پاکستان ڈائری - 21

سلمان رشید سے جو ٹریول رائٹر ہیں ۔وہ نو کتابوں کے مصنف ہیں ۔سلمان رشید رائل جیوگرافیکل سوسائیٹی کےممبر بھی ہیں

پاکستان ڈائری - 21

پاکستان ڈائری - 21

اس بار ترکی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے سلسلہ وار پروگرام  پاکستان ڈائری میں ملاقات کریں سلمان رشید سے جو ٹریول رائٹر ہیں ۔وہ نو کتابوں کے مصنف ہیں ۔سلمان رشید رائل جیوگرافیکل سوسائیٹی کےممبر بھی ہیں ۔

سلمان رشید ان 9 کتابوں کے مصنف ہیں ۔

The apricot road to yarkand. Jehlum city of vitasta ( 2005 )

 Sea monsters and the sun god  :Travels in Pakistan (2003)

Salt Range and potohar plateau (2001)

Prisoner on a bus: travel through Pakistan (1999)

Between two burrs on the Map: Travels in Northen Pakistan. (1995) 

Gujranwala:The glory that was(1992)

Rider's on the wind (1990)

Deosai land of the giant (2011)

 ۔وہ واحد پاکستانی رائٹر ہیں جنہوں نے کے ٹو کی طرف سفر کیا اور ٹریکنگ کے دوران سفرنامہ واقعات اور تاریخ رقم کی۔وہ آٹھ بک آف ڈیز کے بھی خالق ہیں ۔ وہ مضامین بھی لکھتے ہیں اور بلاگنگ بھی کرتے ہیں اور اپنے بلاگز میں اس خطے کی تاریخی اہمیت وقدیم عمارتوں اور ماحولیات کو زیر بحث لاتے ہیں ۔

سلمان رشید 1952 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی لاہور میں حاصل کی۔والد ریلوے میں انجینئر تھے ۔ان کی خواہش تھی کہ سلمان رشید بھی انجینئر بنیں ۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے متھس سے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔میں نے انجینرنگ سے بچنے کے لئے پہلے فوج میں شمولیت اختیار کی بعد ازاں چھ سال بعد فوج کو خیرباد کہا اور بعد میں کراچی کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کا آغاز کردیا۔

ٹرکش ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن کی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے سلمان رشید نے بتایا کہ سفر کرنے کا مجھے بہت شوق تھا اس ہی دوران مجھے لگا کہ مجھے لکھنا چاہیے۔1984کراچی سے لکھنا کا آغاز کیا پہلا مضمون رانی کوٹ قلعے پر لکھا۔طلعت رحیم پی ٹی ڈی سی میں ہوتی تھیں انہوں نے کہا آپ ہمارے رسالے فوکس آن پاکستان کے لئے لکھیں۔اس کے بعد سے سلسلہ چل پڑا پی آئی اے کے رسالے ہم سفر کے لئے بھی لکھا اس زمانے میں ہم سفر رسالہ بینکاک سے چھپتا تھا۔

اس کے بعد تو فل ٹائم رائیٹر کے طور پر کام کیا۔مجھے قدیم عمارتیں،پرانے کنوائیں، مونومنٹ، جنگلات وغیرہ دیکھنے کا بہت شوق تھا ۔میں چونکہ سفر کرتا تھا تو ساتھ ساتھ لکھنا شروع کیا ۔

1989 میں جب دوبارہ لاہور شفٹ ہوا تو سنگ میل پبلشرز کے بانی نیاز صاحب مرحوم نے کہا مجھے اپنا مسودہ دیں ۔میں نے کہا کون سے مسودہ ؟ انہوں نے کہا وہ جوتحریریں لکھ رہے ہو وہ سنبھال کر نہیں رکھی ۔میں نے کہا ایک فائل میں سب موجودہ ہیں ۔وہ فائل مجھ سے لے گئے اور کمپوزنگ کروائی اور کتاب چھاپ دی رایڈرز آف دی ونڈ ۔اس کے بعد گوجرانوالہ کے کمشنر نے مجھے کہا کہ میں شہر کے حوالے سے کتاب لکھو گوجرانوالہ دی گلوری دیٹ واز لکھی ۔

