حالات کے آئینے میں 27

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین  کی طرح  کے بادشاہی نظام کے حامل   ملکوں کا ذرائع ابلاغ پر اثر رسوخ   ایک  ڈھکی چھپی بات نہیں

حالات کے آئینے میں 27

گزشتہ  کئی ماہ سے  مصر  کے جزائر تران اور صنافیر کو سعودی عرب کے حوالے کیے جانے کے معاملے پر  بحث ہو رہی ہے۔ جزائر کی منتقلی باغی لیڈر  الاسیسی  کے حامیوں  کے درمیان  بھی  بحث و تکرار کا موجب بنی ہے۔

یہ بات  انتہائی  عجیب  ہے کہ  مغربی  ملکوں  میں اس معاملے پر   کوئی  بھی  کالم  نہیں لکھا گیا اور نہ   ہی مشرق وسطی ٰ میں کسی  نے آواز بلند کی ہے۔ بحیرہ روم اور  مشرق وسطی  سمیت  پوری دنیا میں  وسیع  پیمانے کے اثرات پیدا کرنے والے تران اور صنافیر جزائر کو سعودی عرب   کے حوالے کیے جانے  کے معاملے   کا سنجیدہ   سطح پر کھوج لگایا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ معاملہ بلا شبہ   آئندہ کے دور میں توانائی کی منڈی   کا  سب سے زیادہ رقابت کا  موضوع بنے گا۔

یہ دو جزیرے خلیجِ عقابہ  کو  بحیرہ   احمر سے ملاتے ہیں،  جزیرہ نما سینا  اور تران کا فاصلہ 84٫3 سمندری میل ہے۔

گزشتہ  ہفتوں  کے دوران مصری صدر  عبدالفتح الا سیسی    کی جانب سے سعودی عرب  کے  کنٹرول میں دیے جانے والے تران اور  جزیرہ نما سینا  کے  درمیانی  سمندری راستے   کا نام  بین  الاقوامی لڑیچر میں"مصر کا داخلی راستہ"  تھا۔ جزائر کو سعودی عرب کے  حوالے  کیے  جانے کے  ساتھ ہی    مصر اس حیثیت سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ اب کے بعد  بحیرہ احمر   کے  داخلی اور خلیج عقابہ  کے  خارجی   راستے ایک نئی حیثیت  سے ہمکنار ہوئے ہیں۔  نئی کیفیت  اولین طور پر  خلیج کے کنارے واقع اور   مفادات کے منفی  لحاظ سے  متاثر  ہونے والے  تمام تر ملکوں  کے لیے نت نئے مسائل   پیدا کر سکتی ہے۔

کسی قسم  کی مالی قیمت موجود نہ ہونے والے،  جڑی  بوٹیوں کے بھی پیدا نہ ہونے والے اور نیچے  کسی بھی قسم کی  معدنیات موجود نہ ہونے والے   یہ دونوں جزائر آیا کہ کیونکر سعودی عرب کے حوالے کیے گئے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے   پر  ہی   کئی دوسرے سوالات  کالعدم بن سکتے ہیں۔

مذکورہ جزائر کی سعودی عرب کو حوالگی کے ساتھ ہی  خلیج  میں  داخلے کے راستے کو "بین الاقوامی  پانی کی گزرگاہ"  کی حیثیت مل گئی ہے۔ یعنی  تمام  تر ملکوں کے بحری جہاز خلیج عقابہ میں  بلا کسی پوچھ گچھ کے آجا سکیں گے۔اس طرح  خلیج   کے داخلی راستے  پر  مصر کی حاکمیت مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ یعنی   بلا کنٹرول کے   تمام تر بحری جہاز علاقے کا سفر کرنے کے اہل  ہوں گے۔

خلیج میں اسرائیل کی علیات بندر گاہ  واقع ہے جس کے  عین مخالف سمت آشدود    بندر گاہ ہے۔ اسرائیل،  بلا شبہ آشدود اور علیات بندر گاہوں کے درمیان   بچھائی جانے والی ریلوے لائن   کی بدولت  سویز   چینل  کے لیے ایک متبادل گزرگاہ بند جائیگا۔ جس کے نتیجے میں مصر ی معیشت ٹھیک معنوں میں   زوال پذیری  کا شکار   بن جائیگی۔

یہ بھی   واضح  ہے کہ  علیات بندر گاہ  بین  الاقوامی  حیثیت  حاصل کرتے ہوئے   ، علاقے کی بڑی ترین  تجارتی بندر گاہ بن جائیگی۔

سب سے اہم چیز یہ ہے    کہ اسرائیلی فوج  کے لیے بحیرہ  احمر کا راستہ مکمل طور پر کھل جائیگا۔اب اسرائیلی   جنگی بحری جہاز صومالیہ، یمن یا پھر  ساحل سمندر موجود ہونے والے  کسی بھی اسلامی مملکت  کے   کھلے سمندر  میں  لنگر ڈال سکیں گے   جس بنا پر آئندہ کے برسوں میں خطے میں بحران کی خبریں  اکثر و بیشتر  میڈیا  میں آئیں  گی۔

