پاکستان ڈائری - 26

احسن ایاز پشاور سے تعلق رکھتے ہیں ۔وہ اسکواش کے کم عمر ترین پلیر ہیں جو عالمی رینکنگ کے پہلے سو کھلاڑیوں میں شامل ہیں

پاکستان ڈائری - 26

پاکستان ڈائری - 26

پاکستان ڈائری میں اس بار پاکستان کے ابھرتے ہوئے اسکواش سٹار سے ملاقات ۔ احسن ایاز پشاور سے تعلق رکھتے ہیں ۔وہ اسکواش کے کم عمر ترین پلیر ہیں جو عالمی رینکنگ کے پہلے سو کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔2016 میں وہ پولینڈ میں ورلڈ جونئیر چمپئن شپ جیت کر آئے ہیں۔اب وہ مینز سکوائش چپمین شپ کو فوکس کررہے ہیں ۔

احسن 1998 میں پشاور میں پیدا ہوئے چار بہن بھائیوں میں وہ سب سے چھوٹے ہیں ۔والد سرکاری ملازمت کرتے ہیں والدہ ہاوس وائف ہیں ۔ فضائیہ سکول میں زیر تعلیم رہے۔میٹرک سائنس میں، ایف ایس سی پری انجینئرنگ اعلی نمبروں سے پاس کی ۔بی ایس سی میں انکے مضامین ڈبل میتھس اور کمپیوٹر ہیں۔

ٹی آر ٹی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے احسن ایاز نے بتایا کھیل اور پڑھائی دونوں ان کے لئے بہت اہم ہیں ۔ وہ دونوں کو ساتھ لئے کر چل رہے ہیں اور بہت محنت کررہے ہیں ۔وہ کہتے ہیں ان کو برطانیہ اور امریکہ سے سکالر شپ کی آفر آئیں ہیں اور وہ خواہش مند ہیں کہ ہاروڈ میں ڈگری مکمل کریں ۔ 

اپنے اسکواش کے کیرئیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے احسن ایاز کہتے ہیں گھر کے قریب اسکواش کورٹ بنے تھے میں پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا جب بھی وہاں سے گزرتا تو سوچتا کہ جہانگیر خان اور جان شیر خان کے بعد پاکستان میں کوئی بڑا کھلاڑی سامنے نہیں آیا ۔اس لئے میں نے اسکواش کی تربیت لینا شروع کی اور باقاعدگی سے کھیلنے لگا ۔

میں آٹھ سال سے اس فیلڈ کا حصہ ہوں۔میں اسٹڈیز اور اسکواش کو ساتھ مینج کررہا ہوں ۔میری فیملی اور اساتذہ مجھے بہت سپورٹ کررہے ہیں ۔روزانہ سات سے اٹھ گھنٹہ میں اسکواش کھیل رہا ہوں ۔اسلام آباد نیشنل اکیڈمی اور 8 ماہ امریکہ سے بھی ٹریننگ حاصل کی۔امتحانات میں سکوائش دو گھنٹے کھیلتا ہوں ۔

صبح 5 بجے اٹھ جاتا ہوں دو گھٹنے فزیکل ٹرینگ ہوتی ہے۔دس بجے کوچ کے ساتھ ٹریننگ اور تین سے پانچ دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ گیم ہوتا ہے ۔احسن کہتے ہیں کھلاڑی اپنے کھیل کے ساتھ ساتھ اپنی فٹنس اور کھانے پینے کا بھی خیال کرتے ہیں کاربوہائڈرٹس اور پروٹین زیادہ لیتے ہیں ۔فارغ وقت میں موویزدیکھناپسند کرتا ہوں لیکن وقت مشکل سےملتا ہے۔ 

احسن ایاز نے انڈر الیون میں 11 ٹائٹل جیتے۔انڈر تھرٹین میں 5 ٹائٹل اپنے نام کئے۔انڈر 15 میں بھی نیشنل چمپئن قرار پائے ۔احسن کہتے ہیں پہلا بین الاقوامی مقابلہ ملائشیا میں جیتا والد نے خود مجھے سپانسر کیا کوالمپور میں انڈر 17 کا ٹائٹل پاکستان کے نام کیا ۔

پندرہ سے سولہ ممالک میں جانے کے لئے میرے والد نے مجھے سپورٹ کیا میرے پاس کوئی سپانسر یا حکومتی سرپرستی نہیں تھی۔اب دو سال سے مجھے پی آئی اے سپانسر کررہا ہے ۔ائیر چیف مارشل  سہیل امان نے بھی اعزازی سند اور انعام سے نوازا۔

ورلڈ سئینر رینکنگ میں احسن ایاز 91 کی پوزیشن پر ہیں اور وہ اس پوزیشن پر سب سے کم عمر ہیں ۔احسن کہتے ہیں میرے بابا نے ایک ایک روپیہ جمع کرکے مجھے ملک سے باہر کھیلنے بھیجا میں آج جو ہوں انکی بدولت ہوں۔پی آئی اے نے اب مجھے سپانسر کیا ہے تو کھیلنے میں آسانی ہوگی ہے۔

باہر کے ممالک میں کھلاڑیوں کو بہت سی سہولیات میسر ہیں جن کا یہاں فقدان ہے۔ سپانسر نا ہونے کی وجہ سے بہت سا ٹیلنٹ ضائع ہوجاتا ہے ۔میڈیا بھی کوریج نہیں دیتا ان کا فوکس صرف کرکٹ ہے۔میڈیا کو اسکواش کو پروموٹ کرنا چاہیے۔

مجھے قوم اور میڈیا کا تعاون چاہئے میں انشاءاللہ جان شیر خان اور جہانگیر خان کی طرح ورلڈ مینز چپمین شپ جیتوں گا۔



متعللقہ خبریں