی نے بی ایس سی انرز اور ایم ایس سی انرز ان ایگرکلچر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا ۔اپنی پی ایچ ڈی 1998 میں یونیورسٹی پترا ملائشیا سے کی۔پوسٹ ڈاکٹریٹ نیوزی لینڈ سے کیا۔1988 سے وہ ایگرکلچر یونیورسٹی سے منسلک ہیں اس وقت چیئرمین شعبہ فارسٹری اور رینج مینجمنٹ ہیں ۔ان کی 45 مطبوعات شائع ہوچکی ہیں ۔

 

پروفیسر محمد طاہر صدیقی نے بتایا کہ درخت قدرت کا انمول تحفہ ہیں ان کی موجودگی انسانوں جانوروں اور پرندوں سب کے لئے یکساں اہم ہے ۔درخت اپنی بڑھوتری اور ساخت کے اعتبار سے مختلف زمینوں، موسمی حالات میں مخصوص اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ مخلتف درخت مخصوص آب و ہوا زمین درجہ حرارت بارش میں پروان چڑھ سکتے ہیں ۔مثال کے طور پر ٹھنڈے علاقوں کا درخت پائن گرم مرطوب علاقوں میں نہیں بڑھ سکتا ہے۔لہذا موسمی حالات و تغیرات درختوں کے چناو میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں جن کا ادراک ہونا بہت ضروری ہے۔

پنجاب کی آب و ہوا اور موزوں درخت 

جنگلات کے نقطہ نظر سے جنوبی پنجاب میں زیادہ تر خشک آب و ہوا برداشت کرنے والے درخت پائے جاتے ہیں ۔ آب و ہوا خشک ہے تو یہاں پر خشکی پسند درخت زیادہ کاشت کئے جائیں جو خشک سالی برداشت کرسکیں ۔بیری،شریں،سوہانجنا،کیکر، پھلائی،کھجور ،ون،جنڈ،فراش لگایا جائے ۔اسکےساتھ آم کادرخت اس آب وہوا کےلئےبہت موزوں ہے۔وسطی پنجاب میں نہری علاقےہیں اس میں املتاس،شیشم،جامن،توت،سمبل،پیپل،بکاین،ارجن،لسوڑا لگایاجائے۔شمالی پنجاب میں کچنار، پھلائی،کیل، اخروٹ،بادام،دیودار،اوک کے درخت لگائے جائیں ۔کھیت میں کم سایہ دار درخت لگائیں انکی جڑیں بڑی نا ہوں اور وہ زیادہ پانی استعمال ناکرتاہو ۔سفیدہ صرف وہاں لگائیں جہاں زمین خراب ہو یہ سیم و تھور ختم کرسکتاہے روز سفیدہ 25 لیٹرپانی پیتا ہے۔جہاں زیرزمین پانی کم ہو اور فصلیں ہوں وہاں سفیدہ نالگائیں ۔

اسلام آباد اور سطح مرتفع پوٹھوہار کے لئے موزوں درخت

پروفیسر محمد طاہر صدیقی کے مطابق خطہ پوٹھوہار کے لئے موزوں درخت دلو؛پاپولر،کچنار،بیری،چنار ہیں ۔اسلام آباد میں لگا پیپر ملبری الرجی کاز کررہا ہے اس کو ختم کرنا چاہیے۔خطے میں اس جگہ کے مقامی درخت لگائے جائیں تو ذیادہ بہتر ہے ۔زیتون کا درخت بھی یہاں لگائے جانا موزوں ہے۔

سندھ میں موزوں درخت

ساحلی علاقوں میں پام ٹری اور کھجور لگانا چاہیے۔کراچی میں املتاس، برنا، نیم، گلمہور،جامن،پیپل،بینیان،ناریل اشوکا لگایا جائے۔اندرون سندھ میں کیکر،بیری پھلائی،ون،فراش،سہانجنا، آسٹریلین کیکر لگناچاہیے۔

 

بلوچستان کے لئے موزوں درخت 

جونپر درخت زیارت میں لگایا جائے ۔زیارت میں جونپیر کا قدیم جنگل بھی موجود ہے۔باقی بلوچستان خشک پہاڑی علاقہ ہے اس میں ون کرک ،پھلائی، کیر، بڑ،چلغوزہ پائن، اولیو ایکیکا،لگایا جائے۔

کے پی کے اور شمالی علاقہ جات میں درخت

پروفیسر محمد طاہر صدیقی کہتے ہیں کے پی کے میں شیشم،دیودار  پاپولر،کیکر،ملبری،چنار،پائن ٹری لگایا جائے۔

درخت لگانےکاوقت، تیاری اور اسکی حفاظت 

اگر آپ سکول کالج یا پارک میں درخت لگا رہے ہیں تو درخت ایک قطار میں لگے گئیں اور ان کا فاصلہ دس سے پندرہ فٹ ہونا چاہیے۔گھر میں لگاتے وقت دیوار سے دور لگائیں ۔آپ بنا مالی کے بھی درخت لگا سکتے ہیں نرسری سے پودا لائیں ۔ زمین میں ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا کھودیں۔نرسری سے بھل ( اورگینک ریت مٹی سے بنی) لائیں اس میں ڈالیں ۔پودا اگر کمزور ہے اس کے ساتھ ایک چھڑی باندھ دیں ۔پودا ہمیشہ صبح کے وقت لگائیں یا شام میں لگائیں ۔دوپہرمیں نا لگائیں اس سے پودا سوکھ جاتا ہے۔پودا لگانے کے بعد اس کو پانی دیں ۔گڑھا نیچا رکھیں تاکہ اس میں پانی رہیں ۔ہر ایک دن چھوڑ کر پانی دیں ۔سردی میں ہفتے میں دو بار  پودے کے گرد کوئی جڑی بوٹی نظر آئے تو اسکو کھرپے سے نکال دیں۔اگر پودا مرجھانے لگے تو گھر کی بنی ہوئی کھاد یا یوریا فاسفورس والی کھاد اس میں ڈالیں لیکن بہت زیادہ نہیں ڈالنی کھاد اس سے بھی پودا سڑ سکتا ہے ۔بہت سے درخت جلد بڑے ہوجاتے ہیں کچھ کو بہت وقت لگتا ہے۔سفیدہ پاپولر سنبل شیشم جلدی بڑے ہوجاتے ہیں دیودار اور دیگر پہاڑی درخت دیر سے بڑے ہوتے ہیں۔ گھروں میں کوشش کریں شہتوت،جامن، سہانجنا،املتاس، بگائن نیم لگائیں ۔

پروفیسر محمد طاہر صدیقی کہتے ہیں کہ ہمیں بہت درخت لگانا ہوں گے ۔چائنہ چالیس ہزار درختوں کا شہر آباد کرنے جارہا ہے تو ہم کیوں نہیں یہ کرسکتے ۔جاپان میں بچہ پیدا ہوتا ہے اسکے کے نام سے درخت لگ جاتا ہے ۔اگر ہم نے گرمی اور سانس کی بیماریوں سے بچنا ہے تو درخت لگائیں ۔

 



متعللقہ خبریں