نئی حیثیت سے اسرائیل کو  یہ بھی  فائدہ پہنچے گا کہ اس کے لیے توانائی وسائل کے ترسیل کی ایک نئی راہ  کھل جائیگی۔

اس طرح روس اور خلیجی ملکوں  کی جانب سے  بحیرہ روم اور ترکی کے راستے قائم کیے جانے  کی منصوبہ بندی ہونے والی  توانائی کی راہداری   پر کاری ضرب لگے گی اور توانائی   کے وسائل پر  انحصار کرنے والی روسی معیشت  کو  بھی  سخت دھچکہ لگے گا۔

مصری صدر الا سیسی  کی   مذکورہ    جزائر کو فروخت کرنے  کی پالیسی کے خلاف   فوج اور  قانون کے  اداروں نے   سخت مزاحمت کا  مظاہرہ کیا۔ تا ہم  ،  الا سیسی  کی  قائم کردہ  پارلیمنٹ نے  اس معاہدے کی منظوری دے دی۔ جس  کے فوراً بعد اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔

تمام تر دنیا  کی دلچسپی   کے حامل  فروخت کے معاہدے کے بارے میں  عالمی ذرائع ابلاغ کی بے حسی   ناقابل سمجھ بات ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین  کی طرح  کے بادشاہی نظام کے حامل   ملکوں کا ذرائع ابلاغ پر اثر رسوخ   ایک  ڈھکی چھپی بات نہیں۔

ایک جانب  یہ  تمام  واقعات  رونما  ہو رہے ہیں تو دوسری جانب الجزیرہ  میڈیا ادارے کے مالک قطر  کو سنجیدہ سطح کی ناکہ بندی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا ہے اور اب اس کو اپنی جان کے لالے پڑے  ہوئے ہیں۔ سعودی  حکومت اور اس کے اتحادیوں  کی جانب سے" قطر کے ساتھ ڈائیلاگ کے لیے اولین شرط الجزیرہ کو بند کرنے " کی  شق کیا اب  ہماری  سمجھ میں آتی ہے؟

الجزیرہ مشرق وسطیٰ میں چلی جانےو الی  چالوں کوافشا کرتے ہوئے  عرب  رائے عامہ کو خبردار کر رہا تھا یہی وجہ ہے کہ  مذکورہ دولتوں   کا اولین    ہدف یہی نشریاتی ادارہ بنا ہے۔

متحدہ امریکہ کی جانب سے قطر  پر دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کی الزام تراشی کے محض 5 روز بعد ہی  اس ملک کو 10 ارب ڈالر کی مالیت کے اسلحہ کی فروخت  نے دنیا بھر کو ششدر کر کے رکھ دیا۔ امریکہ  شام میں پی وائے ڈی/وائے پی جی  دہشت گرد تنظیم کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کے بعد  دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ایک ملک کے ساتھ   تجارت کرنے  کے سوال کا موجب بنا ہے۔ لیکن  منظر عام پر آنے والی حقیقت کچھ یوں ہے،  قطر ،قطعی  طور پر دہشت گردوں کی مدد نہیں  کر رہا بلکہ  داعش  کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگ  کے معاملے میں  ترکی کے بعد  اس کا دوسرا نمبر  تھا۔

امریکہ  نے قطر  کو کئی ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کے بعد اس ملک کے دہشت گردی کی پشت پناہی نہ کرنے  کو جانا ہے، یہ واقع ایک  عجیب و غریب سفارتی حربے  کے طور پر تاریخ کے صفحات  پر درج   ہوا ہے۔ صنافیر اور تران جزائر کو  سعودی عرب کے حوالے کرنے کے بعد یورپی اور عالمی منڈی  تک   ترسیل کیے  جانے والے ایندھن  کی گزرگاہوں میں ایک نئی گزرگاہ کااضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے  ایک   ناجائز فعل  ہونے والے قبرصی یونانی انتظامیہ کے ہمراہ  بحیرہ روم میں  تیل اور گیس کی تلاش کے معاملے کا بھی اسی ضمن میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ہمارے خیال میں  امریکہ اور اسرائیل ، روسی کی توانائی کی ترسیل  کی  راہداری کے خلاف ایک   نئی  راہداری قائم کرنے کی  جستجو میں ہیں۔ ان کوششوں کے فورا ً بعد  روس کی جانب سے اسد قوتوں کے ایک  لڑاکا طیاروں کو گرائے جانے کو بہانے کے طور پر  پیش کرتے ہوئے  شامی فضائی حدود کو  اتحادی قوتوں کے طیاروں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے  جو کہ ایک نئی سرد ڈپلومیسی  لہر  پیدا ہونے کا موجب بنا ہے۔

انسانی ذہن میں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ  کیا قطر کا بحران  مصری جزائر کی سعودی عرب کو فروخت کو  پس پردہ رکھنے جانے کی آیا کہ ایک چال ہے؟   نہیں   ایسا  نہیں ہے کیونکہ  اس بحران کی  جزائر کے معاملے کے ساتھ ساتھ کئی ایک وجوہات  ہیں جن کو سمجھنے کی کوشش کرنا لازمی  ہے۔

 



متعللقہ خبریں