غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی

جمعرات کو یہاں وزارت خزانہ میں اینکر پرسنز کے ساتھ ایک نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضمنی فنانس بل میں 90 فیصد اقدامات ملکی برآمدات، کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر مبنی ہوں گے

غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی

سعودی   عرب    کے ولی عہد  پرنس  محمد  بن  سلمان کے آئندہ ماہ  دورہ پاکستان  کے دوران  دونوں ممالک کے درمیان    دس بلین ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کرنے سے متعلق  ایک سمجھوتے  پر  دستخط  کیے جائیں گے۔

اس بارے میں پاکستان کے وزیر خزانہ  اسد عمر نے   اینکرز پرسنز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے برآمدات و ترسیلات زر میں اضافے اور درآمدات میں کمی کے ساتھ ساتھ متبادل مالی انتظامات کے ذریعے جاری خسارے پر قابو پا لیا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاہم کسی اچھے پروگرام پر ہی اس کے ساتھ معاہدہ ہو گا، کم آمدنی والے طبقہ کے لئے بجلی اور گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے پانچ ماہ کے دوران گزشتہ دو ادوار کی نسبت مہنگائی کی شرح کم رہی ہے۔

جمعرات کو یہاں وزارت خزانہ میں اینکر پرسنز کے ساتھ ایک نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضمنی فنانس بل میں 90 فیصد اقدامات ملکی برآمدات، کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر مبنی ہوں گے۔ یہ فیصلہ کاروباری برادری کے اعتماد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کا بھی مو¿قف ہے کہ جون تک انتظار کرنے کی بجائے ابھی سے کچھ اقدامات کر لئے جائیں جن میں سے بعض فوری نوعیت کے ہوں گے جبکہ دیگر کا اطلاق جولائی سے ہو گا۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری حکومت نے برآمدات اور ترسیلات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی پر توجہ مرکوز کی ہے جس کے نتیجہ میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کاروبار کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جولائی تا دسمبر 2018ءکے دوران نجی شعبہ کے قرضوں میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پورے سال میں اس اضافہ کی شرح 21 فیصد رہی، یہ اضافہ 13 سال میں تیز ترین ہے جو کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نے افراط زر کے حوالہ سے پاکستان پیپلز پارٹی (2008ئ)، پاکستان مسلم لیگ (ن) (2013ئ) اور پاکستان تحریک انصاف (2018ئ) کی حکومتوں کے پہلے 5 ماہ کا موازنہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے پہلے ماہ مارچ 2008ءمیں سی پی آئی پر مبنی افراط زر کی شرح 14.1 فیصد تھی جو اگست 2008ءمیں 25.3 فیصد تک پہنچ گئی، اس طرح پیپلز پارٹی کی حکومت کے پہلے پانچ ماہ میں افراط زر کی شرح میں 11.2 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پہلے ماہ مئی 2013ءمیں افراط زر کی شرح 5.1 فیصد تھی جو اکتوبر 2013ءمیں 9.1 فیصد ہو گئی، اس طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پہلے پانچ ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں 4.0 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے ماہ جولائی 2018ءمیں افراط زر کی شرح 5.8 فیصد تھی جو دسمبر 2018ءمیں 6.2 فیصد رہی، اس طرح پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے پانچ ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں 0.4 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خزانہ نے مختلف آمدنی والے طبقات کیلئے مہنگائی کے تناسب کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے غریب ترین طبقات کیلئے مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی جبکہ صاحب استطاعت طبقہ کیلئے مہنگائی کی شرح نسبتاً زیادہ رہی۔ اس سلسلہ میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ غریب ترین طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017ءمیں 4.03 فیصد تھی جو دسمبر 2018ءمیں کم ہو کر 3.18 فیصد رہی۔ 20 ہزار سے 40 ہزار روپے تک کی آمدنی والے طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017ءمیں 4.11 فیصد تھی جو دسمبر 2018ءمیں 3.79 فیصد ہو گئی۔ 41 ہزار سے 60 ہزار روپے تک ماہانہ آمدنی والے طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017ءمیں 4.14 فیصد تھی جو دسمبر 2018ءمیں 4.23 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح 61 ہزار سے 80 ہزار تک کی آمدنی والے طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017ءمیں 4.23 فیصد تھی جو دسمبر 2018ءمیں 5.90 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح زیادہ آمدنی والے طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017ءمیں 4.98 فیصد تھی جو دسمبر 2018ءمیں 8.06 فیصد ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عام آدمی کو متاثر کرنے والا کوئی اقدام نہیں کیا ہے، افراط زر کے ان اعداد و شمار سے واضح ہو رہا ہے کہ غریب اور کم آمدنی والے طبقات کیلئے مہنگائی میں کمی لائی گئی ہے جبکہ پچھلی حکومت میں تمام طبقات کیلئے یکساں مہنگائی بڑھائی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے جتنے بھی ٹیکس لگائے ہیں وہ صاحب استطاعت افراد کی آمدنی، ان کے زیر استعمال اشیاءپر براہ راست لگائے گئے ہیں، اسی طرح بجلی کی قیمتیں بھی 70 فیصد گھریلو اور 95 فیصد کمرشل صارفین کیلئے نہیں بڑھائی گئیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2017-18ءمیں ملکی قرضوں میں 2.4 کھرب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ جولائی تا نومبر 2018ءکے دوران پانچ ماہ کے عرصہ میں تقریباً ایک کھرب روپے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جب آئی ایم ایف کی جانب سے اچھا پروگرام ملے گا تو معاہدہ کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان فنڈز کے متبادل انتظام میں کامیاب رہے ہیں، اب ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر پروگرام کیلئے بات چیت کا وقت مل گیا ہے، موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر انتظامات پر بھی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، ملک کے معاشی مسائل کے حل کے لئے جو اقدامات ضروری ہیں، وہ ہم کر رہے ہیں۔ دوست ممالک سے مالی پیکج کے حصول کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کی جانب سے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئی ہیں، سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے، ہماری حکومت پہلی سول حکومت ہے جو آئی ایم ایف سے ہٹ کر اتنے بڑے پیمانے پر مالی انتظام کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، آئی ایم ایف کے بغیر گزارا ممکن ہے تاہم ملکی معیشت کی ضروریات کے پیش نظر مختلف آپشنز کا موازنہ کرتے ہوئے انہیں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ سابق دور میں معیشت کے حوالے سے حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کی گئی جس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ سال بجلی و گیس کے شعبے کے نقصانات کو بجٹ خسارہ میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔



متعللقہ خبریں