پاکستان ڈائری - 03

ملتان کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والی شاہدہ رسول دیکھنے سے قاصر ہیں ۔پر پڑھنے کی لگن انہیں آگے سے آگے بڑھنے میں مدد دیتی رہی۔ ترقی کے زینے طے کرتی شاہدہ نے آج اردو ادب میں پی ایچ ڈی مکمل کر ڈالی۔انہیں پاکستان کی ہیلین کیلر کہا جارہا ہے

پاکستان ڈائری - 03

پاکستان ڈائری - 03

علم حاصل کرنے کا شوق ہو تو طالب علم کی راہ میں کوئی چیز روکاوٹ نہیں پیدا  کرسکتی ۔ملتان کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والی شاہدہ رسول دیکھنے سے قاصر ہیں ۔پر پڑھنے کی لگن انہیں آگے سے آگے بڑھنے میں مدد دیتی رہی۔ ترقی کے زینے طے کرتی شاہدہ نے آج اردو ادب میں پی ایچ ڈی مکمل کر ڈالی۔انہیں پاکستان کی ہیلین کیلر کہا جارہا ہے۔

شاہدہ رسول انیس سو بیاسی میں جلال پور پیر والا کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئیں ۔وہ پیدائشی طور پر نابینا نہیں تھیں ۔تین ماہ کی عمر میں ٹائیفائڈ کی وجہ سے انکا رینٹنا متاثر ہوا اور ان کی بینائی چلی گئ۔ شاہدہ رسول کہتی ہیں یہ میرے خاندان کے لئے ایک سانحہ تھا ۔پہلے تو انہیں سمجھ نہیں آیا کہ صورتحال کو کس طرح سے ڈیل کرنا ہے۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں بہترہوناشروع ہوگئ۔میرےتمام بہن بھائیوں کوسکول میں داخلہ کروایاگیا لیکن میں گھر پررہتی تھی ۔

لیکن میرے بہن بھائیوں کے احباب نے اس بات پر ضرور دیا کہ مجھے بھی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے ۔1991 نو سال کی عمر میں پہلی کلاس میں داخلہ لیا۔ محمد بن قاسم بلائنڈ ویلفیئر سکول ملتان میری پہلی درسگاہ تھی۔مجھے میں بھی پڑھنے کی خواہش تھی اور میرے اساتذہ نے بہت تعاون کیا ۔میرے بہن بھائی بھی جب اپنا سبق دہراتے تو میں بہت سی چیزیں یاد کرلیتی۔اس لئے مجھے سکول میں دشواری نہیں ہوئی ۔

میں نے ہر سال میں دو کلاسز پاس کئیں اس طرح میری عمر کا بھی گیپ فل ہوگیا۔اس کے ساتھ میں غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔تقریر کرنا، ڈراموں میں حصہ لینا، مضمون نویسی اور گلوکاری ہر چیز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اساتذہ کا پیار ان کی توجہ نے مجھے مزید نکھار دیا۔1998 میں میٹرک سوار حسین شہید سکول سے کیا ۔سکول میں ٹاپ کیا ۔ مڈل کے بعد میں نے تعلیم عام اداروں میں حاصل کی ۔

شاہدہ رسول کہتی ہیں کہ ایف اے اور بی اے گورنمنٹ ڈگری کالج ملتان سے کیا۔جو کہ اب یونیورسٹی بن چکا ہے۔ایف اے اسلامیات اختیاری اور عریبک لٹریچر میں کیا ۔بی اے تاریخ اور اردو ادب میں پڑھا ۔مسز نگہت افتخار نے مجھے حوصلہ دیا اور مجھے بہاو الدین زکریا یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں ۔پروفیسر انوار احمد نے خصوصی مدد کی ۔ایم اے میں براڈ کاسٹر رضا علی عابدی پر تحقیقی مقالہ لکھا اور پوزیشن حاصل کی ۔

شاہدہ رسول نے2008 میں ایم فل بھی بہاؤالدین یونیورسٹی سے کیا اور انکا تحقیقی مقالہ علامہ اقبال کا تصور کشف اپنے خطبات کی روشنی میں تھا ۔مقتدرہ قومی زبان سے یہ کتابی صورت میں شائع ہوا۔ شاہدہ رسول نے اسلام آباد کا رخ کیا درس و تدریس کا عمل آگے بڑھا ۔2009 مارگلہ کالج اسلام آباد میں پڑھنا شروع کیا اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا ارادہ کیا۔

شاہدہ کہتی ہیں مجھے اپنی استاد ڈاکٹر نجیبہ عارف کا بہت تعاون حاصل رہا۔ان کی دی ہوئی ہمت اور تعاون مجھے میرے مقصد میں کامیاب کرگیا ۔میں جاب بھی کررہی تھی اور پڑھ بھی رہی تھی حالات بہت مشکل تھے لیکن میرے اساتذہ معین الدین عقیل صاحب  اور  نجیہ عارف صاحبہ کی شفقت میری ہمت بڑھاتی رہی۔ان کا پی ایچ ڈی میں تحقیقاتی مقالہ پاکستان ٹیلی ویژن کے سلسلہ وار اردو ڈرامے نسوانی کرداروں کا تہذیبی و سماجی مطالعہ ہے۔

شاہدہ نے پی ایچ ڈی مکمل کی اور آج ملتان ویمن یونیورسٹی میں پڑھا رہی ہوں۔وہ کہتی ہیں کہ یہ سب میرے اساتذہ اور گھر والوں کے تعاون کا نتیجہ ہے ۔میرے لئے باعث افتخار ہے کہ میں آج اپنے اساتذہ کے ساتھ کام کررہی ہوں ۔انشا اللہ اب پوسٹ ڈاکٹریٹ کا ارادہ ہے ۔آگے بڑھنے میں رکاوٹیں آتی ہیں لیکن اگر ارادہ پختہ ہو تو انسان اپنی منزل کو پا لیتا ہے۔۔

 



متعللقہ خبریں