ترکی کے دریچے سے مشرق وسطی ٰ۔27

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطی ٰ۔27

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطی ٰ۔27

عراق  کی سب سے  بڑی تحصیل تیلافر  کو  جہاں ترکمینوں کی اکثریت ہے 2003 میں عراق پر قبضے کے بعد سے متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اس وقت داعش کے زیر قبضہ سٹریٹیجک اہمیت کی حامل اس تحصیل کے مستقبل کو عراق اور علاقے کے لحاظ سے انتہائی اہمیت حاصل ہے ۔آج کے   اس پروگرام میں تیلافر کی صورتحال اور علاقے پر اس کے اثرات   کے  موضوع پر اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار  جمیل دوعاچ اپیک  کا  جائزہ  آپ کی خدمت میں پیش  کر رہے ہیں ۔

حالیہ چند برسوں میں  عراق اور شام میں بسنےوالے ترکمینوں کے علاقوں کی اکثریت کھنڈرات میں بدل چکی  ہے ۔ بائر بوجک سے لیکر میندیلی تک کے ترکمین جغرافیے میں ترکمینوں کو مظالم اور قتل عام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عراق کی سب سے بڑی تحصیل تیلافراس کی زندہ مثال ہے ۔ موصل شہر سے 63 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تیلافر کی آبادی کی اکثریت ترکمینوں پر مشتمل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ ترکمینوں کے اہم ترین مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔

 داعش کیطرف سے موصل شہر پر قبضے کے بعد تین لاکھ سے زائد ترکمین عربل ، ڈھوک، کرکیوک، نجف، کربلا اور بابل جیسے شہروں   کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔  15 ہزار ترکمین ابھی تک داعش کے زیر کنٹرول علاقے تیلافر میں  پھنسے ہوئے  ہیں اور ان کی زندگی خطرے میں ہے ۔

عراق کے مختلف شہروں میں ہجرت کرنے والے تیلافر  کے مکینوں کو سنجیدہ مسائل درپیش ہیں ۔ انھوں نے اپنے گھر بار ترک کرتے ہوئے جن علاقوں میں پناہ لی ہے وہاں کے مکین ان کی آمد سے ناخوش ہیں  ۔یہ ترکمین ان علاقوں انتہائی  مفلسی اور کسمپرسی کی  زندگی گزار رہے  ہیں ۔انھیں یہاں کے باسیوں کیساتھ ہم آہنگی میں  مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ان  ترکیمنوں کو کچھ مدت کرکیوک میں داخلے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی لیکن ترکمین محاذ کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں انھیں کرکیوک پناہ لینے کی اجازت دے دی گئی  لیکن یہاں پر بھی وہ مصائب سے بھر پور زندگی گزار رہے ہیں ۔

خیال کیا جاتا ہے کہ موصل میں عراقی فوج اور داعش کے درمیان جاری جھڑپیں جلد ہی ختم ہو جائیں گی اور داعش علاقے کو خالی کرتے ہوئے صحرائی علاقوں کا رخ کرئے گی ۔ موصل کے مرکز میں جاری جھڑپوں کے خاتمے کے بعد تلافیرایجنڈے کا اہم ترین حصہ بن جائے گا ۔ اندازے کے مطابق اسوقت تلافیر میں دو ہزار سے زائد داعش کے دہشت گرد موجود ہیں اور یہاں پر 1500 سےزائد ترکمین پھنس کر رہ گئے ہیں ۔اس صورتحال کے نتیجے میں یہاں پر موصل جیسی جھڑپیں نہ بھی ہوں تو بھی تلافیرمیں خونی جھڑپوں کے شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے ۔

 اس مسئلہ یہ ہے کہ تلافیر میں ہونے والی فوجی کاروائی کی بہترین شکل میں منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے ۔ عراقی فوج کے سوا کسی دوسری طاقت کے علاقے میں داخلے سے اہم مسائل کھڑے  ہو جائیں گے ۔ تلافیر کے مکینوں کو حشدی شابی اور پی کے کے کے دہشت گردوں کے تلافیر میں داخلے پر تشویش لاحق ہے اور وہ اس سے خوفزدہ ہیں ۔ اگر حشدی شابی تلافیر میں داخل ہو گئی تو یہاں پر نئی فرقہ وارانہ جنگ شروع ہو سکتی ہے  جبکہ پی کے کے ترکمینوں  کو صفحہ ہستی سے مٹانے  کے منصوبے بنا رہی ہے ۔ تلافیر  کے باسیوں کے تحفظ اور خونریزی کی روک تھام کے لیے  حشدی شابی اور پی کے کے کے دہشت گردوں کو تلافیر سے دور رکھنے کی ضرورت ہے ۔ عراق کے مختلف علاقوں میں ہجرت کرنے والے ترکمینوں کہا ہے کہ وہ  کسی بھی غیر ملکی طاقت کے  تلافیرمیں   داخلے کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کے خیال میں تیلافر میں غیر ملکی طاقتیں نسلی کشمکش کو ہوا دے رہی ہیں اور  تیلافر  کے بارے میں فیصلہ کرنے کا  حق صرف وہاں کے مکینوں کو ہی حاصل ہونا چاہئیے ۔ اگر کوئی دوسری طاقت وہاں آئی تو علاقے میں امن و امان قائم نہیں ہو سکے گا ۔

علاقے کا اہم ترین  علاقہ تیلافر  ترکی کے لیے بھی سٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔ موصل کے مستقبل کا قریبی جائزہ لینے والا ترکی تیلافر کے مسئلے میں بھی گہری دلچسپی لے رہا ہے ۔ تیلافر علاقے میں ترکمینوں کا آخری قلعہ ہے ۔ یہ علاقہ تیلافر۔سنجار کے درمیان واقع ترکمین دیہاتوں  کی  سنجار تک رسائی کی گزر گاہ کے کنٹرول  کے لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تیلافر کا مستقبل صرف ترکمینوں کے لحاظ سے نہیں بلکہ سنجار کو ایک نئے اڈے  کی حیثیت دینے کی خواہشمند دہشت گرد تنظیم پی کے کے کے خلاف جدوجہد کے لحاظ سے بھی اہمیت رکھتاہے۔اس نقطہ نظر سے داعش سے واگزار کروانے کے بعد ترکمینوں کی علاقے میں باحفاظت واپسی بڑی اہم ہے کونکہ  اگر تیلافرکے ترکمینوں کو تحفظ نہ دیا گیا تو منظر عام پر آنےوالی جھڑپوں کو روکنا مشکل ہو جائے گا ۔

سلطنت عثمانیہ کے دور میں بھی تیلافر علاقے کا اہم مقام  تھا۔ 1920 میں سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھرنے کے بعد تیلافر کو عراق سے ملحق کر دیا گیا ۔ اس زمانے میں برطانیہ کے زیر کنٹرول عراقی ترکمینوں نے برطانیہ کے خلاف سخت مزاحمت دکھائی تھی  اور تیلافر اس مزاحمت کا اہم ترین اڈہ تھا ۔  یہ وجہ ہے کہ تیلافر صرف ترکمینوں یا عراق کا داخلی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریہ ترکی کے لیے بھی حیاتی اہمیت کا حامل سلامتی کا مسئلہ ہے ۔



متعللقہ خبریں