ترکی کے نقطہ نظر سے. 02

امریکہ کے نو منتخب  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کرسی صدارت پر بیٹھنے میں تقریباً دو ہفتے رہ گئے ہیں۔ جیسے جیسے عہدہ صدارت سنبھالنے کے دن قریب آ رہے ہیں دنیا میں دہشتگردی کی کاروائیوں  میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے

ترکی کے نقطہ نظر سے. 02

پروگرام "ترکی کے نقطہ نظر سے" کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ امریکہ کے نو منتخب  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کرسی صدارت پر بیٹھنے میں تقریباً دو ہفتے رہ گئے ہیں۔ جیسے جیسے عہدہ صدارت سنبھالنے کے دن قریب آ رہے ہیں دنیا میں دہشتگردی کی کاروائیوں  میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے نام مختلف ہیں لیکن ان کی کاروائیاں، ان کاروائیوں کے مقاصد  اور اہداف  ایک جیسے  ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خاص طور پر ترکی سمیت دنیا کے متعدد ممالک کی رائے عامہ میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ  دہشت گردی کو ایک ہی مرکز سے کنٹرول  کیا جا رہا  ہے۔

فرانس کے صدر فرانسووا اولاند نے جیسے ہی ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان  کے شام میں امن و امان کے قیام کے موقف  کا دفاع کیا تیسے ہی   فرانس خون کی جھیل میں تبدیل ہو گیا۔ فرانس سمیت ملک کے سیاحتی شہروں  میں دہشت گردی کے حملے ہونا شروع ہو گئے۔ بے شمار فرانسیسی شہری اور سیاح ہلاک کر دئیے گئے۔ان  دہشتگردی کی کاروائیوں کی وجہ سے فرانس میں ایک سال سے زائد عرصے سے "ہنگامی حالات"  نافذ ہیں۔

یہی نہیں بلکہ جمہوریت شخصی حقوق اور آزادیوں کے مرکز یعنی فرانس میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے لئے عدالتی نظام کو سیاسی ارادے کا تابع کر دیا گیا۔

اسی طرح جرمن چانسلر نے بھی جیسے ہی ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے امن و امان اور انسانوں کو مرکز نگاہ رکھنے والی شامی پالیسی  کے ساتھ تعاون کا رجحان ظاہر کیا تیسے  ہی جرمنی میں سنجیدہ سطح پر  دہشتگردی کے  حملے ہونا شروع ہو گئے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کی شامی عوام کے لئے امن اور آزادی پر مبنی پالیسی کی مغربی دنیا سے صرف اور صرف امرکہ کی موجودہ حکومت نے  واضح شکل میں مخالفت کی۔یورپی یونین کے متعدد ممالک نے بھی خاموش رہ کر صدر اوباما  خونی پالیسیوں کی حمایت کی۔ صدر اوباما  اور ان کے اسٹاف  نے اصرار کے ساتھ شام میں جھڑپوں کے جاری رہنے  کا مطالبہ کیا  اور حقیقی معنوں میں دنیا کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر اسے منوایا۔ امریکہ کا ازلی دشمن  دکھائی دینے والے ایران کی انتظامیہ کا اوباما پالیسیوں کا دفاع کرنا تاریخ کے مکروہ ترین تمسخر  ہے۔

شام کی زمینی سالمیت  کے لئے اور ملک میں فوری طور پر قیام امن کے لئے  کوششیں کرنے پر ترکی کے دہشت گرد تنظیموں کے ہدف پر ہونا بھی  مرکز توجہ بن رہا ہے۔

یعنی شام  کے لئے امن، آزادی اور جمہوریت کا مطالبہ کس قدر مشکل ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ترکی شام مرکز والی دہشت گرد تنظیموں PYD/PKK اور داعش کے براہ راست حملوں کی زد میں ہے۔

