ناسا کا "جدید افق" پروگرام نظام شمسی کے قریب پہنچ گیا

ناسا کا خلائی مشن"  نیو ہورائزن"  یعنی" افق جدید " نظام شمسی کے انتہائی بیرونی کنارے پر موجود الٹیما تھُولی کے انتہائی قریب سے تصاویر لیتے ہوئے مزید آگے بڑھ گیا ہے

ناسا کا "جدید افق" پروگرام  نظام شمسی کے قریب پہنچ گیا

ناسا کا خلائی مشن"  نیو ہورائزن"  یعنی" افق جدید " نظام شمسی کے انتہائی بیرونی کنارے پر موجود الٹیما تھُولی کے انتہائی قریب سے تصاویر لیتے ہوئے مزید آگے بڑھ گیا ہے۔

برف کی دو چٹانوں پر مشتمل یہ خلائی چٹان زمین سے قریب ساڑھے چھ ارب کلومیٹر دور ہے۔ الٹیما تھُولی کے پاس سے گزرتے ہوئے"افق جدید " کا اس خلائی چٹان سے قریب ترین فاصلہ صرف 2200 میل کا تھا۔

سن 2015ء میں  افق جدید  ہی نے  سیارے پلوٹو کی تصاویر لی تھیں تاہم، الٹیما تھُولی سے نیوہورائزن کا قُرب پلوٹو کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کوئپربیلٹ اس لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ سورج سے بہت زیادہ فاصلہ ہونے کی وجہ سے یہاں موجود خلائی سیاروں نے اربوں سال قبل کے اصل حالات کو محفوظ کر رکھا ہے۔

نیوہورائزن ساڑھے اکیاون ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے یعنی یہ خلائی مشن روزانہ کی بنیاد پر تقریبا ً 10 لاکھ  میل کا فاصلہ طے کر لیتا ہے۔

واضح رہے کہ الٹمیا تھُولی کو ہبل نامی  خلائی دوربین نے سن 2014ء میں دریافت کیا تھا۔ 



متعللقہ خبریں