پاکستان اور آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ مذاکرات جاری، پاکستان کی 6 سے 7 ارب ڈالر کے قرضےکی درخواست

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ آج پاور سیکٹر کا ڈیٹا شیئر کیا جائے گا جس میں ہونے والے نقصانات اور وصولیوں سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ مذاکرات جاری، پاکستان کی  6 سے 7  ارب ڈالر کے قرضےکی درخواست

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے دو ہفتوں کے دورے پر ہے جس کے دوران پہلے مرحلے میں تکنیکی سطح کے مذاکرات ہو رہے ہیں، مذاکرات میں آئی ایم ایف کے ساتھ معیشت کے مختلف شعبوں کا ڈیٹا شیئر کیا جا رہا ہے۔

وفد سے وزارت خزانہ کے مذاکرات کا پہلا دورمکمل ہوگیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے وزارت خزانہ حکام کے ساتھ مذاکرات کیے ، آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی سطح پر مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔  ذرائع کے مطابق پاکستان قرض کی مالیت سے متعلق حتمی تخمینہ مذاکرات کے آخر میں پیش کریگا۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 20 نومبر تک جاری رہیں گے ۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے ضروری ہوم ورک مکمل کرکے رپورٹ تیار کرلی ہے جو گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ آئی ایم ایف کے وفد کوپیش کردی گئی ہے۔ پاکستانی حکام گردشی قرضوں اور سبسڈی میں کمی کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق آئی ایم ایف کے وفد کو بریفنگ دے گا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ وزارت خزانہ ، ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام مذاکرات میں شریک ہیں۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ آج پاور سیکٹر کا ڈیٹا شیئر کیا جائے گا جس میں ہونے والے نقصانات اور وصولیوں سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے 6 سے 7 ارب ڈالر تک مالی ضروریات کی درخواست کر سکتا ہے،  پالیسی سطح کے مذاکرات میں سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور گورنر اسٹیٹ بینک شریک ہوں گے۔



متعللقہ خبریں