ان حملوں میں بیسیوں فوجی، پولیس اور شہری  شہید ہو گئے ہیں۔

مغربی کلب  کہ جس کا ترکی رکن ہے ان حملوں پر صرف اور صرف  احتجاج کر رہا ہے یا پھر  تعزیتی پیغامات بھیج رہا ہے۔ لیکن جب شام کی زمین  پر داعش کے خلاف ترکی کی شروع کردہ جنگ کی ہو تو  اس میں اسے تنہا چھوڑا جا رہا  ہے۔یہ صورتحال خاصی حد تک ڈرامائی اور  متضاد ہے۔ اصل میں ترکی کے اتحادیوں یعنی امریکہ، یورپی یونین اور نیٹو نے ترک فوجیوں کے شام میں دہشت گردوں کے خلاف  آپریشن شروع کرنے سے پہلے ہی ترکی کو تنہا چھاڑ دیا تھا۔ امریکہ اور دیگر ممالک ترکی میں لگائے گئے ائیر ڈیفنس سسٹم کو واپس لے گئے۔اتحادیوں کی طرف سے تنہا چھوڑے جانے کے باوجود ترکی نے شام میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ تقریباً 4 سالوں سے کولیشن فورسز داعش کے خلاف اپنے حملوں میں بالشت بھر کامیابی حاصل نہیں  کر سکیں۔ لیکن ترکی تقریباً 300 فوجیوں اور 15 ٹینکوں کے ساتھ داعش اور PYD پر حقیقی معنوں  میں جھاڑو پھیر رہا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ امریکہ کی زیر قیادت کولیشن سے نہ تو اسے فضائی تعاون مل رہا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ خبروں کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔

ترکی کے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابل ذکر کامیابی حاصل کرنے پر اچانک ملک کے اہم شہروں میں  PKK/PYD اور داعش کی طرف سے بم دھماکے کئے گئے۔فوجی، پولیس اور شہری کا فرق کئے بغیرسینکڑوں انسانوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

ہمیشہ کی طرح ترکی کے مغربی کلب کے ساجھے داروں اور حامیوں نے ان حملوں کی محض مذمت کرنے پر اکتفا کیا۔ بعض نے تو اپنے مذمتی  پیغامات میں PKK اور PYD کا نام تک استعمال نہیں کیا۔

استنبول میں نئے سال کے موقع پر ایک نائٹ کلب پر داعش کے حملے کے بعد مغربی دنیا کی طرف سے کافی چونکا دینے والے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ مغرب کی  ڈیفنس شیلڈ یعنی نیٹو نے پرچموںکو سرنگوں کر کے ترکی کے سوگ میں شرکت کا اعلان کیا۔

یہ نہایت چونکا دینے والی صورتحال تھی کیونکہ PKK اور داعش کی طرف سے سینکڑوں ترک فوجی شہید کئے گئے لیکن نیٹو نے ایسے ردعمل کا کبھی اظہار نہیں کیا۔اصل میں ترک فوجیوں کی شہادت پر سوگ کا اعلان ضروری تھا کیونکہ ترک فوجی ترکی کے ساتھ ساتھ نیٹو کے بھی فوجی ہیں۔ نیٹو نے اپنے فوجیوں کے لئے سوگ نہیں منایالیکن نئے سال کے موقع پر ہلاک کئے جانے والے شہریوں کے لئے سوگ کا اعلان کیا۔

نیتو کا یہ طرز عمل بہت واضح ہے۔ سینکڑوں فوجیوں کی شہادت پر سوگ نہ منانے والانیٹو اپنے طرز زندگی میں مداخلت کے خیال سے فوراً سوگ کا اعلان کرتا ہے اور پرچموں کو سرنگوں کردیتا ہے۔

نیٹو کا یہ طرزعمل حتمی طور پر سیاسی ہے نیٹو ہلاکتوں اور ہلاک ہونے والوں کے درمیان سیاسی انتخاب کرتا ہے۔ اس روّیے کو نرم ترین الفاظ میں بھی بیان کیا جائے تو صرف بدصورتی اور بد اخلاقی کہا جا سکتا ہے۔



متعللقہ خبریں