ترکی یوریشیا ایجنڈہ ۔01

پبلک ڈپلومیسی سن 2000 کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کے ایک اہم  تصورات میں شامل ہوئی اور خارجہ پالیسی کا ایک اہم ہتھیار بن گئی

ترکی یوریشیا ایجنڈہ ۔01

پروگرام "ترکی یوریشیا ایجنڈہ" میں اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے محقق جمیل دوعاچ ایپک  کے تجزئیے کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ پبلک ڈپلومیسی سن 2000 کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کے ایک اہم  تصورات میں شامل ہوئی اور خارجہ پالیسی کا ایک اہم ہتھیار بن گئی۔ آج ہم بھی ترکمانستان کے لئے اور  وسطی ایشیا کے لئے ترکی کی پبلک ڈپلومیسی  کاروائیوں کا جائزہ لیں گے۔

وسطی ایشیاء کی ترک جمہوریتوں  کے آزادی حاصل کرنے نے بلاشبہ ترک خارجہ پالیسی  میں بھی  ایک نئی جہت کا اضافہ کیا۔ مشترکہ زبان، تاریخ اور ثقافت  کے حامل ہونے کی وجہ سے ان ممالک کے  ساتھ ترکی کے تعلقات اور تعاون میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ علاقے سے متعلق ترکی کی عمومی پالیسی کا خلاصہ اس طرح پیش کر سکتے ہیں کہ یہ پالیسی وسطی ایشیاء کے آزاد اور خود مختار ممالک  کے ساتھ اور ہمسایہ ممالک تعاون کی حالت میں ہے۔ بین الاقوامی برادری کے ساتھ ہم آہنگی   اور  جمہوری اقدار کی حامل حکومتوں  کے ساتھ معاونت کی خصوصیات کی حامل ہے۔ ترکی اپنی اس خارجہ پالیسی کے ساتھ علاقائی ممالک کے اہم ساجھے دار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ترکی زبان بولنے والے ممالک کے درمیان تعاون و اتحاد کے فروغ کے لئے سال 1992 میں ترکی کی زیر قیادت "ترکی زبان بولنے والے ممالک  کے سربراہی اجلاس " کے نام سے سربراہی اجلاس کے انعقاد کا آغاز کیا گیا۔  اپنے آغاز سے لے کر اب تک جاری اس اجلاس کے اہم ترین نتائج میں سے ایک سال 2009 میں ترکی، آذربائیجان، قزاقستان اور کرغستان کی شرکت سے قائم کی جانے والی  " ترکی زبان بولنے والے ممالک  کی تعاون کونسل" ہے۔ استنبول میں مرکز دفتر  کے ساتھ  کونسل عالم ترک کے درمیان تعاون  کے اداراتی شکل اختیار کرنے میں اہم کردار کی حامل ہے ۔ کونسل میں ترکمانستان نے مستقل غیر جانبدار حکومت  کی وجہ سے اور ازبکستان  سیاسی وجوہات کے باعث رکن  کی حیثیت سے شریک نہیں  ہوئے۔

ترکی کی علاقے کے لئے پبلک ڈپلومیسی کاروائیاں ثقافت، تعلیم ، ذرائع ابلاغ  اور ترقی  کے شعبوں میں مدد کے ساتھ جاری ہیں۔ اس حوالے سے اٹھائے جانے والے ابتدائی اقدامات میں سے ایک ترک فن وثقافت، زبان وادب  اور  تاریخی ورثے کےتحفظ ، دنیا کو ان اقدار سے متعارف کروانے اور انہیں آنے والی نسلوں میں منتقل کرنے کے مقصد کے ساتھ سال 1993 میں بین الاقوامی ترک ثقافتی کمیٹی TURKSOY کا قیام ہے۔ ترکی، آذربائیجان، قزاقستان، کرغستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے ساتھ ساتھ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ روسی فیڈریشن سے منسلک 6 خودمختار جمہورتیں اور مولدووا  سے منسلک گاگاوز  خودمختار جمہوریت  مبصر ملک کی حیثیت سے TURKSOY کے رکن ہیں ۔ یہ صورتحال  TURKSOY کو ترک زبان بولنے والے ممالک اور معاشروں کے ایک وسیع ادارے کی شکل دیتی ہے۔ TURKSOY رکن ممالک اور مبصر رکن ممالک کی خارجہ وزارتوں کی مدد سے اپنی کاروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور کثیر الجہتی تعاون  اور دو طرفہ پبلک ڈپلومیسی  کے حوالے سے ایک مثالی ادارہ ہے۔

علاقائی سرگرمیوں میں تعلیم کو خاص اہمیت دینے کی وجہ سے ترکی نے "گرینڈ اسٹوڈنٹ پروجیکٹ " کے ساتھ ترک جمہوریتوں سے سینکڑوں طالبہ و طالبات کو مدعو کیا ہے۔ اس وقت بیرون ملک مقیم ترکوں اور ترک معاشروں کی ڈائریکٹریٹ طرف سے "ترکی کے وضائف" کے نام سے ایک وسیع وظیفہ پروگرام  چلایا جا رہا ہے۔اس پروگرام میں "ترکی زبان بولنے والے ممالک کے لئے وظائف پروگرام" کے دائرہ کار میں ہر سال بیسیوں نئے طالبعلموں کو ترکی کی یونیورسٹیوں میں داخلے دئیے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں  ترکی کو عام کرنے کے لئے ترکی کی پبلک ڈپلومیسی کے ایک اہم ہتھیار کی شکل اختیار کرنے والے یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ کا وسطی ایشیاء کاواحد مرکز  آستانہ میں کاروائیوں کا جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس انسٹیٹیوٹ کے کرغستان میں اور ترکمانستان میں چار چار  اور قزاقستان اور ازبکستان میں ایک ایک تعلیمی ادارہ ہے اور یہ ادارے ترکی کی وزارت تعلیم سے منسلک ہیں۔

ترکی کی ترکستان اور وسطی ایشیاء کے لئے پبلک ڈپلومیسی کاروائیاں صرف یہیں تک محدود نہیں ہیں  بلکہ اس معاملے میں ترکی کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے TRT ،  اقتصادی ترقیاتی ادارے TIKA، پریس اور اینفارمیشن کی ڈائریکٹریٹ جنرل بھی اس سلسلے میں نہایت سنجیدہ سطح کی کاروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جن سے  ہم آنے والے پروگراموں میں  آپ کو متعارف کروائیں گے۔



متعللقہ خبریں