عالمی معیشت24

قطر پر سفارتی پابندیاں اور ترکی کا کردار

عالمی معیشت24

خلیجی  ممالک  میں کچھ عرصے سے ناچاقی کی فضا قائم ہے ۔ سعودی عرب کی  ایما  پر  مصر،متحدہ عرب امارات ،یمن،لیبیا اور بحرین نے 5 جون سے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیئے یہ صورت حال ایک پیچیدہ بحران  کا پیش خیمہ   لگتی ہے  جس کا دائرہ  متعلقہ ممالک سے باہر  نکل سکتا  ہے ۔ مذکورہ  6 ممالک نے    یکا یک  قطر  پر پابندیاں عائد کر دیں   جن کی دیکھا دیکھی اردن نے بھی قطر سے اپنے تعلقات    کی سطح کم کر دی  ، سینیگال  اور مالدیپ   نے بھی اپنے  روابط   ختم کر دیئے اور  مراکش نے  قطر کے ساتھ  اپنی پروازیں  بھی بند کر دیں۔ اسرائیل نے قطر پر پابندیوں   کی حوصلہ افزائی کی ہے  اور اس  کی کوشش ہے کہ وہ قطر کو اس دنیا  میں اکیلے پن  کا شکار کر دے۔ مگر  ایسا کیوں ہو رہا ہے؟  اور یہ تمام ممالک   اچانک ہی قطر کے خلاف محاذ کھڑا  کرنے کےلیے کیسے تیار ہو گئے اور  اس کے  پس پردہ  کیا مقاصد کر فرما ہیں۔

 قطر  نے گزشتہ 20 سال کے عرصے میں   شعبہ توانائی   میں سرمایہ کاری  کو  فروغ دیا  جس     کے ثمرات نے  خطے میں اس  کی حیثیت     کو مزید مستحکم بنا دیا  جس کے نتیجے میں اس کی معاشی ترقی  متحدہ عرب امارات سے  زیادہ بہتر  ہو گئی اور سیاسی  اعتبار سے وہ سعودی عرب سے  زیادہ فعال  ہو گیا ۔ اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ  قطر اور سعودی عرب کے درمیان یہ  تناو  سیاسی  نوعیت   کا نہیں  بلکہ معاشی  مقابلے بازی کا ہے کیونکہ گزشتہ  کافی عرصے سے تیل کی قیمتوں میں کمی   کی وجہ سے  سعودی معیشت   سست روی کا شکار ہے  کیونکہ اُس کی آمدنی کا کثیر حصہ  تیل کی برآمد  پر منحصر ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ    سعودی عرب نے  علاقے کے   چھوٹے سے مگر خوشحال ملک  قطر  کا انتخاب کیا  جو کہ  اوپیک کا بھی رکن ہے ۔ واضح رہے کہ قطر کا شمار قدرتی گیس کے ذخائر کے حوالے سے  دنیا میں  روس اور ایران کے بعدہوتا ہے جس کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کے نام  آتے ہیں۔ قطر اس وقت 24٫530 ارب مربع  میٹر گیس  کے ذخائر کا  حامل ہے  جس کی مجموعی آبادی  ڈھائی ملین  افراد پر مشتمل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی   اس دولت      کی کثیر تعداد دیگر ممالک  کو   برآمد کرتےہوئے زر مبادلہ کماتا ہے ۔ قطر اس وقت  گیس   کی پیداوار میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے   جس نے 20 سالہ  عرصے میں  اس شعبے سے وابستہ سرمایہ کاری میں بھی قابل قدر اضافہ ممکن بنایا ہے  علاوہ ازیں  تیل کی برآمدات میں بھی  اس کا شماردنیا کے  8 ویں ملک کے  طور پر  ہوتا ہے۔

 قطر    کی انہی  خاطر خواہ کوششوں کے نتیجے میں  اُس کی  فی کس آمدنی   بھی قابل ذکر ہے   جس نے   ایل این جی   کی برآمدات کےلیے پائپ لائنوں کے  بجائے  بحری ٹینکروں کا استعمال شروع کیا ۔

 قطر  کا نشریاتی ادارہ الجزیرہ   بھی  اس وقت دنیا میں  کافی مقبول ہو رہا ہے جس کی مدد سے قطر کی سیاسی بصیرت اور اس کا کردار کھل کر دنیا  کے سامنے پیش  ہوا۔

 دریں اثنا  قطر اور  ترکی کے قریبی تعلقات  کا اثر بھی  مختلف شعبوں  پر کافی نمایاں ہے  جن میں توانائی و  تعمیرات  قابل ذکر ہیں۔ قطر نے ترکی میں کافی سرمایہ  کار  ی کر رکھی ہے  جو کہ دیگر خلیجی ممالک کے سینے پر سانپ بن کر لوٹ رہا ہے۔

یہی وہ تمام وجوہات ہیں  جو کہ قطرکے خلاف   ایک محاذ کھڑا کر  رہی ہیں اور   یہ بھی  واضح ہے کہ  دنیا کی بعض بڑی طاقتیں  خلیجی ممالک کی مدد سے  قطر کے خلاف ایک سازش میں مصروف ہیں جن کا مقصد  خطے کی سیاسی صورت حال   کو تبدیل کرنا ہے۔ ظاہر ہو رہا ہے کہ  ان سامراجی طاقتوں   کا  اس وقت ہدف قطر ہے   جس کے بعد  ان کا رخ دیگر ممالک کی جانب  ہو جائے گا۔

 

 

 


ٹیگز: سفارت , ترکی , قطر

متعللقہ خبریں