عالمی معیشت27

ترک معیشت اور اس کی خود انحصاری کا سفر

عالمی معیشت27

ترکی   کی توانائی کے شعبے میں خود انحصاری پر مبنی  حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں  توانائی   تک رسائی  ،اس کی پیداوار اور  تقسیم  کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔ان پالیسیوں  کا مقصد مستقبل میں ترکی  کی توانائی کی ضروریات کا غیر ملکی انحصار کم کرنا ہے  جس کے تحت  توانائی کے متبادل ذرائع  اور اُن کی استعداد میں اضافہ ممکن بنانا ہوگا۔ ان تمام عوامل کےلیے   وزارت توانائی نے کھدائیاں اور   وسائل توانائی  کی تلاش کے کام میں تیزی لانا شروع کر دی ہے ۔

 اس سال اپریل میں   بحیرہ روم میں بارباروس خیر الدین نامی ایک سیسمیک بحری جہاز نے  اپنے کام کا آغاز کر دیا  جبکہ بحیرہ اسود  میں بھی  ایم ٹی اے اوروچ نامی ایک دیگر سیسمیک جہاز تیل اور گیس کی تلاش  پر مامورہے ۔

بارباروس خیر الدین   جہاز   اس وقت شمالی قبرص کے قریب   اپنے کام میں مصروف ہے  جو کہ ترکی کی   مشرقی بحیرہ روم سے وابستہ حکمت عملی   کا بھی مظہر ہے   نیز    یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ جنوبی قبرصی  کی علاقے میں نام نہاد  اجارہ داری    کے دعووں کو بھی جھُٹلانے میں    ترکی اپنے موقف کا برملا اظہار  کر رہا ہے۔  ترکی نے اس   تلاش کے ذریعے  بحیرہ روم  کی سمندری حدود  اور   عالمی قوانین کے دائرہ کار میں  اپنے حقوق  کا پُر عزم طریقے سے  دفاع کرنے  کی دلیل بھی دنیا کو دکھا دی ہے۔

 بحیرہ اسود   میں تیل و گیس کی تلاش  میں مصروف اوروچ ریئس جہاز  بھی ترکی کی اس تناظر میں  پالیسیوں کا  مظہر ہے  جس کے حصول میں تیزی  لائی  جا رہی ہے ۔ اس حوالے سے  علاقے میں   تلاش جاری ہے  جن سے اہم ثمرات حاصل کرنے کا  امکان قوی   نظر آرہا ہے۔

  ترکی  بحیرہ روم اور بحیرہ اسود  میں توانائی کے ذخائر کے حصول میں کوشاں ہے  جس سے  اُمید ہے کہ خطے میں ترکی کا شمار  اس شعبے  میں نمایاں  ہو نے کے ساتھ ساتھ   عالمی میدان میں بھی    ترکی کی سیاسی  و اقتصادی قدر    میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

 ترکی  اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بیک وقت  طلبِ توانائی     کے حامل ممالک  تک رسائی کےلیے ایک گزرگاہ   کا درجہ  بھی رکھتا ہے  جس سے  ترکی کی اہمیت کو مزید چار چاند لگ  جائیں گے۔ اس صورت حال میں   حکومت کی توانائی سے متعلقہ نئی  پالیسیوں کی بدولت  درآمد شدہ تیل اور گیس کے انحصار کو کم کرنا ہے جس سے  قومی خزانے کو بھی بے  انتہا فائدہ پہنچے گا۔ افسوس کے اس وقت ترکی  بھی اپنی توانائی کی  زیادہ تر ضروریات  بیرونی ممالک سے پوری کر رہا ہے  لہذا   وقت کا تقاضا ہے کہ  ترکی  اپنے علاقے میں موجود ان زیر زمین وسائل کی دولت سے مستفید  ہو ۔امید ہے کہ ان پالیسیوں کے بدلے  ترکی     شعبہ توانائی     کی طلب و عرض میں دیگر ممالک سے منفرد مقام حاصل کر لےگا۔

 نیز ، ان پالیسیوں کی بدولت   ترکی توانائی کی ترسیل    کے ساتھ ساتھ  اس کی  تجارت میں بھی اہم کردار ادا  کرے گا ۔

 

 

 



متعللقہ خبریں