جاپان میں بچوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ

جاپان کی وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق، ان کے ملک میں بچوں میں خود سوزیوں  کی شرح 30  سالوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے

جاپان میں بچوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ

جاپان کی وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق، ان کے ملک میں بچوں میں خود سوزیوں  کی شرح 30  سالوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔

بتایا گیا ہے کہ  2016 اور 2017 کے مالی سال کے دوران اسکول جانے والے تقریباً 250 بچوں نے خودکشی کی۔

 یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے ۔

ان بچوں نے خاندانی مسائل، مستقبل کی فکر اور اسکول میں ہراساں کیے جانے کی شکایت کی تھی تاہم ،متعلقہ اسکولوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے 140 بچے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان لینے سے پہلے کوئی  رقعہ  نہیں چھوڑا اس لیے ان کی خودکشی کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

خودکشی کرنے والے زیادہ تر بچے ہائی سکول میں تھے۔

جاپان میں عموماً بچے اٹھارہ سال کی عمر تک اسکول جاتے ہیں۔

جاپان میں 2017 میں 21000 ہزار لوگوں نے خودکشی کی جو کہ 2003 کی 34500 خودکشیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

جاپان کے وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ طالب علموں کی خودکشی کی شرح زیادہ ہے جو کہ فکر کی بات ہے اور اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔

 



متعللقہ خبریں