اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد قائم، ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ، حکومتی جماعت بھی میدان میں

اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور معاشی امور پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے بعد تحریک انصاف بھی میدان میں

اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد قائم، ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ، حکومتی جماعت بھی میدان میں

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر ایوان کے اندر اور باہر دباؤ بڑھانے کے لیے مشترکہ کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ کمیٹی حکومت سے بات کرے گی۔

اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور معاشی امور پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ جس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شہباز شریف، رانا تنویر، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور سینیٹر پرویز رشید، پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، خورشید شاہ، نوید قمر اور شیری رحمان، ایم ایم اے کے مولانا اسعد محمود اور مولانا واسع جب کہ اے این پی کے امیرحیدر ہوتی شریک ہوئے۔

 سابق صدر آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد قائم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے واک آؤٹ دباؤ کا حربہ ہے تاکہ این آر او لیا جا سکے۔ اس معاملہ پر اپوزیشن نے بھرپور ردعمل دیا ہے۔

منگل کا دن پارلیمنٹ ہاؤس میں ہنگامہ خیز رہا اور دن بھر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے۔ دن کا آغاز وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹ سے ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے واک آؤٹ دباؤ کا حربہ ہے تاکہ این آر او لیا جا سکے۔ اپوزیشن دباؤ بڑھا کر نیب میں کرپشن کیسز میں احتساب سے بچنا چاہتی ہے۔

وزیراعظم کے اس بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ نے کہا کہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔ ہم انہیں وزیراعظم تسلیم کرتے ہیں۔ ہم پارلیمنٹ آتے ہیں، بائیکاٹ کرتے ہیں۔ لیکن میں عمران خان سے پوچھتا ہوں آپ کیوں نہیں آتے

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے بعد تحریک انصاف بھی میدان میں آگئی، وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی ارکان کا اہم اجلاس آج طلب کرلیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سیاسی صورت حال اور اپوزیشن اتحاد پر حکومتی حکمت عملی طے کی جائے گی، معیشت اور منی بجٹ کے معاملات پر اراکین کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

 

 

 



متعللقہ خبریں