چین کی "فلائنگ ٹیکسی" جلد ہی دبئی کے بعد سعودی عرب کی فضاوں میں اڑتی نظر آئے گی

فلائنگ ٹیکسی بنانے والی چینی کمپنی نے کہا ہے کہ پہلی ڈرون ٹیکسی سال 2018 میں دبئی میں چلائی جائے گی جس کے بعد سعودی عرب میں بھی اسے چلانے کا معاہدہ کیا جائے گا

چین کی "فلائنگ ٹیکسی" جلد ہی دبئی کے بعد سعودی عرب کی فضاوں میں اڑتی نظر آئے گی

فلائنگ ٹیکسی بنانے والی چینی کمپنی نے کہا ہے کہ پہلی ڈرون ٹیکسی سال 2018 میں دبئی میں چلائی جائے گی جس کے بعد سعودی عرب میں بھی اسے چلانے کا معاہدہ کیا جائے گا۔

خبر کے مطابق، چینی کمپنی ای ہینگ نے دبئی کے بعد اب سعودی عرب میں فلائنگ ٹیکسی چلانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

کمپنی نے فلائنگ ٹیکسی کا تصور پیش کرتے ہوئے ایسا ڈرون تیار کیا جس کے کاک پٹ میں ایک شخص سوار ہو کر ب آسانی پرواز کے ذریعے اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔

 کمپنی اب اس منصوبے پر کام کر رہی ہے کہ ڈرون ٹیکسی کو فروغ دے کر دنیا بھر میں باقاعدہ ایک نیٹ ورک قائم کیا جائے۔

اس وقت کمپنی کا تیار کردہ ڈرون ای 184 صرف ایک شخص کو پرواز کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم کمپنی کام کر رہی ہے کہ تعداد دو مسافروں تک پہنچ جائے۔

 یہ ڈرون مکمل طور پر خودکار ہے جس میں پرواز سے قبل اپنی منزل کا روٹ طے کر دیا جاتا ہے اور ڈرون مسافر کو مطلوبہ جگہ کسی ہیلی کاپٹر کی مانند ٹیک آف کرا دیتا ہے۔

ای 184 ڈرون 100 کلومیٹر ( 62 میل) فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے۔ یہ ہوا میں 25 منٹ تک ساکت رہ سکتا ہے۔ ای ہینگ کمپنی کی جانب سے اس کی پرواز کا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔

 



متعللقہ خبریں