اس کے بعد مجھے جنون ہوگیا کہ میں قراقرم کا سفر کروں

 Between two burrs on the Map کتاب لکھی۔

دیوسائی لینڈ آف جائنٹ کتاب کے بارے میں سلمان رشید نے بتایا کہ یہ کتاب ایک بار جاکر نہیں لکھی گئی ہمالیہ وائلڈ لائف فاونڈیشن کے ساتھ ان کام دیکھنے گیا ۔پہلی بار 1997 میں گیا اسکے بعد 99 ، 2000 اور 2001 میں گیا ۔2004 میں یہ کتاب مکمل کی اور یہ کتاب چھپی 2011 میں ہے۔ندیم خاور پاکستان کے مایہ ناز فوٹوگرافر نے اس کتاب کی فوٹوگرافی کی۔اس کے لئے انہوں نے کئی ماہ لگائےوہاں پر گزرے۔ سلمان رشیدکہتےہیں اس وقت بھی وہ آنےوالی کتاب پرکام کررہےہیں ۔

وہ کہتے ہیں ہم نےماحولیاتی تبدیلیوں سے چشم پوشی اختیار کرلی ہے ۔ابھی پانی کی کمی ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس کی طرف ہم توجہ نہیں دے رہے۔زیر زمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے اور ہمارے گلئشریز بھی پگھل رہے ہیں ۔وہ کہتے ہیں ہم سب پانی ضائع کررہے ہیں گاڑی دھونے کے لئے کئ گیلن پانی ضائع کردیا جاتا ہے جبکہ گاڑی دو بالٹی پانی میں بھی دھل سکتی ہے۔

دوسرا کھیتوں جنگلات کو کاٹ کر نئی رہائشی سکیمز بنائی گئ دیگر تعمیراتی پراجیکٹ مکمل ہوئے۔اس کے بعد وہاں پر آسٹریلیا سے لیا گیا درخت سفیدہ لگا دیا گیا ۔ایک بڑا سفیدے کا درخت 24 گھنٹے میں سو لیٹر زیر زمین پانی پی لیتا ہے۔جب آندھی آتی ہے یہ درخت سب سے پہلے گر جاتا ہے۔موٹروے کے دونوں اطراف صرف سفیدہ لگا ہوا ہے ۔اسلام آباد کو بھئ بساتے وقت چائینہ سے لیا گیا پیپر ملبری کا درخت لگایا گیا جوکہ آج تک شہریوں کے لئے وبال جان ہے۔

وہ کہتے ہیں اونچے پل پر چلنے والی بس ٹرین اگر انڈر گراؤنڈ کی جاتی تو ماحولیات کو اتنانقصان نہیں پہنچتا ۔وہ کہتے ہیں ہمارے ماحولیاتی اور جنگلات کے اداروں نےنیا کام شروع کررکھا ہے کہ وہ درخت لگاو جو جلدی اگ جائے۔یہ طریقہ کار غلط ہے۔ہمیں صرف وہ درخت لگانے چاہیے جو ہمارے ماحول کے مطابق ہوں اور کارآمد ہوں ۔2000 کے اوائل میں کراچی میں پرانے پیپل املتاس کے درخت کاٹ کر کونوکارپس لگا دئے گئے۔یہ درخت مختلف الرجی پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔اسکو لگانے کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ جلدی درخت بن جاتا ہے۔کونوکارپس بھی ملبری کی طرح پاکستان میں سانس کی بیماریوں اور الرجی کو بڑھا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں ہمیں اس دھرتی کے درخت لگانے چاہیں جن میں برنا، املتاس، توت،سہنجناں جس کو انگریزی میں مورنگا میجک ٹری کہتے ہیں ، پیپل، بوڑھ، ٹالی لگانا چاہیے ۔پیپل ایک ایسا درخت ہے وہ رات کو بھی آکسیجن بناتا ہے اگر وہ لگایا جائے تو بہت اچھا ہے۔درخت کی جگہ درخت لگائیں چھوٹے پودے اور جھاڑیاں  نہیں ۔ہمیں اس دھرتی کا خیال رکھنا چاہیے۔

 



متعللقہ خبریں