پاکستان ڈائری - 24

پاکستان میں روزہ داروں کی بھی کوشش ہے کہ وہ اپنے اردگرد مستحق افراد کو سحری اور افطاری کریں تاکہ تمام روزہ دار آسانی کے ساتھ روزہ رکھ سکیں  ۔پاکستانی یوتھ جو اس ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہیں

پاکستان ڈائری - 24

پاکستان ڈائری - 24

رمضان المبارک میں جتنی نیکیاں سمیٹ لی جائیں کم ہیں اس ماہ مبارک کوتمام مہینوں کا سردار کہا جاتا ہے۔ روزے رکھنا ، اللہ کی عبادت کرنے کے ساتھ خاص طور پر روزہ دار کو افطار کروانا افضل نیکیوں میں سے ایک ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رمضان میں روزہ دار کو افطار کراوئے گا تو وہ اس کے جہنم سے آزادی کا زریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار جتنا اجر ملے گا۔

پاکستان میں روزہ داروں کی بھی کوشش ہے کہ وہ اپنے اردگرد مستحق افراد کو سحری اور افطاری کریں تاکہ تمام روزہ دار آسانی کے ساتھ روزہ رکھ سکیں  ۔پاکستانی یوتھ جو اس ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہیں وہ اس کام میں آگے آگے ہیں اور وہ اپنے غریب و نادر بہن بھائیوں کے لئے روانہ کی بنیاد پر مفت سحری اور افطاری فراہم کررہے ہیں ۔اس کے لئے انہیں کسی این جی او یا سرکاری سرپرستی حاصل نہیں بلکے وہ اپنی مدد آپ کے تحت یہ دسترخوان سجاتے ہیں ۔

 ۔۔اسلام آباد میں این ڈی یو کے طالب علم علی قسور اور ان کے ساتھی طالب علم تیمور تنویر ، حمیرا اقبال اسلام آباد کے مختلف علاقوں میںغربا فقرا، محتاجوں اور مستحق افراد کے لئے انسان دوست دسترخوان سجا رہے ہیں ۔جہاں پر مزدور، راہ گیر اور استطاعت نا رکھنے والے افراد افطاری کرتے ہیں۔رمضان المبارک میں  انسان دوست دسترخوان کے لئے یہ نوجوان خود پیسے جمع کررہے ہیں جس میں انہیں ان کے خاندان اور دوستوں کی معاونت حاصل ہے ۔ علی قسور نے ٹی آر ٹی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہم نے یونیورسٹی میں ڈونیشن اکٹھا کیا جس میں ہماری فیملز نے بھی ہمیں سپورٹ کیا۔مینو ہم نے فکس نہیں رکھا ہماری کوشش ہے کہ افطاری میں پکوڑے،سموسے، کجھوریں،لال شربت اور ساتھ چاولوں کی دیگ ہو۔اور جو کوئی کچھ بنا کر لانا چاہیے ہم وہ بھی تقسیم کردیتے ہیں جس طرح سدرہ منیر صاحبہ افطار کر لیے ہوم میڈ کپ کیکس بنا کر لائیں ۔وہ کہتے ہیں دسترخوان پر تقریبا سو سے زائد افراد ہوتے ہیں ۔اسلام آباد  کے مزید افراد بھی اس دسترخوان کا حصہ بن سکتے ہیں وہ کھانا بنا کر لاسکتے ہیں یا خود آکر ڈونیشن  دے سکتے ہیں ۔جتنے رضاکار ہمارے ساتھ آئیں ہمیں خوشی ہوگی۔علی قسور کہتے ہیں لازمی نہیں کہ کسی بھی اچھے کام کا آغاز بڑے پیمانے پر کیا جائے ہم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر بہت کچھ بڑا کرسکتے ہیں ۔علی کہتے ہیں ہمارا فیس بک پر انسان دوست کے نام سے پیج ہے اور ہم پیج پر بتا دیتے ہیں کہ آج کس مقام پر افطاری کا اہتمام کیا جائے گا۔

https://www.facebook.com/Insandost786/

اسد علی لودھی پشاور کے نوجوان طالب علم ہیں اور پاکستان میں پہلی دیوار مہربانی انہوں نے بنائی۔وہ گزشتہ دو برس سے اپنی مدد آپ کے تحت مستحق افراد کے لئے سحری اور افطاری کا اہتمام کررہے ہیں ۔وہ اور ان کے ساتھی مومن میر، اکمل جاوید دیگر رضاکار  ہسپتالوں،  سڑکوں پر سوئے ہوئے افراد،مزدوروں،مریضوں کے ‍لواحیقین، گارڈز اور دیگر افراد کو کھانا مہیا کرتے ہیں ۔اسد علی نے ٹی آر ٹی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر تازہ بنا ہوا کھانا خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی انتظارگاہ،پی ڈی اے روڈ پر سوئے ہوئے افراد،حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظار گاہ میں بیٹھے لواحقین، ٹاون سپنگ جماعت،رنگ روڈ میں سحری تقسیم کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں تقریبا 700 سے زائد افراد کو سحری تقسیم کرنے کے بعد ہم روزہ رکھ کر جاب پر چلے جاتے ہیں اور اسکے بعد شام کی افطاری کی تیاری اور تقسیم میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں ہمیں فیملی دوستوں اور فیس بک پر اپنے پیج سرو مین کائینڈ کے ذریعے سے ڈونیشن ملتے ہیں ۔

https://www.facebook.com/ServeMankind/

اسد علی کہتے ہیں انشاءاللہ ہم پورے رمضان میں روزہ داروں کی خدمت کریں گے۔وہ کہتے ہیں ہم مینو تبدیل کرتے رہتے ہیں جس میں چنا میوہ پلاو،دیگ کے چاول،سالن،روٹی، کھجوریں، پانی شامل ہوتا ہے ہم تقسیم کرنے والا کھانا گھر پر تیار کرتے ہیں بلکل ویسا جیسا ہم کھاتے ہیں ۔

حدیث مبارکہ ہے کہ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کا پڑوسی بھوکا سویے۔اس لیے ہم سب کو پورا سال اور خاص طور پر رمضان میں کم آمدنی والے افراد کی مدد کرنی چاہیے۔یہ مدد کھانا کھلا کر نقدی دے کر اور راشن فراہم کرکے کی جاسکتی ہے۔اگر ہر انسان اپنے اردگرد ایک یا دو شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق کھانا کھلا دے تو کویی بھی شخص رات کو بھوکا نا سوئے 



متعللقہ خبریں