امریکہ، وفاقی حکومت کا جزوی طور پر شٹ ڈاون

کانگرس اور وائٹ ہاؤس بجٹ امور پر تنازعات کی بنا پر وفاقی سرکاری ادارے 22 دسمبر کی شب سے مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے سے اپنے امور کو روکنے پر مجبور ہو گئے

امریکہ، وفاقی حکومت کا جزوی طور پر شٹ ڈاون

متحدہ امریکہ کی وفاقی حکومت کا  ، میکسیکو  کی سرحدوں پر تعمیر کی جانے والی دیوار کی مالی اعانت کی بنا پر رونما ہونے والے بحران  کے باعث امسال تیسری بار جزوی اور عاضی طور پر  شٹ ڈاؤن ہو گیا  ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی  جانب سے میکسیکو دیوار کے لیے  ضروری اخراجات کو شامل نہ  کیےگئے   عبوری بجٹ  بل  پر دستخط نہ کرنے  پر اٹل  رہنے  کے باعث پیدا ہونے والا بحران ڈیموکریٹ پارٹی ممبران اسمبلی کے پیچھے قدم نہ ہٹانے کے بعد فیڈرل حکومت کی جزوی طور پر بندش ہو گئی ہے۔

کانگرس اور وائٹ ہاؤس بجٹ امور پر تنازعات کی بنا پر وفاقی سرکاری ادارے 22 دسمبر کی شب سے مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے سے اپنے امور کو روکنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

کسی نئے بجٹ کے نافذ العمل ہونے تک بند رہنے والے   متعلقہ سرکاری اداروں کے لاکھوں ملازمین اس دورانیہ میں بلا اجرت کے کام کریں گے یا پھر مجبوراً چھٹی کریں گے۔

دوسری جانب امریکی  وزارتیں برائے دفاع، صحت ،   پبلک امور اور تعلیم  یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے نئے مالی سال بھر کے دوران ان کے لیے مختص کردہ 854 ارب ڈالر کے بجٹ کے ماہ ستمبر میں قانونی حیثیت حاصل کرنے کی بنا پر اس بندش سے متاثر نہیں ہوں گی۔

یا د رہے کہ وفاقی حکومت انہی وجوہات کی بنا پر اس سے قبل دو بار  جزوی طور پر بندش کی شکار ہو چکی ہے۔

یہ عمل درآمد 20  تا 23 جنوری اور 9 فروری کو چند گھنٹوں تک جاری رہا تھا۔

اس ملک کی تاریخی میں ایسا 21 بار ہو چکا ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں